ایاز امیر

  • کون سی 22 سالہ جدوجہد؟

    درخشاں سیاسی ماضی ذرا ملاحظہ ہو۔ جنرل پرویز مشرف نے اشارہ کیا تو اس کے ساتھ ہو لیے، اس امید پہ کہ مقتدرہ کو ان کی ضرورت پڑے گی اور وزارت عظمیٰ کا تاج ان کے سر سج جائے گا۔ ایسا نہ ہوا تو انداز بدل گئے اور جمہوریت کا علم تھام لیا۔ 2013 ءکے انتخابات نواز شریف نے سویپ کیے، کم از کم پنج� [..]مزید پڑھیں

  • مسئلہ سیاست کو تائب کرنا نہیں

    سیاست بیچاری تو تائب ہو چکی۔ سابق حکمرانوں کا حال اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ کچھ کہنے کے قابل نہیں رہے۔ مسئلہ معیشت کو تائب کرنا ہے۔ اس بارے میں لگتا ہے ہمارے موجودہ حکمرانوں کے پاس کچھ زیادہ سوچ نہیں۔ ٹامک ٹوئیوں سے کام چلا رہے ہیں لیکن جسے کہتے ہیں کوئی ہمہ گیر ایجنڈا وہ ان کے [..]مزید پڑھیں

  • دنیا کو تھوڑا آہستہ ہونے کی ضرورت تھی

    اس میں تو اب کوئی دو آرا نہیں ہونی چاہئیں کہ انسان دھرتی پہ بوجھ بن چکا ہے۔ ایک تو ہماری تعداد بہت ہو گئی ہے۔ پھر جو ترقی کا ماڈل ساری دنیا میں رائج ہے اس کو کرۂ ارض پتا نہیں کب تک برداشت کر سکے گا۔ کتنا دھواں ہوا میں پھینکا جا سکتا ہے؟ سمندروں کی کتنی تباہی کی جا سکتی ہے؟ ماحول � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • پی ٹی آئی کے دور میں مسئلہ بقا کا ہے

    بقا یعنی جسے انگریزی میں کہتے ہیں survival۔ بہت سے دوست اور مہربان ابھی تک اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ حالات خراب تو ہیں لیکن ٹھیک ہو جائیں گے۔ اُمید کی شمعیں اُن کی اب تک جل رہی ہیں حالانکہ لگتا یوں ہے کہ حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہوں گے۔ جب اتنی معاشی بد حالی ہو جائے جسا [..]مزید پڑھیں

  • قائداعظم پہ جسونت سنگھ کی کتاب

    اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں جسونت سنگھ ہندوستان کے وزیر خارجہ تھے۔ جب نریندر مودی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر بن کے اُبھرے، جسونت سنگھ سے اُن کی بن نہ پائی۔ پچھلے انتخابات میں انہیں بی جے پی کا ٹکٹ نہ دیا گیا اور انہوں نے سیاست سے تقریباً کنارہ کشی اختیار کر لی۔ منصبِ وزارت [..]مزید پڑھیں

  • ایران، سعودی عرب، امریکا اور پدّی کا شوربہ

    جس دن امریکی وزیر دفاع نے ہمارے سپہ سالار کو ٹیلی فون کیا اُسی دن وزیر اعظم عمران خان اسلام آباد میں ایک یوٹیلٹی سٹور کا دورہ کر رہے تھے۔ اُسی دن ایرانی سفیر بھی فوج کے سربراہ سے ملے۔ یہ رہا ہمارے حکومتی بندوبست کا اصل چہرہ، کہ کون کس کام پہ لگا ہوا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کے قت� [..]مزید پڑھیں

  • محتاجی اپنی جگہ لیکن اتنی بھی کیا؟

    ہم اِس تنازعے میں فریق نہیں بنیں گے۔ آپ سے کس نے کہا کہ فریق بنیں؟ پاکستانی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ کس نے کہا ہے کہ پاکستانی سرزمین استعمال کرنی ہے؟ ایران پہ حملے کے لئے امریکا کو پاکستانی سرزمین کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ امریکی فوجیں کویت سے لے کر قطر تک تعینا [..]مزید پڑھیں

  • امریکا یا چین: پاکستان کا مستقبل کس سے جڑا ہوا ہے؟

    پاکستان کی اچھی خاصی دوستی امریکا کے ساتھ رہی ہے لیکن وہ دوستی ہمیں سنوار نہ سکی۔ ہماری چین سے دوستی بہت گہری ہے لیکن یہ دوستی بھی ہمارا مستقبل سنوار نہیں سکتی۔ جاپان اپنی کوششوں سے جاپان ہے۔ جنوبی کوریا کا بھی یہی حال ہے۔ دوستی ہماری ہر ایک کے ساتھ ہونی چاہیے… امریکا، چین [..]مزید پڑھیں

  • روحانیت کے مسائل

    ہمارا بھی کوئی جواب نہیں۔ دنیاوی مسائل ہم سے حل ہو نہیں پاتے لیکن آسمانی معاملات حل کرنے کے لئے بے تاب رہتے ہیں۔ پہلے ہی معاشرہ فرسودہ خیالات میں جکڑا ہوا ہے۔ سوچ پہ قدغنیں لگی ہوئی ہیں ۔ سمجھنے سے ہم قاصر ہیں کہ ترقی یافتہ دنیا کی ترقی کا راز کیا ہے اور جس مقام پہ وہ دنیا پہنچی [..]مزید پڑھیں

  • بات جو سمجھ نہیں آتی

    پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے خلاف تمام لگائے گئے الزامات درست ہوں گے۔ انہیں واقعی بیرونی ذرائع سے پیسے ملے ہوں گے۔ یہ بھی مان لیا جائے کہ یہ تنظیم کسی بیرونی ایجنڈے پہ کام کر رہی ہے۔ لیکن ایک بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس تنظیم کے قیام کا محرک نوجوان نقیب اللہ محسود ک� [..]مزید پڑھیں