وسعت اللہ خان

  • پانی سے نہیں تو پیاس سے مرو گے

    کم ازکم تین عشرے قبل ماحولیاتی ماہرین نے چیخ چیخ کر گلا بٹھانا شروع کیا کہ ہم موسم کے رتھ پر سوار تیزی سے میدانِ حشر کی جانب رواں ہیں تو ہم نے کہا یہ سائنسداں تو ہوتے ہی پاگل ہیں۔ انہیں دھمکانے کے سوا کوئی کام نہیں آتا۔ جب پانچ برس پہلے پہلی خبر آئی کہ انٹارکٹیکا میں درجہِ حر [..]مزید پڑھیں

  • کشمیر کی کتر کانٹ چھانٹ جاری و ساری ہے

    گزرے بدھ وار مقبوضہ جموں و کشمیر کے الیکشن کمشنر ہردیش کمار نے ریاست کا مسلم اکثریتی تشخص مرحلہ وار مٹانے کے تین برس سے جاری ہندوتوائی منصوبے کے تھیلے سے ایک اور بلی یہ کہہ کے چھوڑ دی کہ اگلے برس کے آغاز میں ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں وہ تمام ہندوستانی بھی ووٹ ڈال س [..]مزید پڑھیں

  • اب میں بھی وائس چانسلر بن سکتا ہوں

    سندھ کے وزیرِ اعلیٰ کو ارسال کردہ ایک سمری میں سفارش کی گئی ہے کہ صوبے میں کسی بھی سرکاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری کے لیے پی ایچ ڈی اور پندرہ تحقیقی مقالات کی پیشگی اشاعتی شرط ختم کر دی جائے۔ ساتھ ہی یہ سفارش بھی کی گئی  ہے کہ ہر وہ شخص اس آسامی کے لئے درخواست دینے کا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بلقیس بانو کو ملنے والا انوکھا انصاف

    بھارتی پینل کوڈ کے مطابق عمر قید بھگتنے والے مجرموں کو حق ہے کہ وہ کم ازکم چودہ برس جیل میں گزارنے کے بعد باقی مدت کی معافی سے متعلق اعلیٰ عدالت کو درخواست دے سکیں۔ عدالت عموماً ایسی درخواستوں پر فیصلہ ریاستی حکومتوں کے تشکیل کردہ نظرِ ثانی بورڈ پر چھوڑ دیتی ہے اور بورڈ مجرم ک [..]مزید پڑھیں

  • گورے اور کالے کے درمیان جھولتی آزادی

    پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر وفاقی وزارتِ خزانہ نے پچھتر برس میں ہونے والی ترقی کا معلوماتی جائزہ جاری کیا ہے۔ پہلے اس کے اہم نکات اور پھر آگے کی بات۔ رپورٹ کے مطابق تقسیم سے قبل متحدہ ہندوستان میں نو سو اکیس صنعتی یونٹ تھے ان میں سے پاکستان کو چونتیس کارخانے ملے۔ انیس س [..]مزید پڑھیں

  • سفر درپیش ہے اک بے مسافت

    پاکستان کی گولڈن جوبلی (1997) کے موقع پر ایک ادبی رپورٹر نے معروف شاعر جمال احسانی سے پوچھا کہ کیا آپ پاکستان کا کل اور آج ایک جملے میں بتا سکتے ہیں؟ جمال نے کہا، ”پیارے صاحب جتنی سرتوڑ کوشش ہم نے اس عرصے میں خود کو پسماندہ رکھنے کے لیے کی اس سے آدھی میں ہم ترقی یافتہ بھی ہو سکت� [..]مزید پڑھیں

  • جب مصیبت گھر دیکھ لے تو…

    کہتے ہیں مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی مگر پاکستان کا معاملہ بالکل وکھرا ہے۔ آزادی کے پچھترویں برس میں بھی یہ ملک ہر اعتبار سے منیر نیازی کے اس شعر کی تفسیر ہے کہ: اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا کہنے کو اس ملک میں ستر ہزار دوائیں رج� [..]مزید پڑھیں

  • آ چین مجھے مار

    ہو سکتا ہے اس وقت مغرب کو روس یوکرین مچاٹے سے پوری تشفی نہ مل رہی ہو اور اسے ایک اضافی بحران کی فوری ضرورت پڑ گئی ہو۔ چنانچہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے تائیوان میں قدم رکھ کے یہ کمی پوری کر دی۔ ایک طرف امریکہ، برطانیہ اور نیٹو مستقبل کے لیے چین کو اپنا دشمن [..]مزید پڑھیں

  • ایک عام سے اہم آدمی کا قصہ

    کئی برس پہلے جب میں ان سے پہلی بار حیدرآباد پریس کلب میں اتفاقاً ملا تو ان کی محبت اًمیز گفتگو مجھے لگاوٹ آمیز لگی۔درمیانہ سا قد ، بھرے بھرے کلے ، مائل بہ موٹاپا جسم ، گہری سانولی رنگت ، کٹیلی چمک دار سیاہ مونچھیں۔ میں نے ظاہری شخصیت دیکھ کر دل ہی دل میں اندازہ لگایا کہ یا تو یہ [..]مزید پڑھیں

  • سیلاب کو سیاسی ہوتے دیر نہیں لگتی

    رفتہ رفتہ تباہ کاری کی کتاب ورق در ورق کھلتی جا رہی ہے۔ آخری پنے تک پہنچتے پہنچتے جانے املاکی و جانی و مواصلاتی تباہی کی کیا تصویر بنے۔ آثار یہی بتا رہے ہیں کہ دو ہزار دس کے بعد آنے والا یہ سب سے ظالم مون سون ہے۔ تب خیبر پختون خوا، پنجاب اور سندھ بری طرح زد میں آئے تھے۔ اب پہلے س� [..]مزید پڑھیں