ایاز امیر

  • یوں ہوتا تو کیا ہوتا

    ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا، پر یاد آتا ہے وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا کچھ تو یہاں کی زندگی ویسے ہی آسان نہیں۔ کچھ ہم نے اپنی بے ہنری میں زندگی کو بے مزہ کردیا ہے۔ دشواریاں پہلے بھی ہوا کرتی تھیں لیکن زندگی میں چاشنی کے مواقع بھی میسر ہوتے تھے۔ ہمارا اجتماعی ک� [..]مزید پڑھیں

  • ہمارا طالبان مسئلہ ذرا الگ ہے

    ایک تو افغانستان کے طالبان ہیں جن کا زور بڑھ رہا ہے۔ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں سب سے بڑی طاقت وہ ہیں۔ اُن کا مطمح نظر پورے افغانستان پہ قبضہ ہے۔ دوسرے طالبان وہ ہیں جو اپنے آپ کو یہاں کا کہتے ہیں اور جن کی تنظیم ہے کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی۔ ہمارا مسئلہ [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے فون سے کسی کو کیا ملے

    حسنِ اتفاق سے ایم این اے منتخب ہوئے تو ایک خیرخواہ نے نصیحت کی کہ ایک احتیاط ضرور کرنا۔ ایک فون روزمرہ کے کام کاج کیلئے رکھنا اور دوسرا فضولیات کیلئے اگر اُن سے باز نہیں آسکتے۔ پہلے تو غصہ آیا لیکن پھر دیکھا کہ نصیحت کارآمد ہے۔ دن بھر کی مصروفیات کے بعد شام کو جب اکیلے ہوتے ت� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • شاید ہم افغانستان کو غلط سمجھ رہے ہوں

    میرا خیال پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ افغانستان کے بارے میں ہمارے بیشتر مفروضے اور اندازے غلط بنیادوں پہ مبنی ہیں۔ سب سے غلط خیال تو یہ ہے کہ افغانستان میں پھر خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔ خانہ جنگی یا اِس قسم کی صورتحال کیلئے دو برابر کے فریقوں کا ہونا ضروری ہے۔  برابر کا فریق وہاں کو� [..]مزید پڑھیں

  • قومی مفاد کی تشریح کس نے کرنی ہے؟

    آج قومی مفادیہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے افغانستان میں مداخلت نہیں کرنی۔ گزرے سالوں میں قومی مفاد یہ تھا کہ ہم نے افغانستان میں بھرپور مداخلت کرنی ہے۔آج قومی مفاد یہ ہے کہ ہندوستان سے تعلقات میں بہتری ہمارے فائدے کی بات ہے۔ کل تک ہندوستان ہمارا ازلی دشمن تھا۔ آج قومی مفاد ہ� [..]مزید پڑھیں

  • سیاحت کے بارے میں بے تُکی باتیں

    وزیراعظم کہتے ہیں کہ آسٹریلیامیں کوئی وادیٔ کاغان نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی خوبصورتی بے مثال ہے اور اگر سیاحت یہاں فروغ پائے تو ہماری معاشی دشواریاں دور ہو سکتی ہیں۔ درست فرماتے ہیں لیکن اُنہیں خود سے پوچھنا چاہئے کہ اگر آسٹریلیا میں وادیٔ کاغان اور ہمالیہ کی پہاڑیا [..]مزید پڑھیں

  • ہماری تاریخ کے کچھ انوکھے پہلو

    ہماری تاریخ کے حوالے سے ذہن میں کبھی عجیب سوال اٹھتے ہیں۔ مثال کے طور پہ بادشاہوں کو تو چھوڑیئے کسی مغل شہزادے نے باہر کی دنیا کی سیر نہیں کی۔ یورپ میں کیا کچھ ہو رہا تھا، امریکہ کی ایک نئی دنیا ڈھونڈی گئی، ایسے واقعات سے وہ تقریباً بے خبر تھے۔  مغل بادشاہت دنیا کی امیر ترین [..]مزید پڑھیں

  • پولیس ٹھیک ہو تو سب ٹھیک ہے

    ہم جو سیاست یا میڈیا میں بڑی بڑی باتیں اِصلاح کی کرتے ہیں بیشتر فضول  باتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے جیسے معاشرے میں دو اداروں کی اِصلاح بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک عدالتی نظام اور دوسرا پولیس کا محکمہ۔ عدالتی نظام تو رہنے دیجئے، حساس مسئلہ ہے اِس پہ کچھ کہنا اِتنا آسان نہیں لیکن پ� [..]مزید پڑھیں

  • نہ نہ کرتے مائنس وَن ہوگیا

    مائنس ون اُس سیاسی فارمولے کا نام ہے جس کے تحت عندیہ دیا جاتا تھا کہ نواز شریف کو نکال دیں تو ن لیگ سے معاملات طے ہو سکتے ہیں۔ ایسی کسی ترکیب کی طرف اشارہ دیا جاتا تو ن لیگ والے چلا اُٹھتے کہ ایسا ناممکن ہے۔ کہا جاتا کہ ن لیگ کا مطلب ہی نواز شریف ہے اور نواز شریف کے بغیر ن لیگ کے سا� [..]مزید پڑھیں

  • مصیبت جو ہم نے اُٹھائی ہوئی ہے!

    افغانستان سے ہم اپنے ہاتھ دھو نہیں سکتے۔ جغرافیہ اور لمبا بارڈر اِس چیز کی اجازت نہیں دیتے لیکن یہ جو ہم نے افغانستان کا درد اپنے گلے لگایا ہوا ہے یہ ایک فضول عمل ہے۔  وہاں خونریزی ہو تو ہمارے لئے تشویش کا باعث بنتا ہے لیکن یہ جو ہم امن قائم کرنے کے خوابوں میں غرق ہو جاتے ہیں [..]مزید پڑھیں