ایاز امیر

  • امریکہ کو مروڑ پڑ رہے ہیں

    مروڑ اس لیے کہ ایران گھٹنے نہیں ٹیک رہا،امریکہ کے سامنے لیٹ نہیں رہا، امریکہ کی ہر لایعنی بات کو مان نہیں رہا۔ اس لیے وہ نادر شخصیت جو وائٹ ہاؤس میں براجمان ہے ، دانت پیس رہی ہے۔ اس کا بس نہیں چل رہا نہیں کہ ایران کو نیست و نابود کردے۔ اسرائیل کی کیا بات کرنا وہ تو شرارت پہ تلا [..]مزید پڑھیں

  • محترمہ کی ادا جو اچھی لگی

    اپنے بارے میں یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ دھر لیے جائیں اور 48 یا 72 گھنٹے زیر حراست رہیں تو کوئی بھی بیان دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ سفید کاغذ ہمارے سامنے رکھنے کی دیر ہو اور فوراً سے پہلے ہم دستخط کر دیں۔ یہ اس لیے کہہ رہے ہیں کہ اپنی ہمت کا اندازہ ہے۔  اس لیے حیرانی ہوئی یہ دیکھ ک� [..]مزید پڑھیں

  • بیکار کے دن

    جوانی کا ایک منظر ہے جو کبھی ذہن سے فراموش نہیں ہوا۔ لارنس کالج کے ماحول سے نکلے تو کوئی آدھا سال گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم رہے۔ لاہور کے مال پر وائے ایم سی اے ہاسٹل اُس زمانے میں بڑا اچھا سمجھا جاتا تھا۔ قیام وہاں تھا اور شام کو الفلاح کی طرف سیر کرنے نکلتے۔ لاہور کا ماح [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اس ہر دلعزیزی سے حاصل کیا ہونا ہے

    ہماری خاصیت رہی ہے معمولی باتوں پر اِترا جانا۔ ہمارا پروفائل اونچا ہو گیا شکر ہے۔ لیکن پٹرول کی ٹینکی میں تو پروفائل جاتا نہیں۔ تیل کی قیمتوں نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ہم پٹرول کو رو رہے ہیں، کسان بے چارہ ٹریکٹر اور ڈیزل کا کون سا نوحہ پڑھے؟ فی الحال تو امریکہ دوستی اور جواہرِس [..]مزید پڑھیں

  • سیاست کا جنازہ

    ایک طرف معرکۂ حق اور دوسری طرف ایران جنگ میں ثالثی کے درجات، ان دونوں عوامل کے بیچ میں ریاستی حاکمیت کا رعب و دبدبہ بڑھ گیا ہے اور روایتی سیاست کا حشر ہو گیا ہے۔ بڑے بڑے پھنے خانوں کے زمانوں میں کسی نہ کسی صورت سیاست زندہ رہتی تھی۔ اقتدار کی سختی کے باوجود اپوزیشن کی سیاست چلتی [..]مزید پڑھیں

  • مرنا ایران کو تھا پھنس امریکہ گیا

    مسئلہ یہ نہیں رہا کہ ایران کو کیسے شکست ہو اور امریکی مطالبات کے سامنے وہ کیسے سرنگوں ہو۔ مسئلہ اب یہ بن پڑا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس بیوقوفی سے کیسے نکالا جائے۔ چلے تھے ایران کو تباہ کرنے اور پھنس گئےاس بری طرح کہ نکلنے کا راستہ نظر نہیں آ رہا۔  آئے روز صدارتی محل سے لایعنی با� [..]مزید پڑھیں

  • مہنگائی کے دور میں جینے کے انداز

    ہمارے بڑے سیاست اور کاروبار دونوں کرتے تھے۔ کاروبار میں آڑھت کا کام تھا اور کاروباری ذہن خوب رکھتے تھے۔ اس کے برعکس ہم مکمل نکمے ٹھہرے۔ کاروباری ذہن تو بالکل ہی نہیں رہا ۔کوئی ہمیں چلتی ہوئی فیکٹری بھی دے دیتا تو تھوڑے ہی عرصے میں تباہی کے دہانے پر اُسے پہنچا دیتے۔ کچھ تو کت [..]مزید پڑھیں

  • ثالثی اور سفارتکاری کے نئے تقاضے

    ایک بات ہم پاکستانیوں کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ ایرانیوں نے جو مذاکرات بھی کرنے ہیں اپنی مرضی سے کریں گے، کسی کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے۔ جو نئی تجویز وہ پیش کر رہے ہیں اُس کے تحت جنگ بندی مستقل بنیادوں پر پہلے ہو ، امن قائم رکھنے کی ضمانت ہو اور جوہری مسئلے پر مذاکرات بعد میں ہ� [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کا سماجی ماحول اب بدلیے

    وہ پارسائی کون سی تھی جو ضیا الحق کے دور میں اس بدقسمت معاشرے پر ٹھونسی گئی؟ جنرل صاحب کو گئے 38سال ہو گئے لیکن ان کی زبردستی کی پارسائی کے اثرات پاکستان سے نہ مٹ سکے۔ یہاں نیکی نہیں پھیلی نہ انصاف کا بول بالا ہوا ،بس فرضی اور ظاہری اعتبار سے پارسائی کا ڈھنڈورا۔ جس کا سب سے بڑا � [..]مزید پڑھیں

  • پیغام رسانی کافی نہیں

    اب تک جو پاکستان نے کیا ،حالات کے مطابق وہی مناسب تھا لیکن اس لمحے سے آگے پاکستان کو پیغام رسانی سے کچھ آگے جانا چاہیے۔ اِس وقت امریکہ کو صاف بتانے کی ضرورت ہے کہ جو زور زبردستی والا رویہ اُس نے اپنایا ہوا ہے اُس سے کام نہیں چلے گا۔ امریکہ عقل کی بات تو کر نہیں رہا، وہ ایران ک [..]مزید پڑھیں