ایاز امیر

  • لاچاری کا اندازہ

    کیسی حالت اس سنہرے دیس کی بن گئی ہے کہ تمام امیدیں ایک کھیل پر بندھی ہوں اور ہر بار جسے اربابِ فکر ونظر نے ازلی دشمن کا درجہ دیا ہو ،اُس کے ہاتھوں پِٹ کے رہ جائیں۔ ایک بار پٹنا ہو پھر تو کوئی اتنی بڑی بات نہیں لیکن غازیانِ فتح وامید ہر بار میدانِ کرکٹ میں اتریں تو ازلی دشمن سے ایس� [..]مزید پڑھیں

  • آپ ہی بتائیں کیا لکھیں اور کیا کریں

    کہنے کی بات نہیں سب کو نظر آ رہا ہے کہ سیاست کے پانی ٹھہرے ہوئے ہیں، جمود کا شکار۔ صحافت لنگڑا کے چلنے پر مجبور ہے، آدھی زندہ آدھی کسی قبر میں دفن۔ شکر ہے ایک بارش ہو گئی ہے نہیں تو ہمارے بارانی علاقوں میں گندم کی فصل کا برا حال ہو جاتا۔ اب ایسا ہے کہ ذخیرے تو نہیں بنیں گے لیکن � [..]مزید پڑھیں

  • کہیں کے نہ رہے

    یاد کریں وہ سنہرے دن جب اس قلعہ نظریات نے افغانستان میں چوکیداری اور خرکاری کیلئے اپنے آپ کو بخوشی وقف کیا تھا۔ اس کے عوض ہمارے امریکی مہربانوں نے ہمیں تھپکیاں دیں اور ڈالروں اور کچھ جنگی ساز وسامان سے نوازا۔ اس پر ہمارے نگہبان پھولے نہ سمائے کہ وہ کتنے ہوشیار اور دانا ہیں۔ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • واقعہ گُگھ کچھ رنگ بازی کی زد میں

    شادیوں کا موسم ہے اور لگتا ہے کہ شادیوں کے علاوہ اس دھرتی پر اتنی اہمیت کا اور کوئی کام نہیں۔ تین روز پہلے چکوال ایک شادی میں مدعو تھا کہ ساتھ بیٹھے مہمان نے پوچھا کہ گگھ والا قصہ آپ کے علم میں آ گیا ہو گا؟ میں نے پوچھا کون سا واقعہ؟ تو بتایا گیا کہ انسانیت نام کی چیز کہاں پہن� [..]مزید پڑھیں

  • کہاں چلے تھے کہاں پہ آئے

    پرانے وقتوں کے گائیک شنکر داس گپتا کا دل موہ لینے والا گانا ہے جو کیا خوب ہماری داستانِ ستم کی عکاسی کرتا ہے  ’عجیب ہے زندگی کی منزل، کہاں چلے تھے کہاں پہ آئے‘۔ بانیانِ پاکستان جب منٹو پارک لاہور میں 23 مارچ 1940 کو اکٹھے ہوئے تھے، کیسے کیسے خیالات اُن کے ذہنوں سے گزرے ہوں [..]مزید پڑھیں

  • بارش کو ترسے ماٹی

    تقدیر ایسی کہ ستتر سال سیدھی نہ ہو سکی۔ نصیب ایسے کہ کارواں اندھیروں میں بھٹکتے رہے اور میرِ کارواں ایسے کہ نظر پڑے تو ہاتھ جوتے کی طرف جائے۔ اس کے اوپر پتا نہیں کس بدبخت کی نظرِبد لگی ہے کہ آسمان روٹھ گئے اور بادل بیگانے ہو گئے۔ کوئی مبالغہ نہیں،  ہوش سنبھالے ایسی خشک سال� [..]مزید پڑھیں

  • ٹرمپ جیسا لیڈر چاہیے

    پاکستان کا موجودہ برانڈ جس کی تشکیل اتنے سال پہلے ہوئی تھی ناکارہ ہو چکا ہے۔ پاکستان بطورِ ملک کی بات نہیں ہو رہی،  اُس برانڈ کی ہو رہی ہے جو نئے معرضِ وجود آنے والے ملک پر چسپاں ہوا۔ یہ برانڈ دوائیوں کی طرح اپنی شیلف لائف پوری کر چکا ہے۔ ناکارہ ہونے کی تفصیل میں جانے کی ضر� [..]مزید پڑھیں

  • جگمگ جگمگ دیا جلاؤ

    18جنوری کندن لال سہگل کا ستترواں یومِ وفات تھا۔ عمر گزری ہے اُن کے گانے سنتے اور اُن کی آواز سے عشق کیے۔ ہندوستانی سینما کے پہلے سپرسٹار تھے۔ سکرین پہ آئے اور لاجواب گانے بھی گائے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی سینما میں پَلے بیک گانے کی بنیاد اگر کسی نے رکھی تو وہ سہگل تھے۔ مردان� [..]مزید پڑھیں

  • نظریے کے نام پر ایک اور جنگ

    ہماری تاریخ فسادات سے بھری پڑی ہے اور ہر فساد نظریے کے نام پر ہوا۔ افغانستان میں دہائیوں پر محیط شورش، جنگ اور خانہ جنگی، یہ تمام کارروائیاں نظریے کے نام پر ہوئیں۔جنہیں مجاہدین کا لقب دیا گیا ،اُن کا نعرہ نظریہ تھا اور اُن کے خلاف جو طالبان اُٹھے اُن کا نعرہ بھی وہی نظریہ تھا۔ [..]مزید پڑھیں

  • کیا ہو گا ، کچھ معلوم نہیں

    روایتی تجزیہ نگاری موت کی وادی میں پہنچ چکی ہے کیونکہ کچھ سمجھ نہیں کہ حکمرانوں کے ذہنوں میں کیا ہے اور کیا ارادے باندھے ہوئے ہیں۔ جب حکمرانوں کا نام لیا جائے تو عقل مندوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اشارہ کس طرف ہے۔ پی ٹی آئی والے سچ ہی کہتے ہیں کہ بات اُن سے کی جائے جن کے پاس اختیار � [..]مزید پڑھیں