ایاز امیر

  • حالاتِ حاضرہ سے بغاوت

    کہاں وہ دن جب ہرصبح کم از کم ایک گھنٹہ اخبار بینی پہ لگ جاتا تھا اور کہاں اب کی صورتحال کہ روزمرہ کی خبروں سے چِڑ آجاتی ہے۔ شاید ہمارا وقت گزرچکا ہے اور یہ آج کل کا وقت طبیعت پہ بوجھل سا محسوس ہوتا ہے۔ جو وجہ بھی ہے، دل اب یہ چاہتا ہے کہ جسے حالاتِ حاضرہ کہتے ہیں اُن سے دور ہی ر� [..]مزید پڑھیں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، کمال کے فیصلے

    ہاتھ روک کے کمال کا فیصلہ لکھا ہے حالانکہ یہ تاریخ ساز فیصلے ہیں۔ کون سوچ سکتا تھا کہ مارگلہ پہاڑوں میں بنے ہوئے ریستوران کا ایک دن جنازہ نکل جائے گا۔ سارے شہر کو وہ ریستوران نظر آتا تھا، سی ڈی اے کی آنکھوں سے اوجھل تھا۔ مارگلہ نیشنل پارک میں ایسے کسی ریستوران کے بننے کا قطع [..]مزید پڑھیں

  • افغان بخار اب تو کچھ اترنا چاہئے

    افغان طالبان ہمیں حقیقت پسندی کا سبق سکھا رہے ہیں۔ اشرف غنی کی حکومت کی طرح وہ بھی پاک افغان سرحد پہ باڑ لگانے کے خلاف ہیں۔ پرانی حکومت نے تو صرف زبانی کلامی مخالفت کی تھی، طالبان لڑائی جھگڑے تک پہنچ چکے ہیں۔ ایک دو مقامات پہ ناخوشگوار واقعات ہو چکے ہیں۔ پاکستان مسئلے کو اچھا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تقسیم ِ ہند کے تقاضے

    اسرائیل نے اپنے وجود کا جواز بنا لیا۔ عرب دنیا کا سب سے طاقت ور اور ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔ دنیا میں طاقت اور ترقی ہی دو چیزیں ہیں جو معنی رکھتی ہیں۔ باقی بیکار کی باتیں ہیں اور جہاں تک اخلاقیات کا تعلق ہے اُس کا شمار بھی ہوائی باتوں میں ہوتا ہے۔ ہندوستان سے کٹ کے پاکستان علی� [..]مزید پڑھیں

  • کرسمس اور نیا سال

    یوں تو ایک سیاسی جماعت کا وہ رعب و دبدبہ نہیں رہا جو ایک زمانے میں ہوا کرتا تھا۔ وہ زمانہ جب اُن کے ڈنڈوں کی دھاک بیشتر تعلیمی اداروں پہ بیٹھی ہوئی تھی لیکن داد دینا پڑے گی ایک بات پہ کہ وہ جماعت یا اُس کا طلبہ ونگ اب تک ڈٹا ہوا ہے۔ نئے سال کی شام آنے کو ہوتی ہے تو خاص طور پہ لاہ� [..]مزید پڑھیں

  • مسلسل کمزوری اور دو رُخی کا نتیجہ

    ہلڑ کہاں ہو رہا ہے اور کون کر رہا ہے یہ مت پوچھئے کیونکہ ہم دیکھ تو سب کچھ رہے ہیں لیکن زیادہ کہہ نہیں سکتے البتہ ہلڑ کی خبروں پر پابندی کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ کمزوریِ ارادہ کی وجہ سے حالات وہاں پہنچ چکے ہیں کہ کچھ کہنے کو جی بھی نہیں کرتا۔  ایک تو حالات دوسرا وزراء کے تبصر [..]مزید پڑھیں

  • میچ کس ماحول میں دیکھنا چاہیے تھا

    اِتنے عرصے بعد خوشی کا ایک دن ملا۔ سارے دکھ درد ایک طرف کو ہو گئے بس کھلاڑیوں کی پرفارمنس ہی سامنے رہی۔ اور کیا پرفارمنس تھی۔ مجھ جیسے کرکٹ سے نابلد انسان کا دل بھی خوشی سے جھوم اٹھا۔  لیکن کیا اچھا ہوتا کہ گزرے ہوئے دن لوٹ آتے، پرانے وقتوں کا سماں ہوتا، ایک ایسی جگہ پہ جہاں [..]مزید پڑھیں

  • کتنی بار اِن راہوں سے گزرے ہم

    نالائقی کا ایک اور دور،بے یقینی کا ایک اور سفر،  ملک اور قوم پھر سے ایک بھنور میں۔ بحران اس ملک نے اتنے سہے ہیں کہ اس کی تاریخ میں بحران ہی یاد آتے ہیں۔ موجودہ حکومت لڑکھڑا رہی ہے۔ حالات اس کی گرفت سے باہر ہو چکے ہیں اور اُفق پہ نظر ڈالیں تو اٹھتے طوفان ہی نظر آتے ہیں۔ دو سا� [..]مزید پڑھیں

  • خواہ مخواہ کی بھول

    جھمیلے کہئے یا پھڈے، اِن میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کی کوئی وجہ ہوتی ہے اور خواہ مخواہ کے پھڈے ہوتے ہیں جو نا سمجھی، ہٹ دھرمی یا بھول میں ہو جاتے ہیں۔ یہ جو ہمارا مسئلہ بنا ہوا ہے یہ خواہ مخواہ کا ہے۔ ناسمجھی تو نہ کہئے کیونکہ ہمارے بھولے اِتنے بھولے بھی نہیں ہوتے۔ اُنہیں سمجھ [..]مزید پڑھیں

  • ایک ضیا الحق کافی نہ تھے؟

    جنرل ضیا الحق کی نصیحت آموز باتیں سن سن کر ہمارے کان پک گئے تھے۔ جس راہ پہ وہ چلے تھے اُس کیلئے وہ کافی تھے حتیٰ کہ کسی آنے والے کیلئے اُنہوں نے وعظ و نصیحت کے میدا ن میں کچھ چھوڑا نہیں تھا۔ اِس لئے حیرانی ہوتی ہے جب ایک اور سربراہ حکومت ضیا الحق بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب یہ با� [..]مزید پڑھیں