بارش کو ترسے ماٹی
- تحریر ایاز امیر
- 02/10/2025 10:57 AM
تقدیر ایسی کہ ستتر سال سیدھی نہ ہو سکی۔ نصیب ایسے کہ کارواں اندھیروں میں بھٹکتے رہے اور میرِ کارواں ایسے کہ نظر پڑے تو ہاتھ جوتے کی طرف جائے۔ اس کے اوپر پتا نہیں کس بدبخت کی نظرِبد لگی ہے کہ آسمان روٹھ گئے اور بادل بیگانے ہو گئے۔ کوئی مبالغہ نہیں، ہوش سنبھالے ایسی خشک سال� [..]مزید پڑھیں