وسعت اللہ خان

  • امبر کو چھونے چلا میرا بلوچستان

    تین مشہور جاپانی بندروں کی کہانی تو آپ نے سنی ہو گی۔ نہیں سنی تو تصویر ضرور دیکھی ہو گی۔ ایک بندر نے منہ پر، دوسرے نے کانوں پر اور تیسرے نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔ یعنی نہ بُرا کہو، نہ بُرا سنو، نہ بُرا دیکھو۔ جب بھی میں کوئی ملی نغمہ سنتا یا دیکھتا ہوں تو مجھے یہ تین� [..]مزید پڑھیں

  • مرگ فروشوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں

    لگتا تھا کہ کوویڈ کے دو برس پر پھیلے تباہ کن معاشی و انسانی اثرات نے کم ازکم کچھ عرصے کے لیے انسان کو انسان کا بچہ بنا دیا ہے۔مگر ایسا ممکن نہیں۔ اعلیٰ ترین طاقتور کرسیوں پر جو فیصلہ ساز قابض ہیں وہ تاریخ میں کسی بھی طرح سے اپنا نام کندہ کرانے کی ہوس میں ہر پست حربے کو اعلیٰ قوم� [..]مزید پڑھیں

  • یقینی عید کے بعد کی بے یقینی

    مسجد نبوی کے واقعے پر ہر کس و ناکس اپنی اپنی مذمتی و غیر مذمتی رائے دے رہا ہے۔ مگر تحریک لبیک اور مولانا فضل الرحمان نے اگر کوئی ردعمل دیا بھی ہے تو وہ دیگر بیانات کے بوجھ تلے کہیں دب دبا گیا۔ حالانکہ ماضی قریب میں اس سے کم سنگین واقعات پر ہم نے دونوں کو آسمان سر پہ اٹھاتے دیکھا ہ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • یہاں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے

    اگر آپ آج بھی کسی قصبے میں پرانے چائے خانے، حجامت مرکز، دودھ دہی، کریانے یا دھوبی کی دوکان پر چلے جائیں تو شاید آپ کو کسی دیوار پر لکھا مل جائے کہ یہاں فضول بیٹھ کر اپنا وقت ضائع کرنا یا سیاسی گفتگو منع ہے۔ غالباً ان دوکانوں پر اس طرح کی ہدایات مارشل لائی حکومتوں کے خوف سے نمود� [..]مزید پڑھیں

  • روس یوکرین جھگڑا اور میر تقی میر

    جنگ تو روس اور یوکرین کے درمیان جاری ہے مگر ہزاروں میل پرے گنی بساو کی حکومت محاذِ جنگ سے آنے والی خبروں پر کیوں ہاتھ مل رہی ہے؟ توپیں تو مشرقی یوکرین کے علاقے لوہانسک میں گرج رہی ہیں مگر کراچی میں آٹے کی دکان پر پانچ کلو تھیلے کی قیمت میں ایک ہی رات میں بیس روپے کے اضافے پر گاہ� [..]مزید پڑھیں

  • یہ کون ہیں، کہاں سے اترے ہیں؟

    اس ملک کے عام دماغوں کو مکمل بانجھیانے کا جو منصوبہ 1977 میں شروع کیا گیا تھا وہ توقع سے زیادہ کامیاب رہا اور اب چہار سمت ’جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے‘۔ ہر شے جواز و معنی و مقام بدل چکی ہے۔ جو جتنا بونا ہے اتنا ہی قد آور ہے، جتنا پڑھا لکھا ہے اتنا ہی گلیارا ہے، جتنا جاہل � [..]مزید پڑھیں

  • پہلے اندر سے تو آزاد ہو جائیں

    دو ہزار انیس میں جب دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے احاطے میں سیکڑوں طلبا کئی دن تک ’ ہم لے کے رہیں گے آزادی ‘ کا نعرہ لگا رہے تھے تو مودی سرکار نے یہ سوال اٹھایا کہ آخر کس سے آزادی مانگ رہے ہو ؟ انگریز تو سینتالیس میں چلے گئے۔اس پر طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار نے کہا ک� [..]مزید پڑھیں

  • ڈجیٹل صورِ قیامت کلک ہو چکا ہے

    وہ جو کہتے ہیں کہ جب سچ بال سنوار کر باہر نکلنے کے لیے تیار ہو رہا ہوتا ہے، تب تک جھوٹ کرہِ ارض کے تین چکر لگا کے سو چکا ہوتا ہے۔کہا تو یہ کئی عشروں پہلے گیا تھا مگر اس کہے کی حقیقت اب کہیں جا کے کھل رہی ہے۔ کہنے کو جھوٹ کی دو قسمیں ہیں۔سادہ جھوٹ اور سفید جھوٹ۔لیکن اب تیسری قسم نے [..]مزید پڑھیں

  • اعتماد سے آنا قبول ہے تو جانا کیوں نہیں؟

    پہلی بار ریاستِ مدینہ میں ہی یہ بتایا گیا تھا کہ ’بولو کہ پہچانے جاؤ‘۔ یہ قولِ علی بھی وہیں سنا گیا تھا کہ ’آدمی زبان تلے پوشیدہ ہے‘۔ یا ’خاموشی عالم کا زیور اور جاہل کا پردہ ہے۔‘ اور پھر بیسیوں نصیحتیں ہمارے مشرقی ڈی این اے کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ مثلاً ’پہلے [..]مزید پڑھیں

  • یوکرین کے افغانستان اور گورے مجاہدین کا قصہ

    ذرا چار دہائی پہلے کے افغانستان کو یاد کریں۔ سوویت فوجیں قابض ہیں۔مجاہدین کو امریکی سی آئی اے ، مصری و سعودی انٹیلی جینس اور آئی ایس آئی کے تعاون سے ہر طرح کے ہتھیاروں سے مسلح کیا جا رہا ہے۔ ان ہتھیاروں میں اسٹیٹ آف دی آرٹ کندھے سے فائر ہونے والے بلو پائپ اور سٹنگر میزائل [..]مزید پڑھیں