ایاز امیر

  • ہماری نہ سنئے اوروں کی سن لیجئے

    ہم گناہگارو ں کی بات کس نے سننی ہے لیکن جب اسی ادارتی صفحے پر لکھنے والے ہمارے کولیگ خورشید ندیم جو بہت معاملہ فہم انسان ہیں، کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ ملک میں ایک ہی ذکر یعنی ذکرِ عمران رہ گیا ہے جس میں لوگوں کی دلچسپی ہے تو مملکتِ خداداد کے تمام حلقوں کو بات سمجھ جانی چاہیے کہ م [..]مزید پڑھیں

  • پسِ زنداں حقیقت اور پریشانی لاعلاج

    ساڑھے تین سال سے زائد عرصہ ان ہائبرڈ والوں کا ہو چلا ہے اور پریشانی ختم نہیں ہو رہی۔ پسِ زنداں تو کر دیا لیکن اعصاب پر ایک بوجھ سوار جس کا علاج ان کے ہاتھ نہیں آ رہا۔ تین سال میں تو نپولین اور ہٹلر نے یورپ پر اپنا تسلط قائم کر لیا تھا۔ ان سے کوئی پوچھے کہ جب سے رجیم چینج کا تماش� [..]مزید پڑھیں

  • شبِ نیا سال

    ہماری ہر دلعزیز طلبہ تنظیم جو اپنی زورآوری کے لیے مشہور رہی، اپنا فرضِ اولیٰ سمجھتی تھی کہ نیا سال آیا نہیں اور بڑے ہوٹلوں کے سامنے پہرہ دینا شروع کر دیا کہ کہیں نئے سال کی خوشی میں کوئی تقریب منعقد نہ ہو جائے۔ کئی دفعہ ایسے بھی ہوتا کہ جوشِ جنون میں ڈنڈے چل جاتے اور اکابرین [..]مزید پڑھیں

loading...
  • نیا سال پرانی اُمنگیں

    یہ ملک سیاسی پیداوار تھا یعنی ایک سیاسی عمل کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا۔ لیکن 78 سال میں سیاست کا یہاں سے جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ کمال مہارت سے سیاست یہاں ختم کر دی گئی، پیچھے رہ گئی ہے مدح سرائی اور بات بات پر تعظیم بجا لانا ۔  اس میں ماننا پڑے گا کہ (ن) لیگ کے کارندے،  ہ� [..]مزید پڑھیں

  • اُلفت کے راستے

    اس بار بڑی بیکار کی سردی پڑ رہی ہے،بارش ہوئی نہیں اور ہر طرف سوکھا پن ہے جس سے نزلہ زکام آدھی آبادی کو لگا ہوا ہے۔ موسم والوں نے نوید سنائی ہے کہ بارش ہو گی لیکن وہ اتنی بار کھوکھلے فائر کر چکے ہیں کہ ان کی بات پر یقین نہیں رہا۔ بہرحال دعا ہی کر سکتے ہیں کہ آسمان کچھ رحم کرے ا� [..]مزید پڑھیں

  • کس چراغ کے گرد زمانہ گھومے ہے

    عقیدے یا نظریے کی بات نہیں، حقیقت کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک چیز دیکھ رہے ہیں۔ مدتِ قید اڑھائی سال سے زیادہ ہو چلی ہے۔ زبردستی کے زمرے میں کون سے ہتھکنڈے نہیں آزمائے گئے ۔جماعت کو دیوار سے لگانے اور نام اور تصور کو عوامی ذہن سے مٹانے کیلئے۔  لیکن غیر جانداری سے دیکھیں تو نظ [..]مزید پڑھیں

  • اصل گناہ کیا ہے

    کچھ باتیں سمجھنے کیلئے دستورِ زمانہ یاد رکھنا پڑتا ہے کہ کواکب ہوتے کچھ ہیں اور نظر کچھ اور آتے ہیں۔ الفاظ کا پردہ ہوتا ہے اور اُس کے پیچھے کچھ اور۔  بھٹو تختۂ دار پر چڑھا تو اُس کی وجہ نواب محمد احمد خان کا قتل نہیں تھا۔ جنرل ضیا الحق کی آنکھ میں بھٹو کھٹکتا تھا اور ضیا ک� [..]مزید پڑھیں

  • اک تماشا جو لگا ہوا ہے

    یہ تماشا مضحکہ خیز حد تک پہنچ چکا ہے۔ تمام توپیں ایک نشانے پر مرکوز ہیں۔ لگتا ہے ایک ہی کام رہ گیا ہے کہ ایک لیڈر اور اس کی جماعت کو دن رات مطعون کیا جائے۔ وزیر آپے سے باہر ہو رہے ہیں۔ ہرکاروں کا یہ عالم کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ دشنام طرازی کو کہاں تک لے جایا جائے۔ ایک وزیر � [..]مزید پڑھیں

  • ذکر اُس کا اور اضطراب اپنا

    وہ شخص اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے، وہ ہے کون۔ ذہنیت اُس کی ڈیلوینل یعنی کھچکی ہوئی ہے‘،اپنی ذات کو پاکستان سے زیادہ سمجھتا ہے۔ اُس کے بارے میں اب واضح طور پر کہنا پڑے گا کہ وہ قومی سیکورٹی کے لیے ایک اندرونی خطرہ بن چکا ہے۔ کوئی تذکرہ نہیں کہ وہ بیٹھا کہاں ہے اور اُس کے اور اُ� [..]مزید پڑھیں

  • گھبراہٹ کا ہے کی؟

    ہماری سیاسی زندگی میں تماشے ہی لگے رہتے ہیں۔ تمام احتیاط کر لی گئی، قوانین میں ناقابلِ تصور تبدیلیاں کر دی گئیں،ایسے میں تو اعتماد بڑھنا چاہیے۔ چھوٹی موٹی چیزوں کا پریشر ذہن پر سوار نہیں رہنا چاہیےلیکن یہاں صورتحال یہی ہے، ارتکازِ اختیار اتنا کہ ہماری تاریخ میں مثال نہیں ملت� [..]مزید پڑھیں