ایاز امیر

  • ایران اور بادشاہتوں میں فرق تو سمجھنا چاہیے

    برادر بادشاہت کو انصاراللہ کے مقابلے میں مشکل صورتحال کا سامنا ہوا تو وائٹ ہاؤس کو فون کھڑکایا، دوبار۔ مدد کی مانگ کی کہ امریکی طیارے آئیں اور انصاراللہ کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے راکٹ اور بم برسائیں۔  صدر ٹرمپ دنیا کے تمام بیوپاریوں کے باپ ہیں۔ ایران کی دلدل کو دیکھتے � [..]مزید پڑھیں

  • عرب صحرا پر چھائے دکھ درد کے بادل

    امریکیوں نے بھی مشرق وسطیٰ میں کیسی صورتِ حال پیدا کی ہے۔ اپنا نقصان تو کیا لیکن اپنے عرب اتحادیوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ بڑا اتحادی تو سعودی عرب تھا اور اُس کےساتھ جو ایک قسم کا سمجھوتا 1945 میں طے پایا تھا وہ صدر فرینکلن روزویلٹ اور سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز کے درمیان تھا۔ &nbs [..]مزید پڑھیں

  • برادروں کا حال کچھ اچھا نہیں

    سچ تو یہ ہے کہ جو ممالک بھی اس ایران پھڈے میں شامل ہوئے پچھتا رہے ہوں گے کہ یہ حرکت کیوں کی۔ سوائے اسرائیل کے جو مسلمان ممالک کی افراتفری دیکھ کر خوش ہو رہا ہو گا۔ جمعرات کو جب حوثیوں نے ساحلِ بحیرہ احمر کے ساتھ جنوب کی طرف چڑھائی کی تو اُس دن ولی عہد سعودیہ نے صدر ٹرمپ کو دو مرتبہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • صوبے ضرور بنائیے

    افراتفری نہیں کہتے غلط معنی اس لفظ کے لیے جائیں گے۔ لیکن منجمد پانیوں میں کچھ تو حرکت آئے۔ چار سال سے زائد کا عرصہ ہو چلا ہے جب سے یہ بندوبست قائم ہوا کہ ہر چیز ساکت پڑی ہوئی ہے۔ حالات میں کوئی اتار چڑھاؤ نہیں بس اقتدار سمٹتا چلا جا رہا تھا۔  حکمرانی کے پرزے مضبوط ہو رہے تھ� [..]مزید پڑھیں

  • ذکر کس پری وش کا چھِڑ گیا

    کینیڈا میں مقیم ہمارے دوست مسرت صاحب نایاب قسم کے گانے بھیجتے رہتے ہیں۔ چند روز ہوئے ایک لوک گیت بھیجا جسے گایا ہے اپنے زمانے کے مشہور ایکٹر اور سنگر سُرندر اور ایک خاتون جس کا نام پہلی بار سنا، وحیدن بائی۔ گانا لگایا تو وحیدن کی آواز نے یوں سمجھیے مدہوش کر دیا۔ کیا گہرائی م� [..]مزید پڑھیں

  • بور کرنے والے موضوعات

    زمانہ تھا جب عرب لیگ نامی تنظیم ہوا کرتی تھی لیکن ایک تو اُمہ کی حالت اور دوسرا تنظیم کی کارکردگی ایسی رہی کہ ذکر آنے پر بیزاری ہونے لگتی۔ اب وہ تنظیم پتا نہیں کہاں خاک نشین ہو چکی ہے اور شکر کی بات ہے کہ اب اُس کا ذکر کہیں سننے کو نہیں ملتا۔ اسلامی کانفرنس کے چرچے بھی ایک زمان [..]مزید پڑھیں

  • مسئلہ وسائل کی ناہمواری کا ہے

    کہنا تو چاہیے تھا کہ مسئلہ غربت کا ہے لیکن جہاں معصوم جانوں کی بات ہو الفاظ سوچ کے چننے پڑتے ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں آج کل کون جاتا ہے؟ یا تو افسر جن کی دیکھ بھال ہو جاتی ہے یا بے چارے وہ لاچار جن کے پاس پرائیویٹ علاج کرانے کے وسائل نہیں ہوتے۔  جہاں بچے [..]مزید پڑھیں

  • بدمزہ صورتحال

    کیا بوریت ہر طرف چھائی ہوئی ہے۔ جسے صحافت کہا جاتا تھا اُس کا حشر ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے،ٹی وی چینلوں پر ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ اخبارات کو کوئی پڑھتا نہیں اور ایسے میں کالم نویسی میں کہاں جان رہے۔ سیاست کا جنازہ نکل چکا ہے۔ فارم 47 کا ذکر اتنا ہو چکا کہ مزید ذکر سے شرم آ [..]مزید پڑھیں

  • اتنی مختصر کہاں غم کی شام

    کیسی نفسیاتی حالت قوم کی بن گئی ہے کہ ہر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ جاتی ہے۔ ہسپتال منتقلی کا ناٹک صرف پی ٹی آئی سے نہیں ہوا بلکہ پوری قوم سے ہوا کیونکہ سب ہی اس بات میں آ گاہ تھے کہ سپریم کورٹ کا حکم آیا ہے تو ضرور کچھ نہ کچھ بات ہو گی۔ ہسپتال منتقلی بھی ہو جائے گی اور شاید معتوب جم� [..]مزید پڑھیں

  • خطرہ تو پتا چلے کہاں سے

    معاہدہ درست ہوا ہے لیکن اتنا تو پوچھا جا سکتا ہے کہ حملے کا خطرہ کہاں سے ہے۔نہ صرف کہاں سے بلکہ کس کو ہے؟ترکیہ کے بارے میں اسرائیل میں باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن کوئی حملے کا خطرہ نہیں۔ اسرائیل تو لگا ہوا ہے خونریزی کرنے غزہ اور لبنان میں۔ ترکیہ کی طرف اُس نے نہیں جانا۔ پاکستان � [..]مزید پڑھیں