ارشد بٹ ایڈووکیٹ

  • ایس سی او کے بعد سارک کانفرنس کیوں نہیں

    جنوبی ایشیاعلاقائی  تعاون ایسوسی ایشن، سارک، کی بنیاد ڈھاکہ میں ۱۹۸۵ کو رکھی گئی تھی۔ سارک رکن ممالک  میں پاکستان، انڈیا،  بنگلہ دیش، افغانستان، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان شامل ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام چین کے شہر شنگھائی میں  جون ۲۰۰۱ ک [..]مزید پڑھیں

  • جناح سے عمران تک مائنس ون کا تسلسل

    قائد اعظم محمدعلی جناح کو مائنس کرکے لیاقت علی خان بااختیار وزیر اعظم بننے کی جستجو میں راولپنڈی کی جلسہ گاہ میں مائنس کر دئے گئے۔  پھر بتدریج  سفید و خاکی افسر شاہی کے سرغنوں  غلام محمد، اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کی ٹرائیکا نے ملکی اقتدار پر غلبہ حاصل کر لیا۔ بال� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • فیض حمید پروڈکشن فیکٹری بند کی جائے

    جمہوریت دشمن سازشوں کا جال  بچھانے والی مخلوق  کا کوئی ایک نام اور روپ نہیں ہوتا۔  یہ کردارکبھی جنرل فیض حمید کا  روپ دھار لیتا ہے تو کبھی جنرل حمید گل کا۔ عوام دشمن کرداروں کے سرغنہ  کبھی جنرل پاشا، کبھی جنرل ظہیرالاسلام  اور کبھی برگیڈئر امتیاز بلا کی مکروہ صور [..]مزید پڑھیں

  • ماؤں کی محبت میں جنگجو ریاستی بیانئے بہہ گئے

    آج وارث شاہ، پنجاب کی دوماؤں کی زبانوں میں بول اٹھا ہے۔ امرتا پریتم کےپنجاب میں نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم کی ماؤں نے امن، محبت اور بھائی چارے کی نئی داستان رقم کر دی ہے۔ آج ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ پنجابیوں کے دلوں میں بابافرید اور گرو نانک کا انسانیت اور امن کا پیغام  زن [..]مزید پڑھیں

  • بنگلہ دیش پر ہائیبرڈ سسٹم کے سائے

    خونی  فوجی بغاوتیں اور دو فوجی آمرانہ حکومتیں بنگلہ دیش کی باون سالہ تاریخ کا المیہ  باب ہے۔  بنگلہ دیش کے پہلے صدر اور بانی یعنی فادر آف دی نیشن شیخ مجیب الرحمن، ان کی اہلیہ  اور  دیگر اہل خانہ کو اگست ۱۹۷۵ میں  فوجی  بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔&nbs [..]مزید پڑھیں

  • آئین کے ساتھ کھلواڑ کب تک

    حکومت ہو یا عدلیہ، سفید و خاکی اسٹبلشمنٹ ہو یاسیاستدان، قانون دان ہوں یا اہل علم و دانش ، ہر کوئی  آئین و قانون کی حکمرانی  کے گیت گاتاسنائی دیتا ہے۔ مگر  یہ حقیقت اپنی جگہ  کہ  آئین و قانون کی  حکمرانی تسلیم کرنے کو  کوئی تیار نہیں ہے۔  سب کو آئین کی روح [..]مزید پڑھیں

  • پنجاب کی آئرن لیڈی وزیر اعلیٰ مریم نواز!

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز ایک  محنتی، متحرک اور موثر وزیر اعلیٰ ہونے کا تاثر بنانا چاہتی ہیں۔ روزمرہ زندگی میں عوام کو درپیش مسائل کا  فوری حل، مہنگائی پر کنٹرول، روزگار کی فراہمی، نوجوانوں، خواتین اور عوامی بہبود کے نئے منصوبے شروع کرنا ان کی ترجیحات میں شامل نظر آتے � [..]مزید پڑھیں