ایاز امیر

  • بات جو کہی وہ ٹھیک ہے یا نہیں؟

    باقی چیزیں فروعی اور ثانوی نوعیت کی ہیں۔ کون کس سے ملا، کہاں ملا، ان موقعوں پہ کیا بات چیت ہوئی۔ اصل سوال کا جواب نہیں آ رہا کہ جو کچھ آل پارٹیز کانفرنس کے سامنے نواز شریف نے لندن سے بیٹھ کر کہا وہ حقیقت کے نزدیک ہے یانہیں؟ انہوں نے توایک پوری ایف آئی آر کاٹ کے رکھ دی کہ یہاں کسی ک [..]مزید پڑھیں

  • گھبراہٹ فطری جب تیر ہدف پہ بیٹھے

    وزرا کی ایک پوری کھیپ نوازشریف کی آل پارٹیز کانفرنس میں تقریر کو اُدھیڑنے بیٹھ جائے تو گھبراہٹ واضح نظر آتی ہے۔ اور جب اس تقریر کو پاکستان مخالف ایجنڈے سے ملا دیا جائے تو پریشانی اور واضح ہو جاتی ہے۔ یہ آل پارٹیز کانفرنس والی مشق بے معنی ہوتی اگر نوازشریف کی یہ تقریر نہ ہو� [..]مزید پڑھیں

  • نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے

    پاکستان کا پرابلم نالائقی ہے۔ انفرادی ہنر ہم میں ہوگا لیکن ہماری تاریخ ثابت کرتی ہے کہ اجتماعی طور پہ ہم پرلے درجے کے نالائق لوگ ہیں۔ کوئی کام ہم سے سیدھا ہوتا ہے؟ سڑکوں سے لے کر دفتری کاموں تک، ہم کہیں بھی دیانتداری کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟ کیفیت ایسی ہو تو نظامِ حکومت آپ جو م [..]مزید پڑھیں

loading...
  • آغاز ہی کچھ ایسا تھا

    پوچھتے ہیں مملکت کے ساتھ کیا ہوا۔ کارواں منزل سے بھٹک کیوں گیا۔ بھٹکنا کیا تھا کارواں کی ترتیب ہی نہ ہو سکی اور جہاں تک سمت کا تعلق ہے یہ تو فیصلہ ہی نہ ہو سکا کہ کارواں کا راستہ کیا ہونا چاہیے۔ کچھ چیزیں آج تک سمجھ نہیں آئیں۔ اسرائیل اہل یہود کے ملک کے طور پر معرضِ وجود میں ا� [..]مزید پڑھیں

  • ہندوستان سے ہماری لڑائی بنتی کیا ہے؟

    ایک نکتہ واضح ہونا چاہیے۔ تنازعات کا ہونا الگ چیز ہے۔ دشمنی بالکل دوسری بات ہے۔ روس اور جاپان کا چار چھوٹے جزیروں پہ تنازعہ دوسری جنگ عظیم کے اختتام سے چل رہا ہے لیکن روس اور جاپان میں کوئی دشمنی نہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب اور ایران میں کوئی خاص تنازعہ نہیں ہے لیکن یہ ایک دوسرے [..]مزید پڑھیں

  • کون سی 22 سالہ جدوجہد؟

    درخشاں سیاسی ماضی ذرا ملاحظہ ہو۔ جنرل پرویز مشرف نے اشارہ کیا تو اس کے ساتھ ہو لیے، اس امید پہ کہ مقتدرہ کو ان کی ضرورت پڑے گی اور وزارت عظمیٰ کا تاج ان کے سر سج جائے گا۔ ایسا نہ ہوا تو انداز بدل گئے اور جمہوریت کا علم تھام لیا۔ 2013 ءکے انتخابات نواز شریف نے سویپ کیے، کم از کم پنج� [..]مزید پڑھیں

  • مسئلہ سیاست کو تائب کرنا نہیں

    سیاست بیچاری تو تائب ہو چکی۔ سابق حکمرانوں کا حال اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ کچھ کہنے کے قابل نہیں رہے۔ مسئلہ معیشت کو تائب کرنا ہے۔ اس بارے میں لگتا ہے ہمارے موجودہ حکمرانوں کے پاس کچھ زیادہ سوچ نہیں۔ ٹامک ٹوئیوں سے کام چلا رہے ہیں لیکن جسے کہتے ہیں کوئی ہمہ گیر ایجنڈا وہ ان کے [..]مزید پڑھیں

  • دنیا کو تھوڑا آہستہ ہونے کی ضرورت تھی

    اس میں تو اب کوئی دو آرا نہیں ہونی چاہئیں کہ انسان دھرتی پہ بوجھ بن چکا ہے۔ ایک تو ہماری تعداد بہت ہو گئی ہے۔ پھر جو ترقی کا ماڈل ساری دنیا میں رائج ہے اس کو کرۂ ارض پتا نہیں کب تک برداشت کر سکے گا۔ کتنا دھواں ہوا میں پھینکا جا سکتا ہے؟ سمندروں کی کتنی تباہی کی جا سکتی ہے؟ ماحول � [..]مزید پڑھیں

  • پی ٹی آئی کے دور میں مسئلہ بقا کا ہے

    بقا یعنی جسے انگریزی میں کہتے ہیں survival۔ بہت سے دوست اور مہربان ابھی تک اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ حالات خراب تو ہیں لیکن ٹھیک ہو جائیں گے۔ اُمید کی شمعیں اُن کی اب تک جل رہی ہیں حالانکہ لگتا یوں ہے کہ حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہوں گے۔ جب اتنی معاشی بد حالی ہو جائے جسا [..]مزید پڑھیں

  • قائداعظم پہ جسونت سنگھ کی کتاب

    اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں جسونت سنگھ ہندوستان کے وزیر خارجہ تھے۔ جب نریندر مودی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر بن کے اُبھرے، جسونت سنگھ سے اُن کی بن نہ پائی۔ پچھلے انتخابات میں انہیں بی جے پی کا ٹکٹ نہ دیا گیا اور انہوں نے سیاست سے تقریباً کنارہ کشی اختیار کر لی۔ منصبِ وزارت [..]مزید پڑھیں