ایاز امیر

  • سموگ کے حکیم اور ہم سب کی نصیحتیں

    سموگ پر ہر کوئی ایکسپرٹ بنا ہوا ہے۔ ٹریفک پر کنٹرول ہونا چاہیے،بھَٹوں کو دور رکھنا چاہیے،غرضیکہ جتنے ایکسپرٹ اتنی باتیں۔ جسے جوئے کی لت پڑی ہو وہ نصیحتوں سے جوا چھوڑ دیتا ہے؟ سگریٹ پینے کے جو عادی ہوں اُنہیں لاکھ کہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کیلئے تباہ کن ہے کیا سگریٹ پینا چھوڑ دیتے [..]مزید پڑھیں

  • ترقی کی محض کہانیاں ہیں

    دو تین دہائیاں پہلے جب پاکستان کے مسائل اتنے گمبھیر نہیں تھے ہم سے کچھ نہ ہوا۔ نہ وہ نسبتاً سادہ سے مسائل حل ہوئے نہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکا۔ اب جب معاشی اور معاشرتی مسائل بہت پیچیدہ ہو چکے ہیں اور ہماری اجتماعی صلاحیتیں بھی وہ نہیں جو شاید اُن گزرے زمانوں میں تھیں � [..]مزید پڑھیں

  • حالت ایسی کہ سمجھ سے بالاتر

    جو خواہ مخواہ کا تماشا پاکستان میں رچایا گیا ہے اِسے دیکھ کے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ حالات معمول کے مطابق چل رہے تھے لیکن پنگا لینا تھا اور عدم اعتماد کا شوشا چھوڑنا تھا۔ حالات قابو میں رہتے تو کوئی بات نہ تھی لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ حالات بے قابو ہوتے جا رہے ہیں۔ معیشت کی حالت خرا� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ماتم کس چیز کا؟

    جہالت کوٹ کوٹ کے اِس معاشرے میں پھیلائی گئی ہے۔ عقل کی بات یہاں ہو نہیں سکتی۔ ہر معاملہ یہاں حساس ہے، اِس لئے اس پہ بات نہ کریں۔ جہاں جہالت معاشرے کا مزاج بن جائے اُس کے کوئی نتائج برآمد نہ ہوں گے؟ پاکستان دو حصوں میں بٹا ہوا ملک ہے۔ ایک حصہ اُن کا جو نسبتاً اچھی تعلیم سے آراست� [..]مزید پڑھیں

  • چلیں بھول تو ختم ہوئی

    پاکستانی قوم کی خوش نصیبی کہ تمام نہلے آزمائے جا چکے ہیں۔ تمام نجات دہندے، تمام مسیحا، تمام رہبرِ قوم سب اپنی اپنی باری لگا چکے۔ میاں نواز شریف کے بارے میں بھول ہوا کرتی تھی کہ میاں صاحب کے ساتھ بڑی زیادتی ہوتی ہے،  اِنہیں اپنی مدتِ اقتدار پوری نہیں کرنے دی جاتی۔  اِس خب [..]مزید پڑھیں

  • ہاتھ وہی ہیں تو تبدیلی کیا؟

    ہم نے کہا ہے کہ جو حملے نوشکی اور پنجگور میں ہوئے ہیں اُن کے پیچھے بھارت اور کچھ نامعلوم افغان عناصر کا ہاتھ ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ بڑی خطرناک بات ہے۔ پہلے بھی ہم یہی کہتے تھے کہ افغانستان میں جو بھارتی قونصل خانے ہیں وہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کروائی جاتی ہے۔ مورد� [..]مزید پڑھیں

  • کچھ سمجھ نہ آئے

    1952 کی فلم آسمان میں یہ سی ایچ آتما کا گانا ہے ’کچھ سمجھ نہیں آئے موہے اِس دنیا کی بات‘۔ سنگیت او پی نیّر کا ہے۔ گانا لا جواب ہے لیکن اِس کا ذکر اِس لیے ہو رہا ہے کہ پاکستان کے حالات پہ فِٹ بیٹھتا ہے۔ ہمارے ساتھ کیا ہوا، ہم کہاں پہنچ چکے ہیں اور آگے کیا ہونے کو ہے۔ اس بار [..]مزید پڑھیں

  • جی کیسے لگے؟

    مستقل افسردگی کا لحاف اوڑھنا اچھی بات نہیں لیکن ہمارے معاشرے میں ڈپریشن کا سامان بہت پیدا ہو چکا ہے۔ کئی بظاہر چھوٹی خبریں ہوتی ہیں لیکن اُن کی گونج دور تک رہتی ہے۔ اگلے روز کی خبر ہے کہ کسی شہر میں ایک خاتون کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ شکایت کرنے والا اُس کا آشنا تھا اور شکای� [..]مزید پڑھیں

  • حالاتِ حاضرہ سے بغاوت

    کہاں وہ دن جب ہرصبح کم از کم ایک گھنٹہ اخبار بینی پہ لگ جاتا تھا اور کہاں اب کی صورتحال کہ روزمرہ کی خبروں سے چِڑ آجاتی ہے۔ شاید ہمارا وقت گزرچکا ہے اور یہ آج کل کا وقت طبیعت پہ بوجھل سا محسوس ہوتا ہے۔ جو وجہ بھی ہے، دل اب یہ چاہتا ہے کہ جسے حالاتِ حاضرہ کہتے ہیں اُن سے دور ہی ر� [..]مزید پڑھیں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، کمال کے فیصلے

    ہاتھ روک کے کمال کا فیصلہ لکھا ہے حالانکہ یہ تاریخ ساز فیصلے ہیں۔ کون سوچ سکتا تھا کہ مارگلہ پہاڑوں میں بنے ہوئے ریستوران کا ایک دن جنازہ نکل جائے گا۔ سارے شہر کو وہ ریستوران نظر آتا تھا، سی ڈی اے کی آنکھوں سے اوجھل تھا۔ مارگلہ نیشنل پارک میں ایسے کسی ریستوران کے بننے کا قطع [..]مزید پڑھیں