ایاز امیر

  • کون سا داغدار اُجالا؟

    جب اپنی شہرہ آفاق نظم میں فیض صاحب نے داغدار اُجالے کی بات کی تب تو نسبتاً ہر چیز ٹھیک تھی۔ پاکستان کو بنے کچھ سال ہی ہوئے تھے اور قومی زندگی میں چھوٹی موٹی وارداتیں تو شروع ہو چکی تھیں لیکن جن بڑے کارناموں نے تاریخِ پاکستان کی زینت بننا تھا، وہ ابھی باقی تھے۔ جسے پاکستان میں [..]مزید پڑھیں

  • ہندوستان سے نہ دوستی نہ دشمنی

    پاکستان اور ہندوستان ہمسائیگی کے تقاضے ہی پورے کر لیں توبڑی بات ہے۔ دونوں ممالک کے آپس کے تعلقات عقل سے یکسر عاری ہیں۔ قوموں کے درمیان مسائل ہوتے ہیں، جنگوں کی تاریخ ہوتی ہے لیکن بیشتر ایسے روٹھ کے بیٹھ نہیں جاتے جیساکہ ہمارا معمول بن چکا ہے۔ امریکہ اور روس کے مابین کیا کم م [..]مزید پڑھیں

  • ایک اور جھٹکا کیوں ضروری ہے؟

    پاکستان تحریک انصاف کے ٹھہرے ہوئے پانیوں میں تھوڑی سی مزید ہلچل ہونی چاہئے۔ یہ پی ٹی آئی کی صحت کیلئے بھی اچھا ہوگا اور ملکی سیاست کیلئے بھی شاید فائدہ مند ثابت ہو۔ ٹھہرے ہوئے پانی گندے ہو جاتے ہیں اورکسی استعمال کے قابل نہیں رہتے۔ اڑھائی سال کی بے فائدہ حکومت کے بعد پی ٹی ا� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • یہ جھٹکا ضروری تھا

    جھٹکا لگا لیکن ایسا کہ ہوش اڑ گئے۔ وزیراعظم کے خطاب میں ان کی کیفیت دیکھی جاسکتی تھی۔ ایک تو وہی تقریر جو شروع سے کرتے آرہے ہیں لیکن پہلے سے بھی زیادہ بے ربط۔ کوئی انہیں کہنے والا نہیں ہے کہ یہ ایک موضوع والی گفتگو سن سن کے لوگوں کے کان پک چکے ہیں۔ اور یہ ہیں کہ انہیں کوئی دوسر� [..]مزید پڑھیں

  • مؤثر حکمرانی اور تھانیداری

    تھانیداری جو سختی کا ایک دوسرا نام ہے کے بغیر مؤثر حکمرانی ممکن نہیں۔ہمارا معاشرہ سویڈن یا ڈنمارک نہیں۔کئی اعتبار سے یہ اب بھی ایک قبائلی معاشرہ ہے۔ایسے ماحول میں حکمرانی کیا معنی رکھتی ہے؟فقط یہ کہ مسائل کا صحیح ادراک ہو اور جو فیصلے کئے جائیں اُن پہ عمل درآمد یقینی ہو۔ ہ [..]مزید پڑھیں

  • مزاج درست کرنا اتنا مشکل بھی نہیں

    ہمارے ہاں یہ کیا رَٹ لگی رہتی ہے کہ فلاں کام نہیں کرنے دیتے، مافیاز راستے میں کھڑے ہیں اور وہ کچھ نہیں کرنے دیتے۔ پاکستان میں حکمرانی آئین نہیں بلکہ طاقت کے زور پہ چلتی ہے۔ ہمت ہو اور مسائل کا کچھ ادراک تو حکمرانی کے زور پہ بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔  لیکن ذہن میں کچھ آئیڈیاز ن [..]مزید پڑھیں

  • یہ لمبا کھیل ہے

    پی ڈی ایم والے سارے بیوقوف نہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت بخوبی سمجھتی ہے کہ جس راستے پہ مولانا فضل الرحمن انہیں لے کے جانا چاہتے ہیں، وہ نقصان اور بربادی کا راستہ ہے۔ مولانا اور نوازشریف بھی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں لیکن اُن کے دل بھرے پڑے ہیں اور ان جلے دلوں کی وجہ سے وہ سیاسی انتشار � [..]مزید پڑھیں

  • اُس وقت کا پاکستان حادثے کا منتظر تھا

    جلد یا بدیر حادثہ ہونا تھا لیکن وقت کا تعین حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ اب ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کو ہم اپنے برابر کا نہ سمجھتے تھے۔ ریاستِ پاکستان کی ہیئت، اُس کی ترجیحات، اُس کے نظریاتی خدوخال مغربی پاکستان کے حکمران طبقات کے متعین کردہ تھے۔ اِس ک [..]مزید پڑھیں

  • پیپلز پارٹی والے استعفے کیوں دیں؟

    سندھ میں ان کا راج ہے۔ مقدمات کے باوجود اِن کی جاگیرداریاں اور کمرشل ایمپائر قائم ہیں۔ کس بنا پہ ان سب چیزوں کو داؤ پہ لگائیں؟ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سامنے یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ استعفوں کے معاملے پہ اس کی جماعتوں میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ مولانا فضل ال [..]مزید پڑھیں

  • ہم جو متلاشی رہبر رہے

    کاروان بہت گزرے اور اُن سے ہماری امیدیں جڑی رہیں، کبھی ایک سے پھر کسی اور سے۔ ہر بار سمجھتے تھے کہ بہتری ہو گی اورقوم کی تقدیر بدل جائے گی لیکن اُمیدیں کبھی بارآور ثابت نہ ہوئیں۔ اب حالت یہ ہوچکی ہے کہ اُمیدیں باندھنا چھوڑ دیا۔  البتہ ایک بات جان چکے کہ لیڈری ہر ایک کے بس کی [..]مزید پڑھیں