وسعت اللہ خان

  • ایسے اتحاد کسی پر چڑھ دوڑنے کے لیے نہیں ہوتے

    ’کسی ایک اتحادی پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور ہوگا‘۔ یہ شق ناٹو کے میثاق میں بھی آرٹیکل پانچ کے نام سے انیس سو انچاس سے موجود ہے۔ تاہم چالیس سالہ سرد جنگ سے آج تک یہ شق متحرک کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ چھ رکنی خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی ) انیس سو بیاسی سے فعال ہے۔ جی سی [..]مزید پڑھیں

  • کتابوں کی آخری ہچکی

    اگر میں کہوں کہ جس کے پاس کتابوں کا جتنا بھی ذخیرہ ہے، سنبھال کر رکھ لے۔ چند برس میں ہی وہ وقت آنے والا ہے جب بیشتر لوگ کتابیں ڈھونڈتے پھریں گے اور انہیں اکثر کتابوں کی ایک جلد بھی نہ ملے گی۔ جنہوں نے اپنا ذخیرہ محفوظ کر لیا ہوگا، وہ فخریہ انداز میں باقی لوگوں کو للچائیں گے کہ � [..]مزید پڑھیں

  • انکل انکل اگلی لاٹھی کب مارو گے؟

    جنتر منتر نے نئی نسل کے ماتھے سے یہ داغ شاید دھو ڈالا ہے کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں۔ اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں ، نہ پڑھتے لکھتے ہیں ، نہ دیکھتے سنتے ہیں ، سوشل میڈیا کے ان اسیروں کو کیا معلوم سیاسی جدوجہد کیا بلا ہوتی ہے۔ نظریہ کس پرندے کا نام ہے اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کی قیمت کیا ہ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بادشاہ کی پوشاک جنتر منتر میں

    دو ہزار چودہ میں نریندر مودی کی انتخابی کامیابی میں جہاں اڈانی و امبانی کے سرمائے نے کلیدی کردار ادا کیا وہیں پہلی بار آر ایس ایس اور بی جے پی نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا مہارت سے استعمال کرتے ہوئے اپنا پیغام موبائل فون کے ذریعے گھر گھر پہنچایا اور ٹیکنالوجی کے سبب ایک ہی وقت میں ک� [..]مزید پڑھیں

  • انڈین ’کاکروچ‘ ہم سے ہی کچھ سیکھ لیں

    کاکروچ جنتا پارٹی کی مانگیں بالکل منصفانہ ہیں۔ لاکھوں بچوں کے مستقبل کا انحصار انٹری ٹیسٹ میں کامیابی یا ناکامی سے جڑا ہے۔ اگر امتحانی پرچہ افشا ہو کے گلی گلی بکنے لگے اور پھر پورا امتحان ہی منسوخ ہو جائے تو ایک 15، 16، 17 برس کے بچے پر کیا بیتتی ہے۔ یہ وہی جانتا ہے یا پھر خون پسی� [..]مزید پڑھیں

  • نسل کشی سے پہلے یادداشت کشی

    بھارت میں سرکاری و نصابی تاریخ بدلنے کا کام لگ بھگ پایہِ تکمیل تک پہنچ گیا ہے۔ مغل دور نصاب سے چلتا کر دیا گیا ہے۔ ٹیپو سلطان اب آزادی کے ہیرو نہیں رہے۔ بیسیوں چھوٹے بڑے قصبوں اور یادگاروں کے نام بدل دیے گئے ۔ ( یہ سب کام ہم بہت پہلے کر چکے مگر بھارت اس میدان میں پاکستان کو بھی تی [..]مزید پڑھیں

  • بلوچستان میں بھی محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے

    قائم مقام صدرِ پاکستان اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو کو اختیارات سنبھالے بمشکل دو ماہ گزرے ہوں گے کہ فروری 1972 میں چارسدہ، نوشہرہ، پشاور، لاہور، لائل پور (فیصل آباد)، ساہیوال، حیدرآباد سے یکے بعد دیگرے خبریں آنے لگیں کہ پولیس نے ناکافی تنخواہوں اور سہولیات می� [..]مزید پڑھیں

  • بھارت ، اسرائیل ، شیوا جی اور دھریندر

    جب سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے مسلح شبخون کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد اسرائیلی و غیر ملکی شہری ہلاک ہوئے تو نیتن یاہو کی میز پر اظہارِ یکجہتی کا پہلا پیغام واشنگٹن یا یورپ سے نہیں بلکہ نریندر مودی کی جانب سے آیا: ’اس دہشت گرد کارروائی سے شدید صدمہ پ [..]مزید پڑھیں

  • کوئی اور ایپسٹین کہیں بیٹھا وہی کچھ کر رہا ہو گا

    اسرائیل سے امریکا کی محبت کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چالیس روزہ لڑائی میں اسرائیل نے ایرانی میزائل روکنے کے لیے ایک سو نوے ایرو اور ڈیوڈ سلنگ انٹرسیپٹرز استعمال کیے جب کہ امریکا نے اسرائیل کے دفاع کے لیے دو سو سے زائد تھڈ میزائل جھونک دئیے یعنی اپنے تھڈ زخیرے کا پچاس [..]مزید پڑھیں

  • ہم نے عزت تو خوب کما لی، پیسے کب کمائیں گے؟

    آج حالت یوں ہے کہ پاکستان سال بھر میں جوڑ توڑ کے جو کماتا ہے اس کا 43 فیصد سود میں چلا جاتا ہے۔ باقی دفاع، انتظامی اخراجات اور اشرافی مراعات پر صرف ہو جاتا ہے۔ پھر بھی ان مدوں میں خرچ ہونے سے کچھ سکے پوٹلی میں بچ جائیں تو اس پوٹلی کو ترقیاتی بجٹ کا نام دے کر ارکانِ اسمبلی کی جانب اچ [..]مزید پڑھیں