ایاز امیر

  • کس چراغ کے گرد زمانہ گھومے ہے

    عقیدے یا نظریے کی بات نہیں، حقیقت کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک چیز دیکھ رہے ہیں۔ مدتِ قید اڑھائی سال سے زیادہ ہو چلی ہے۔ زبردستی کے زمرے میں کون سے ہتھکنڈے نہیں آزمائے گئے ۔جماعت کو دیوار سے لگانے اور نام اور تصور کو عوامی ذہن سے مٹانے کیلئے۔  لیکن غیر جانداری سے دیکھیں تو نظ [..]مزید پڑھیں

  • اصل گناہ کیا ہے

    کچھ باتیں سمجھنے کیلئے دستورِ زمانہ یاد رکھنا پڑتا ہے کہ کواکب ہوتے کچھ ہیں اور نظر کچھ اور آتے ہیں۔ الفاظ کا پردہ ہوتا ہے اور اُس کے پیچھے کچھ اور۔  بھٹو تختۂ دار پر چڑھا تو اُس کی وجہ نواب محمد احمد خان کا قتل نہیں تھا۔ جنرل ضیا الحق کی آنکھ میں بھٹو کھٹکتا تھا اور ضیا ک� [..]مزید پڑھیں

  • اک تماشا جو لگا ہوا ہے

    یہ تماشا مضحکہ خیز حد تک پہنچ چکا ہے۔ تمام توپیں ایک نشانے پر مرکوز ہیں۔ لگتا ہے ایک ہی کام رہ گیا ہے کہ ایک لیڈر اور اس کی جماعت کو دن رات مطعون کیا جائے۔ وزیر آپے سے باہر ہو رہے ہیں۔ ہرکاروں کا یہ عالم کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ دشنام طرازی کو کہاں تک لے جایا جائے۔ ایک وزیر � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ذکر اُس کا اور اضطراب اپنا

    وہ شخص اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے، وہ ہے کون۔ ذہنیت اُس کی ڈیلوینل یعنی کھچکی ہوئی ہے‘،اپنی ذات کو پاکستان سے زیادہ سمجھتا ہے۔ اُس کے بارے میں اب واضح طور پر کہنا پڑے گا کہ وہ قومی سیکورٹی کے لیے ایک اندرونی خطرہ بن چکا ہے۔ کوئی تذکرہ نہیں کہ وہ بیٹھا کہاں ہے اور اُس کے اور اُ� [..]مزید پڑھیں

  • گھبراہٹ کا ہے کی؟

    ہماری سیاسی زندگی میں تماشے ہی لگے رہتے ہیں۔ تمام احتیاط کر لی گئی، قوانین میں ناقابلِ تصور تبدیلیاں کر دی گئیں،ایسے میں تو اعتماد بڑھنا چاہیے۔ چھوٹی موٹی چیزوں کا پریشر ذہن پر سوار نہیں رہنا چاہیےلیکن یہاں صورتحال یہی ہے، ارتکازِ اختیار اتنا کہ ہماری تاریخ میں مثال نہیں ملت� [..]مزید پڑھیں

  • اب شانت ہو کر سو جائیں

    وطنِ عزیز کی خوش نصیبی جانیے کہ تمام مسائل سیاسی اور غیر سیاسی،یکسر حل ہو گئے ہیں۔ محکمانہ تقرری کا مسئلہ ایک دردِ سر رہتا تھا ۔وہ اس طریقے سے حل ہو گیا ہے کہ اگلے دس سال کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ 2025 ختم ہونے کو ہے اور اگلے پانچ سال کسی حکم نامے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ [..]مزید پڑھیں

  • بے قراری جب کم ہونے لگے

    زندگی یوں گزری کہ چین کہیں نہ آیا۔ کبھی ایک چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں کبھی کوئی تڑپ ستا رہی ہے۔ کچھ حاصل ہو بھی گیا تو دل میں نئے ارمان سلگنے لگے۔ فوج میں دن گزرے، تھوڑی بہت سفارتکاری کی۔ جوانی میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے بے روزگاری کا لطف اُٹھایا۔ بے کار طبیعت صحافت کی طرف مائل ہ� [..]مزید پڑھیں

  • سیاست کے علاوہ زندگی میں بہت کچھ ہے

    سیاست تو واقعی ختم ہے اور یہ ہائبرڈ والوں کا کرنا ہے۔ پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی جاری ہے لیکن سیاست کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ بہرحال اس امر کو صحیح زاویے میں دیکھنا چاہیے۔  چین میں کون سی سیاست ہے، روس میں ہماری جیسی روایتی سیاست کہاں ہے۔ لیکن ان ممالک میں سیاست کے [..]مزید پڑھیں

  • جادو ٹونے کا پورا احاطہ نہیں ہوا

    برطانوی جریدے اکانومسٹ نے جادوٹونے کی پرانی کہانیاں سمیٹ کے ایک مضمون لکھ ڈالا جس کا تھوڑا بہت چرچا ہمارے دیس میں ہوا۔ ایسی کہانیاں کہ کالے بکرے ذبح کیے جاتے تھے اور حساب کتاب کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تھا۔ سرکار کے قریب ہرکاروں نے مضمون کو خوب اُچھالنے کی کوشش کی لیکن می� [..]مزید پڑھیں

  • ضمانت تو ہمیں بھی درکار ہے

    ایک ضمانت نہیں، کئی ہوں تو بات بنے۔ عمر کا کافی عرصہ بیت چکا ہے لیکن اس دنیا سے رخصت ہونے کا جی نہیں کرتا۔ عمرِ خضر کی ضمانت نہ بھی ہو کہیں سے کچھ یقین تو آئے کہ اتنے سال اور جئیں گے۔  ویسے بھی عمر بیکار کی گزری ہے، راہ پر آنے کے لیے ایک اور عمر تو درکار ہو گی۔ وہی بات کہ آ ہی [..]مزید پڑھیں