ایاز امیر

  • کن راہوں پہ ہم چل نکلے تھے

    کل صبح گاؤں میں بیٹھا جناب الطاف حسن قریشی صاحب کا کالم بعنوان ’سیدِ خوش خصال تھا، کیا تھا!‘ نظروں سے گزرا۔ کالم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے بارے میں ہے۔ قریشی صاحب لکھتے ہیں کہ جب 12مارچ 1949 کو آئین ساز اسمبلی سے قرارداد مقاصد کی منظوری ہوئی تو جماعت اسلامی نے ’آ� [..]مزید پڑھیں

  • بات قومی بے شرمی کی ہے

    قوم کو سبق سکھایا جارہا ہے کہ آف شور کمپنیاں رکھنا قانون کی خلاف ورزی نہیں۔ بالکل درست ہے۔ غربت میں رہنا بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں۔ بھوک اور افلاس سے تنگی قانون کے خلاف نہیں۔ خودکشی خلافِ قانون ہے لیکن خودکشی کا سوچنا کہ اِس زندگی سے موت بہتر ہے کسی قانون سے متصادم نہیں۔ با [..]مزید پڑھیں

  • روپیہ دیمک زدہ ہو چکا ہے

    سب سے برا حال اُس روپے کا ہے جو بینکوں میں پڑا ہے۔ اُس کی قوت خرید کو دیمک چاٹ رہی ہے اور اِس مرض کا تاحال کوئی علاج نظر نہیں آرہا۔ بہت سے یار دوست سوچنے پہ مجبور ہوگئے ہیں کہ روپوں کو ڈالروں میں تبدیل کیا جائے۔ ڈالر کی قدرومنزلت کی اور بھی وجوہات ہوں گی لیکن روپے کی گرتی ساکھ بھ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ڈالر کی اُڑان روپے کا غوطہ

    الیکشن کمیشن اور حکومت کے تقرر کو ہم نے چاٹنا ہے ؟ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہوں یا کوئی اور ذریعہ انتخاب اُس سے چولہے جلنے ہیں یا گاڑیوں میں پٹرول بھر جانا ہے ؟یہ فضول کی باتیں ہیں۔ اصل مسائل اور ہیں اور سیاسی میدان میں جو آوازیں اٹھتی ہیں، اُن کو سن کے جی چاہتا ہے کہ تمام کرداروں [..]مزید پڑھیں

  • قوتِ فیصلہ چنگیزی ہو

    ہمارے جیسا بے سمت اور بے ارادہ معاشرہ ٹھیک نہیں ہو سکتا جب تک کسی نہ کسی حد تک چنگیزیت اِس میں کارفرما نہ ہو۔ یہاں آئین وغیرہ لفاظی کی باتیں ہیں۔ قانون کی حکمرانی ایک بے معنی نظریہ ہے کیونکہ جہاں قول اور عمل میں اِتنا فرق ہو، وہاں قانون کی حکمرانی جیسے نازک تصورات عملی شکل اخ [..]مزید پڑھیں

  • طالبان نے دنیا کو حیران کردیا

    امریکی افغانستان سے جا تو رہے تھے لیکن کسی کو یہ توقع نہ ہوگی کہ اس طرح رسوا ہوکر نکلیں گے۔کابل ایئرپورٹ کے نظارے تو ساری دنیا دیکھ چکی ہے۔جب چیزیں ہاتھ سے نکل جائیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔  ایئرپورٹ پہ طالبان موجود نہیں تھے۔گرتی حکومت کی گھبراہٹ ہی اتنی تھی کہ ہر طرف افراتفری � [..]مزید پڑھیں

  • تب اور اب میں ایک فرق ضرور ہے

    نام نہاد جہاد کے ادوار میں ہمارے ریاستی ادارے افغانستان کو اور نظروں سے دیکھتے تھے۔ پتا نہیں اُنہوں نے یہ دانش کہاں سے پائی تھی لیکن ہمارے ریاستی پاسبانوں نے افغانستان اور اُس کے مسائل کو گلے سے لگا لیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ریاستی ادارے سمجھتے تھے کہ ہماری بقا افغانستان میں ہے۔ &nbs [..]مزید پڑھیں

  • یوں ہوتا تو کیا ہوتا

    ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا، پر یاد آتا ہے وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا کچھ تو یہاں کی زندگی ویسے ہی آسان نہیں۔ کچھ ہم نے اپنی بے ہنری میں زندگی کو بے مزہ کردیا ہے۔ دشواریاں پہلے بھی ہوا کرتی تھیں لیکن زندگی میں چاشنی کے مواقع بھی میسر ہوتے تھے۔ ہمارا اجتماعی ک� [..]مزید پڑھیں

  • ہمارا طالبان مسئلہ ذرا الگ ہے

    ایک تو افغانستان کے طالبان ہیں جن کا زور بڑھ رہا ہے۔ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں سب سے بڑی طاقت وہ ہیں۔ اُن کا مطمح نظر پورے افغانستان پہ قبضہ ہے۔ دوسرے طالبان وہ ہیں جو اپنے آپ کو یہاں کا کہتے ہیں اور جن کی تنظیم ہے کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی۔ ہمارا مسئلہ [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے فون سے کسی کو کیا ملے

    حسنِ اتفاق سے ایم این اے منتخب ہوئے تو ایک خیرخواہ نے نصیحت کی کہ ایک احتیاط ضرور کرنا۔ ایک فون روزمرہ کے کام کاج کیلئے رکھنا اور دوسرا فضولیات کیلئے اگر اُن سے باز نہیں آسکتے۔ پہلے تو غصہ آیا لیکن پھر دیکھا کہ نصیحت کارآمد ہے۔ دن بھر کی مصروفیات کے بعد شام کو جب اکیلے ہوتے ت� [..]مزید پڑھیں