ایاز امیر

  • شاید ہم افغانستان کو غلط سمجھ رہے ہوں

    میرا خیال پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ افغانستان کے بارے میں ہمارے بیشتر مفروضے اور اندازے غلط بنیادوں پہ مبنی ہیں۔ سب سے غلط خیال تو یہ ہے کہ افغانستان میں پھر خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔ خانہ جنگی یا اِس قسم کی صورتحال کیلئے دو برابر کے فریقوں کا ہونا ضروری ہے۔  برابر کا فریق وہاں کو� [..]مزید پڑھیں

  • قومی مفاد کی تشریح کس نے کرنی ہے؟

    آج قومی مفادیہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے افغانستان میں مداخلت نہیں کرنی۔ گزرے سالوں میں قومی مفاد یہ تھا کہ ہم نے افغانستان میں بھرپور مداخلت کرنی ہے۔آج قومی مفاد یہ ہے کہ ہندوستان سے تعلقات میں بہتری ہمارے فائدے کی بات ہے۔ کل تک ہندوستان ہمارا ازلی دشمن تھا۔ آج قومی مفاد ہ� [..]مزید پڑھیں

  • سیاحت کے بارے میں بے تُکی باتیں

    وزیراعظم کہتے ہیں کہ آسٹریلیامیں کوئی وادیٔ کاغان نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی خوبصورتی بے مثال ہے اور اگر سیاحت یہاں فروغ پائے تو ہماری معاشی دشواریاں دور ہو سکتی ہیں۔ درست فرماتے ہیں لیکن اُنہیں خود سے پوچھنا چاہئے کہ اگر آسٹریلیا میں وادیٔ کاغان اور ہمالیہ کی پہاڑیا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ہماری تاریخ کے کچھ انوکھے پہلو

    ہماری تاریخ کے حوالے سے ذہن میں کبھی عجیب سوال اٹھتے ہیں۔ مثال کے طور پہ بادشاہوں کو تو چھوڑیئے کسی مغل شہزادے نے باہر کی دنیا کی سیر نہیں کی۔ یورپ میں کیا کچھ ہو رہا تھا، امریکہ کی ایک نئی دنیا ڈھونڈی گئی، ایسے واقعات سے وہ تقریباً بے خبر تھے۔  مغل بادشاہت دنیا کی امیر ترین [..]مزید پڑھیں

  • پولیس ٹھیک ہو تو سب ٹھیک ہے

    ہم جو سیاست یا میڈیا میں بڑی بڑی باتیں اِصلاح کی کرتے ہیں بیشتر فضول  باتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے جیسے معاشرے میں دو اداروں کی اِصلاح بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک عدالتی نظام اور دوسرا پولیس کا محکمہ۔ عدالتی نظام تو رہنے دیجئے، حساس مسئلہ ہے اِس پہ کچھ کہنا اِتنا آسان نہیں لیکن پ� [..]مزید پڑھیں

  • نہ نہ کرتے مائنس وَن ہوگیا

    مائنس ون اُس سیاسی فارمولے کا نام ہے جس کے تحت عندیہ دیا جاتا تھا کہ نواز شریف کو نکال دیں تو ن لیگ سے معاملات طے ہو سکتے ہیں۔ ایسی کسی ترکیب کی طرف اشارہ دیا جاتا تو ن لیگ والے چلا اُٹھتے کہ ایسا ناممکن ہے۔ کہا جاتا کہ ن لیگ کا مطلب ہی نواز شریف ہے اور نواز شریف کے بغیر ن لیگ کے سا� [..]مزید پڑھیں

  • مصیبت جو ہم نے اُٹھائی ہوئی ہے!

    افغانستان سے ہم اپنے ہاتھ دھو نہیں سکتے۔ جغرافیہ اور لمبا بارڈر اِس چیز کی اجازت نہیں دیتے لیکن یہ جو ہم نے افغانستان کا درد اپنے گلے لگایا ہوا ہے یہ ایک فضول عمل ہے۔  وہاں خونریزی ہو تو ہمارے لئے تشویش کا باعث بنتا ہے لیکن یہ جو ہم امن قائم کرنے کے خوابوں میں غرق ہو جاتے ہیں [..]مزید پڑھیں

  • عرصے بعد عقل کی کچھ بات

    یہ بات نئے وزیرِ خزانہ شوکت ترین کی طرف سے آئی ہے۔ عہدہ سنبھالتے ہی اُنہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے جو شرائط ہم نے طے کی تھیں وہ بہت سخت ہیں اور ہم اِس کوشش میں ہیں کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کریں تاکہ شرائط میں کچھ نرمی لائی جا سکے۔  اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کا رویہ [..]مزید پڑھیں

  • اتنی بھی نازک مزاجی کیا

    جب شاہسوارِ اعظم جنرل ضیاالحق براجمانِ اقتدار تھے تو ایک موقع پر اُنہوں نے یہ تاریخی جملے ادا کئے کہ آئین کیا ہے اتنے صفحات کا کتابچہ، جب چاہوں اِسے پھاڑ کے ایک طرف رکھ دوں۔ آٹھ سال تک اُس کتابچے کو معطل رکھا اور جب بحال بھی کیا تو ایسی ترمیمات کے ساتھ کہ اُس کا حلیہ بگاڑ دی� [..]مزید پڑھیں

  • مرض پیچیدہ ہے پر لاعلاج نہیں

    شعیب سڈل جنہوں نے پولیس سروس میں اچھی نوکری کی ہے کو حال ہی میں ایک کام سونپا گیا کہ موجودہ نصاب میں کیا اصلاح لائی جائے تاکہ اقلیتوں کے تحفظات دور ہو سکیں۔  اقلیتوں کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ نصاب کے بہت سے مضامین میں اسلامی تعلیمات کسی نہ کسی حوالے سے درج ہیں۔ اُن کا � [..]مزید پڑھیں