وسعت اللہ خان

  • ایک بادشاہ کی واپسی اور دیگر قصے

    آج خود ساختہ افلاطون بننے کا میرا کوئی موڈ نہیں۔ لہٰذا ایک تمثیل، ایک واقعہ اور ایک مورخ کا تجزیہ پیش خدمت ہے۔ ( دو گدھوں کی داستان ) ایک شخص نے پہلی بار باربرداری کے لیے گدھا خریدا اور اتنا نہال ہوا کہ گدھے کو چھت پر چڑھا دیا اور اسے بتانے لگا کہ کون کون سا راستہ میرے گھر کو آت [..]مزید پڑھیں

  • حماقت و بددماغی عالمی اثاثہ ہے

    اگر پہلی اور دوسری عالمی جنگ، جنگِ ویت نام (انیس سو پینسٹھ تا پچھتر) اور پہلی جنگِ خلیج (جنوری، فروری انیس سو اکیانوے) سمیت بیسویں صدی کی چار بڑی جنگوں میں امریکی شرکت کا دورانیہ جوڑ لیا جائے تب بھی افغانستان میں (سات اکتوبر دو ہزار ایک تا اکتیس اگست دو ہزار اکیس) بیس سالہ امریکی [..]مزید پڑھیں

  • علامہ اقبال کی خود کشی!

    سب سے پہلے تو اس نشریاتی غازی کو سلام جس نے اس بے وقوف لڑکی کے سر پر اپنا پنجہِ شفقت رکھتے ہوئے پورے تام جھام نام کے ساتھ ہم جیسے کروڑوں سے اس عفیفہ کو متعارف کروایا۔ اس ابلاغی غازی کی انٹرویو وڈیو کو ہزاروں لائیکس ملے اور ہمیں اس لڑکی کے کردار کا ایکسرے، نیت کا سی ٹی سکین اور ت� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • طالبان کا مشکل وقت شروع ہوا ہے اب

    ابھی کچھ بھی طے نہیں۔نہ سمت ، نہ شکل ، نہ چلن، کچھ بھی تو نہیں۔وہ جو کرکٹ کمنٹیٹر چوکا لگنے کے بعد آسمان کو چھوتی گیند کے بارے میں کہتے ہیں ’ اٹس اپ ان دی ائیر ‘ ۔تو وہ والی صورتِ حال ہے۔ کیا یہ سکون ہے یا نئے طوفان سے پہلے کی خامشی۔ یہ امن ہے یا قبرستانی سناٹا۔ نیا دور ہے ی [..]مزید پڑھیں

  • پائی جان میں تے مذاک کر رہیا سی

    بی بی سی میں ’’ رپورٹنگ ان ہوسٹائل انوائرنمنٹ‘‘ ( کشیدہ حالات میں رپورٹنگ کے گر ) نامی کورس کے دوران ایک ریٹائرڈ ایس اے ایس کمانڈو نے بطور انسٹرکٹر ہمارے ساتھ کچھ وقت گزارا۔ اس کا کہنا تھا کہ امریکیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہمیں بس ایک مشکل پیش آتی ہے۔وہ دماغ کے بجائ [..]مزید پڑھیں

  • اتنی تیزی سے تو وکٹیں بھی نہیں اڑتیں

    صرف نو دن میں ہی پورا ملک اس ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں چلا گیا اور ابھی آخری امریکی فوجی کے نکلنے میں سولہ دن باقی ہیں یا سولہ گھنٹے؟ کوئی آنکڑا کام نہیں آ رہا۔ ستاروں کی گردش اس قدر تیز ہے کہ یہ کالم بھی چھپتے ہی پرانا ہو جائے گا۔ جنگ نہ ہوئی ٹوئنٹی ٹوئنٹی ہو گیا۔ مگر اتنی تیزی سے � [..]مزید پڑھیں

  • چبا لیں خود ہی کیوں نہ اپنا ڈھانچہ !

    میں نے بس سنا ہی سنا ہے کہ دلی سات بار اجڑی۔ مگر گزشتہ چالیس برس میں کابل کا تین بار اجڑنا تو ہم نے بھی اپنی زندگی میں دیکھ لیا۔ کسی کو اشرف غنی کی سرکار سے ہمدردی ہے تو کسی کو طالبان کی آنے والی جیت کی شکل میں اپنے خواب پورے ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ سب کی نگاہیں ، میڈیا کے کیمرے، اق� [..]مزید پڑھیں

  • ہائے رے یہ ریاکاری!

    بحر ہند دنیا کی معاشی شاہ رگ ہے اور ستر فیصد عالمی تجارت یہاں کے ساحلی و آبی وسائل کی ہوتی ہے یا پھر یہاں سے گزرتی ہے۔ ہر ابھرتی عالمی قوت کا خواب ہے کہ بحر ہند تک اس کی رسائی اور مفادات کو کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دوسری عالمی جنگ تک بحر ہند کی غالب طاقت برطانیہ تھا۔ سرد ج� [..]مزید پڑھیں

  • بیس برس دریا میں بہہ گئے ہائے!

    مہلت تھی جب تو دل کو تھا بےکاریوں سے شغل اب کام یاد آئے تو مہلت نہیں رہی (احمد نوید) بیس برس کے دوران اربوں ڈالر، غیر مشروط عالمی معاشی و عسکری مدد دستیاب تھی، ازقسمِ حامد کرزائی، عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی وغیرہ وغیرہ کو، کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان کو قرونِ و [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر صاحب کیا آپ کی اسناد دیکھ لوں؟

    کمال بات یہ ہے کہ جب سر پے ہتھوڑا پڑ کے گومڑا بن جاتا ہے تب ہم سوچنا شروع کرتے ہیں کہ یہ کس نے مارا۔ حالانکہ صاحبِ ہتھوڑا ایک عرصے سے ہمارے اطراف ہی گھوم رہا ہوتا ہے اور ہم شتر مرغ بنے خود سے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔ یہ ذہنیت عارضی یا کسی خاص واقعہ یا سانحے سے مشروط نہیں بلکہ ہماری [..]مزید پڑھیں