ایاز امیر

  • بیکار کے دن

    جوانی کا ایک منظر ہے جو کبھی ذہن سے فراموش نہیں ہوا۔ لارنس کالج کے ماحول سے نکلے تو کوئی آدھا سال گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم رہے۔ لاہور کے مال پر وائے ایم سی اے ہاسٹل اُس زمانے میں بڑا اچھا سمجھا جاتا تھا۔ قیام وہاں تھا اور شام کو الفلاح کی طرف سیر کرنے نکلتے۔ لاہور کا ماح [..]مزید پڑھیں

  • اس ہر دلعزیزی سے حاصل کیا ہونا ہے

    ہماری خاصیت رہی ہے معمولی باتوں پر اِترا جانا۔ ہمارا پروفائل اونچا ہو گیا شکر ہے۔ لیکن پٹرول کی ٹینکی میں تو پروفائل جاتا نہیں۔ تیل کی قیمتوں نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ہم پٹرول کو رو رہے ہیں، کسان بے چارہ ٹریکٹر اور ڈیزل کا کون سا نوحہ پڑھے؟ فی الحال تو امریکہ دوستی اور جواہرِس [..]مزید پڑھیں

  • سیاست کا جنازہ

    ایک طرف معرکۂ حق اور دوسری طرف ایران جنگ میں ثالثی کے درجات، ان دونوں عوامل کے بیچ میں ریاستی حاکمیت کا رعب و دبدبہ بڑھ گیا ہے اور روایتی سیاست کا حشر ہو گیا ہے۔ بڑے بڑے پھنے خانوں کے زمانوں میں کسی نہ کسی صورت سیاست زندہ رہتی تھی۔ اقتدار کی سختی کے باوجود اپوزیشن کی سیاست چلتی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مرنا ایران کو تھا پھنس امریکہ گیا

    مسئلہ یہ نہیں رہا کہ ایران کو کیسے شکست ہو اور امریکی مطالبات کے سامنے وہ کیسے سرنگوں ہو۔ مسئلہ اب یہ بن پڑا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس بیوقوفی سے کیسے نکالا جائے۔ چلے تھے ایران کو تباہ کرنے اور پھنس گئےاس بری طرح کہ نکلنے کا راستہ نظر نہیں آ رہا۔  آئے روز صدارتی محل سے لایعنی با� [..]مزید پڑھیں

  • مہنگائی کے دور میں جینے کے انداز

    ہمارے بڑے سیاست اور کاروبار دونوں کرتے تھے۔ کاروبار میں آڑھت کا کام تھا اور کاروباری ذہن خوب رکھتے تھے۔ اس کے برعکس ہم مکمل نکمے ٹھہرے۔ کاروباری ذہن تو بالکل ہی نہیں رہا ۔کوئی ہمیں چلتی ہوئی فیکٹری بھی دے دیتا تو تھوڑے ہی عرصے میں تباہی کے دہانے پر اُسے پہنچا دیتے۔ کچھ تو کت [..]مزید پڑھیں

  • ثالثی اور سفارتکاری کے نئے تقاضے

    ایک بات ہم پاکستانیوں کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ ایرانیوں نے جو مذاکرات بھی کرنے ہیں اپنی مرضی سے کریں گے، کسی کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے۔ جو نئی تجویز وہ پیش کر رہے ہیں اُس کے تحت جنگ بندی مستقل بنیادوں پر پہلے ہو ، امن قائم رکھنے کی ضمانت ہو اور جوہری مسئلے پر مذاکرات بعد میں ہ� [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کا سماجی ماحول اب بدلیے

    وہ پارسائی کون سی تھی جو ضیا الحق کے دور میں اس بدقسمت معاشرے پر ٹھونسی گئی؟ جنرل صاحب کو گئے 38سال ہو گئے لیکن ان کی زبردستی کی پارسائی کے اثرات پاکستان سے نہ مٹ سکے۔ یہاں نیکی نہیں پھیلی نہ انصاف کا بول بالا ہوا ،بس فرضی اور ظاہری اعتبار سے پارسائی کا ڈھنڈورا۔ جس کا سب سے بڑا � [..]مزید پڑھیں

  • پیغام رسانی کافی نہیں

    اب تک جو پاکستان نے کیا ،حالات کے مطابق وہی مناسب تھا لیکن اس لمحے سے آگے پاکستان کو پیغام رسانی سے کچھ آگے جانا چاہیے۔ اِس وقت امریکہ کو صاف بتانے کی ضرورت ہے کہ جو زور زبردستی والا رویہ اُس نے اپنایا ہوا ہے اُس سے کام نہیں چلے گا۔ امریکہ عقل کی بات تو کر نہیں رہا، وہ ایران ک [..]مزید پڑھیں

  • فی الحال اسی پر گزارا کریں

    مذاکرات کے حوالے سے پوری دنیا میں پاکستان کا ڈنکا خوب بجا ہے اور فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی پذیرائی ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ تو اچھے لفظوں میں ذکر کرتے ہی ہیں، اوروں نے بھی کیا ہے۔ یہ ہمارے لیے باعث ِفخر ہے اور پاکستان کی سفارتی کارکردگی دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔ باقی مسائل اپنی جگہ ہی [..]مزید پڑھیں

  • فینٹا کا حشر جو خود امریکہ میں ہو رہا ہے

    جان سٹیورٹ امریکہ میں مشہور ٹی وی اینکر ہے۔ لیٹ نائٹ شو اس کا ہوتا ہے اور تمسخر اڑاتے ہوئے بڑی سنجیدہ باتیں کہہ جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو وہ شاید بالوں کی نسبت سے اورنج فینٹا کہتا ہے۔ صرف جان سٹیورٹ ہی نہیں کتنے ہی پوڈ کاسٹ ہیں جو ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ اور اُن کی حرکتوں کا باری [..]مزید پڑھیں