نصرت جاوید

  • طالبان کی پنجابیوں سے نفرت

    اس کالم کے باقاعدہ قاری جانتے ہیں کہ امریکی افواج کی افغانستان سے ذلت آمیز روانگی سے قبل میں دہائی مچانا شروع ہوگیا تھا کہ ’’فاتح‘‘ کی حیثیت میں کابل لوٹے طالبان پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کریں گے۔ اپنی بات سمجھانے کے لئے تفصیل کے ساتھ چند ذاتی تجربات کا ذکر بھی � [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت کی کوئی بہتر صورت نصیب ہونے کا امکان

    نیا سال مبارک ہو۔ سب کا بھلا سب کی خیر مانگتے ہوئے بھی لیکن مجھے اس سال حالات بہتر ہونے کی زیادہ امید نہیں ہے۔ عالمی معیشت کے نگہبان ادارے کے ساتھ ہم ایک پروگرام میں بندھ چکے ہیں۔ مقصداس پروگرام کا ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچالینے کے بعد استحکام و خوشحالی کی راہ پر ڈالنا ہے [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اداس نسلیں:خان دیدہ ور ،ٹرمپ مسیحا

    عبداللہ حسین شاعر نہیں تھے۔ ان کا طرزِ زندگی بھی بنیادی طورپر ’’کلرکوں‘‘ والا تھا۔ ایک سیمنٹ فیکٹری میں نوکری کرتے تھے جو ادبی مراکز سے بہت دور میاں والی کے نواحی علاقے داؤدخیل میں قائم ہوئی تھی۔ دنیا سے تقریباََ کٹے اور فطرتاََ تنہائی پسند عبداللہ حسین نے مگر اپ [..]مزید پڑھیں

  • "مقتدرہ” کی "حکومتی بندوبست” کی جانب پیش رفت

    نظر بظاہر رواں ہفتے کا آغاز ہوتے ہی تحریک انصاف اور شہباز حکومت کے مابین مذاکرات شروع ہوجائیں گے۔ حکومت نے ان مذاکرات کے لئے جو کمیٹی بنائی ہے اس میں اپنے حلیفوں کو بھی شامل کیا ہے۔ حتیٰ کہ پیپلز پارٹی جو حکومتی اتحاد کا حصہ نہیں، اس کے نمائندے بھی مذاکرات میں موجود ہوں گے۔ � [..]مزید پڑھیں

  • ٹرمپ بھی پاکستان کا ہرگز دوست نہیں

    جمعرات کی صبح چھپے کالم میں عاجزی سے آپ کو خبردار کرنے کی کوشش کی تھی کہ فی الوقت اس بحث میں وقت ضائع نہ کریں کہ 20جنوری 2025 کے بعد اقتدار سنبھالنے والی ’’ٹرمپ انتظامیہ‘‘ پاکستان کے ساتھ کیا رویہ اپنائے گی۔ غور طلب حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ تاریخ تک فیصلہ سازی ’’با [..]مزید پڑھیں

  • سفر لمبا ہے، فقط رچرڈ گرنیل پر خوش نہ ہوں

    پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں’’ا نفرادی آزادی‘‘ کا تصور مغرب کی غلامی کے دوران ابھرا۔ یہ تصور بھی تاہم مقامی اشرافیہ کے ان لوگوں تک محدود رہا جو سامراجی حکمرانی کی معاونت کرتے ہوئے ان کی نقالی میں خوشحال زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ ہمارے ہاں اگرچہ ایک ایسا دور ب� [..]مزید پڑھیں

  • کمال کو پہنچی مصنوعی ذہانت کی اوقات

    عمر کے آخری حصے میں پہنچ کر آپ یقیناً نئی چیزیں سیکھنے کے قابل نہیں رہتے۔ ”آتش“ نوجوانی سے ادھیڑ عمری میں داخل ہوتے ہوئے بھی تھوڑی کوشش کے باوجود اردو میں ٹائپ کرنے کے قابل نہ ہوپایا۔ آج بھی ہاتھ سے لکھ کر ٹائپ ہونے بھجواتا ہوں۔ کالم ٹائپ ہوجائے تو واٹس ایپ کے ذریعے اس کی ن [..]مزید پڑھیں