نصرت جاوید

  • ایران امریکہ مقابلہ

    سالانہ بجٹ کی آمد کے قریب پہنچتے ہوئے دونمبر صحافت کے ذریعے رزق کمانے کا عادی ہوا یہ قلم گھسیٹ بہت خوش تھا کہ کم از کم آئندہ دو ہفتوں تک اس کالم میں سیاپا فروشی کے ذریعے اپنی ہٹی پہ رونق لگاؤں گا۔ گزشتہ مالیاتی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اورنگزیب صاحب نے قومی خزانے � [..]مزید پڑھیں

  • بجٹ پر اتفاقِ رائے کا امکان

    ٹھوس دلائل کے انبار لگادینے کے باوجود کم از کم میں بے ہنر اپنے قارئین اور ناظرین کی بے پناہ اکثریت کو اپنے اس دعویٰ پر اعتبار کرنے کو مائل نہیں کرپایا کہ حال ہی میں گلگت - بلتستان کی اسمبلی کے لئے ہوئے انتخابات  نسبتاً آزاد اور منصفانہ تھے۔ سرکار مائی باپ نے محض تحریک انصاف کو [..]مزید پڑھیں

  • محدود ہوتی مکالمے کی گنجائش

    رواں صدی کے آغاز میں روس سے کینیڈا منتقل ہوئے آندرے میر نامی صحافی نے برسوں کی تحقیق کے بعد اخبار کی موت کا اعلان کردیا تو مجھے بہت دُکھ ہوا۔ 2024کے برس کو اس نے ا خبار کی موت کا سال ٹھہرایا تھا۔ میری خوش بختی کہ 2026کے جون میں صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ آندرے مگر ڈھیٹ ہڈی کا حا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • گلگت بلتستان کا انتخابی عمل: محض ایک رسم

    صحافتی زندگی میں پہلا انتخابی عمل میں نے 1984 میں بھارت جاکر رپورٹ کیا تھا۔ وہ قبل از وقت انتخاب تھے اور وجہ اس کی اندرا گاندھی کا قتل تھا۔ دلی میں صرف ایک شخص سے شناسائی تھی۔ کلدیپ نیئر ان کا نام تھا۔ آبائی تعلق ان کا سیالکوٹ سے تھا۔ وہ بھارت کے مشہور صحافی تھے اور اسلام آباد [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کے ساتھ نرمی!

    ملکی اور بین الاقوامی سیاست کے تین سے زیادہ دہائیوں تک پاکستان اور بیرون ملک ہوئے انتخابات، جنگوں اور حساس معاملات پر مذاکرات کے بطوررپورٹر عملی مشاہدے کے باوجود میں کئی اہم معاملات کے بارے میں بچگانہ سادگی سے سوچتا ہوں۔ یہ سوچ اہم عہدوں پر فائز افراد کے سامنے رکھوں تو میرا [..]مزید پڑھیں

  • کیا لکھنا؟

    بہت کوشش کے باوجود اس کالم نگار کا نام یاد نہیں کرپارہا۔ کاہلی کی نحوست مسلط نہ ہوچکی ہوتی تو انکل گوگل کو زحمت دے کر نام معلوم کیا جاسکتا تھا۔ یہ سوچ کر مگر کوشش نہ کی کہ نام میں کیا رکھا ہے۔ اصل بات جو بتانا ہے وہ یہ ہے کہ موصوف برطانیہ سے شائع ہونے والے گارجین اخبار کے بہت دھان� [..]مزید پڑھیں

  • دو نمبری دانشوری کے ڈرامے رچانے سے میری اکتاہٹ

    لفظوں کو کالم کی ریڑھی میں رکھ کر دیہاڑی لگاتے مجھ جیسے قلم گھسیٹ دوستوں کی محفل میں بیٹھتے ہیں تو نہایت رعونت سے گلہ کرتے ہیں کہ لوگ پڑھتے نہیں ہیں۔ انٹرنیٹ نے ان کی توجہ کا دورانیہ مختصر بنادیا ہے۔ روزمرہّ زندگی ویسے بھی بہت دشوار ہوچکی ہے۔ لوگوں کے پاس فرصت نہیں کہ ہماری نسل [..]مزید پڑھیں

  • امریکہ ایران مْک مْکا یا جنگ کا اگلا راؤنڈ؟

    خود کو عقل کل تصور کرتے مجھ جیسے پاٹے خان صحافیوں کو دیانتداری سے اعتراف کرلینا چاہیے کہ دورِ حاضر میں ہر ملک کی حکمران اشرافیہ نے انہیں ’’شودر‘‘ بنادیا ہے۔ فیصلہ ساز حلقوں تک ان کی رسائی ویسی نہیں رہی جو رواں صدی کے آغاز تک معمول تصور ہوا کرتی تھی۔ وجہ اس کی یہ تھ [..]مزید پڑھیں