وسعت اللہ خان

  • اپنے ہی خلاف دھرنا دینے والی سرکار

    سرکردہ ترقی پسند شاعر اسرار الحق مجاز نے کہا تھا کہ ہندوستان میں انقلاب کب کا آ جاتا مگر راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود کیمونسٹ پارٹی ہے۔ آج کے پاکستان میں بھی کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ملک تو تبدیلی کے لیے بے تاب ہے مگر راہ میں سب سے بڑی اڑچن تحریکِ انصاف کی حکومت بن رہی ہے۔ اس برس جن� [..]مزید پڑھیں

  • اجالے کے لیے جالے اترنا ضروری ہے

    جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کچھ عرصے پہلے یہ قصہ سنایا کہ مرحوم حکیم محمد سعید نے جب کراچی کے مضافات میں مدینتہ الحکمت کے نام سے ایک علمی شہر بسایا تو سب سے زیادہ توجہ اس شہرِ علم کے کتب خانے  بیت الحکمت پر دی۔ ’میں حکیم صاحب کے جمع کردہ کتابو [..]مزید پڑھیں

  • طبلہ مولانا بجا رہے ہیں اور رقص میں سرکار ہے

    ایک سادھو نے کہا تھا کہ افغان خانہ جنگی میں سمندر پار والوں کی شہ پر چند سکوں کے بدلے مت کودو۔ یہ تابعداری اور ڈالرانہ ہوشیاری تمہیں عشروں آٹھ آٹھ آنسو رلائے گی۔ مگر سقراطوں نے سادھو کی بات کو بڑبولا پن جانا اور ناقابلِ تلافی اقتصادی، سیاسی، سفارتی اور سماجی قیمت آج تک بیاج سمی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • منیبہ ، جذبہ ، عمیر ، محمد افضل اور آرٹیکل چھ

    ویسے تو میں ایک آزاد خودمختار آئینی جمہوری ریاست کا شہری ہوں کہ جس کی نگاہ میں مجھ سمیت تمام شہری برابر ہیں اور یہ کہ اس ریاست نے تحریراً و حلفاً مجھ سمیت بائیس کروڑ شہریوں کے جان و مال، نقل و حرکت، صحت، تعلیم، روزگار، عقیدے، تحریر، تقریر جیسے بنیادی حقوق کے تحفظ کا وعدہ کر رک [..]مزید پڑھیں

  • حلال اور حرام دھرنا

    کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرکے وفاقی دارالحکومت کا درجہ دے تو دیا گیا تھا مگر فوراً ہی غلطی کا احساس ہوگیا۔ کیونکہ طلبا ہوں کہ سیاسی کارکن کہ مزدور کہ تقسیم کے نتیجے میں شہر میں آنے والے لٹے پٹے مہاجر۔  جس کا جب موڈ ہوتا یا منہ اٹھتا وہ سیدھا گورنر جنرل ہاؤس عرف ایوانِ صدر ( مو [..]مزید پڑھیں

  • تم تو چلے جاؤ گے ہمارا کیا ہوگا ؟

    گریتا تھونبرگ سولہ برس پہلے تین جنوری دو ہزار تین کو سویڈش صحافی باپ اور اوپرا گلوکارہ ماں سے پیدا ہوئی۔ دو ہزار چودہ میں گیارہ سالہ گریتا نے پہلی بار عالمی ماحولیاتی بحران کی اصطلاح سنی اور جب اس نے اس بارے میں پڑھنا شروع کیا تو پہلا سوال یہ ذہن میں آیا کہ اگر یہ اتنا ہی سنگین [..]مزید پڑھیں

  • اور جوتے نے کتاب کو دھکا دے دیا

    بی بی سی اردو کی ایک مختصر بصری رپورٹ میں معروف بلوچی لکھاری اور دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری شکوہ کر رہے ہیں کہ کوئٹہ کی مشہور جناح روڈ کبھی کتابوں کی دوکانوں اور علمی و سیاسی مباحثوں کو فروغ دینے والے ریستورانوں کا مرکز ہوا کرتی تھی ۔ اب وہ چائے خانے غائب ہو گئے اور ان کے باہر چکن [..]مزید پڑھیں

  • حالات تو آپ کو پتہ ہیں سر!

    میری نانی میلاد پڑھا کرتی تھیں۔ کسی عورت نے کبھی نہ پوچھا کہ اے بہن کے جماعت پڑھی ہو اور کس مدرسے سے؟ بس قرآن پڑھا ہوا تھا وہ بھی بچپن میں، جیسا کہ ان دنوں ہر گھر میں رواج تھا۔ اور پھر قصص الانبیا یاد کر رکھے تھے۔ تس پے محلے کی ساری عورتیں انھیں ملانی جی پکارتی تھیں۔ نہ کیلکولی [..]مزید پڑھیں

  • عوام اینڈ سنز

    حضرت عیسیٰ نے بارہ حواریوں کے ساتھ آخری بار نوالہ توڑتے ہوئے کہا ’تم میں سے ایک دھوکہ دے گا‘۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ بارہ میں سے ایک حواری جوڈا اسکریات شہر کے سب سے بڑے یہودی راہب کے پاس پہنچا اور چاندی کے تیس سکوں کے بدلے عیسیٰ کی شناخت کا سودا کر لیا۔ اور پھر رومی دستے کی رہ� [..]مزید پڑھیں

  • جو نہ بولے جے شری رام۔ ۔ ۔

    اس وقت شمالی بھارت میں بہار اور یوپی سے راجستھان تک جو گیت سوشل میڈیا پر وائرل ہے، وہ کوئی بالی وڈ گانا نہیں بلکہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ایک نجی بینڈ کا گیت ہے: بھگوا دھاری سب پے بھاری، چلے ہیں اپنا سینہ تان جو نہ بولے جے شری رام، بھیجو اس کو قبرستان جتنے بھی ہیں رام ورودھی، ان � [..]مزید پڑھیں