ایاز امیر

  • دیکھ موسم کہاں جا رہا ہے

    مملکتِ خداداد کے اکابرینِ کرام یہ بات ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں کہ اس وقت جب گرمی جوبن پر ہے۔ پاکستان کا موسم برطانیہ، جرمنی،فرانس، اٹلی اور سپین سے بہتر ہے۔ پنجابی کے لحاظ سے یہ ہاڑ کا مہینہ ہے جو سب سے گرم مہینہ تصور کیا جاتا ہے۔ جیٹھ ہاڑ کی گرمی اور پھر ساون کی بارشیں جن سے [..]مزید پڑھیں

  • تاریخ یہاں کون سی پڑھائی جاتی ہے

    اس تاریخ میں اتنا تو لکھنا چاہیے کہ پہلی جنگ عظیم میں ہندوستان سے تقریباً ساڑھے چھ لاکھ فوجی برطانوی سامراج کے جھنڈے تلے برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ اس تعداد میں سے بھاری اکثریت پنجاب سے تھی، ہندو، سکھ، ڈوگرے اور مسلمان۔ سبھی نے برطانوی وردی پہنی۔  کسی ہندوستانی لیڈر � [..]مزید پڑھیں

  • پذیرائی ہوگئی اب آگے کی سوچیں

    بہت کچھ باقی ہے لیکن شروع کا معاہدہ تو ہو گیا۔ اس ضمن میں امریکی صدر پاکستان اور اس کی قیادت کا بارہا ذکر کر چکے ہیں۔ پاکستان کا بہت اچھا کردار رہا لیکن اسی کو سمیٹ کے تو نہیں بیٹھ جانا۔ ہمارے اپنے جھمیلے بہت ہیں، ان کے بارے میں کچھ غور و فکر ہونا چاہیے۔  مسائل کی بحث میں جانے [..]مزید پڑھیں

loading...
  • افسانہ نگاری اہلِ کرم کی

    ایک بات طے سمجھنی چاہیے کہ افسانہ نگاری کا کوئی ایوارڈ ہو تو پنجاب سی سی ڈی کھلے عام جیت جائے۔ کوئی دن نہیں جاتا جب اس ادارے کے افسانے خبروں کی زینت نہ بنیں۔ کہانی وہی مقابلے یا انکاؤٹر کی۔ یا تو کہیں جا رہے تھے اور مقابلہ ہو گیا یا کسی مجرم کو چھڑانے اُس کے ساتھی آئے، کراس فائ� [..]مزید پڑھیں

  • زبانِ ترش کا مقصد بھی کچھ ہو

    ہمسائے ہمارے چار ہیں لیکن بڑے ہمسائے دو ہی ہیں: ہندوستان اور افغانستان۔ دونوں سے معاملات خراب ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جاتا کہ مزید خراب نہ ہوں۔ ہمسایوں میں ہونا تو یہ چاہیے کہ مسئلے مسائل ہوں بھی تو کوشش ہو کہ حالات میں بہتری آئے۔ بھاری  الفاظ اور الجھا ہوا لہجہ است� [..]مزید پڑھیں

  • جہاں بات بنائے نہ بنے

    بات کیا بنے جب احتیاط لازم ہو جائے اور سیدھی بات کہنا اتنا آسان نہ رہے۔ لیکن کیا کیا جائے ماحول ہی کچھ ایسا ہے جس کا مرکزی جزو احتیاط ہے۔ ایسے میں بات گول مول ہی ہو سکتی ہے،اشارے کنائیوں میں، الفاظ کے چناؤ سے۔ مختلف محاذوں پر جنگ جرمنی کیلئے مشکل تھی۔ افغانستان پر حملہ کرتے [..]مزید پڑھیں

  • سکیورٹی معاملات پر بھی نظر رکھی جائے

    سفارتی کوششوں کی وجہ سے بَلے بَلے ہوئی لیکن بنیادی مسائل ہمارے جوں کے توں ہیں۔ معاشی صورتحال تو خراب ہے ہی اور اس میں بہتری کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی لیکن مغربی سرحد پر جو گڑبڑ کی کیفیت ہے اس پر بھی تشویش ہونی چاہیے۔ پوری خبریں آتی نہیں اور اس کی وجہ ہم سب کو پتا ہے لیکن خب� [..]مزید پڑھیں

  • نپولین اور ہٹلر کی کہانی دہرائی جا رہی ہے

    ڈونلڈ ٹرمپ، نپولین یا ہٹلر کے پائے کا لیڈر نہیں لیکن شکست وریخت کی وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ ان جیسے لیڈروں کا المیہ یہ ہے کہ اپنی طاقت کی حد بھول جاتے ہیں اور اُنہیں یہ سمجھ نہیں رہتی کہ کہاں جا کے رکنا چاہیے۔  1812 تک نپولین یورپ کا بادشاہ تھا۔ سوائے انگلستان کے باقی یورپ ا [..]مزید پڑھیں

  • لے دے کے ڈھنگ کے دو کام ہی ہوئے

    پہلا تھا چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اور اس میں ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اتنا نہیں تھا جتنا کہ ایک شخص کا، ذوالفقار علی بھٹو۔ باقی حکومت اور کابینہ اُس وقت کی امریکہ نواز تھی اور چین سے کوئی اتنا لگاؤ نہیں تھا۔ بھٹو کی سوچ مختلف تھی اور چین کی اہمیت کا احساس وہ دلواتے ر [..]مزید پڑھیں

  • سلگتے ارمان اپنے بھی تو ہیں

    غیروں کے لیے کاوشیں بجا اور ان میں ہم نے خوب کردار نبھایا۔ ان کاوشوں کے لیے داد ملی اور سمیٹی گئی۔ ہم پھولے نہیں سمائے اور ظاہر ہے اُس کی وجہ بھی تھی۔ لیکن ان کاموں میں توانائیاں اتنی صرف ہوئیں کہ ذہن سے یہ خیال قدرے اوجھل ہو گیا کہ ارمان اپنے بھی تو ہیں۔ اوروں کے غمگسار تو ہوئ� [..]مزید پڑھیں