ایاز امیر

  • نپولین اور ہٹلر کی کہانی دہرائی جا رہی ہے

    ڈونلڈ ٹرمپ، نپولین یا ہٹلر کے پائے کا لیڈر نہیں لیکن شکست وریخت کی وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ ان جیسے لیڈروں کا المیہ یہ ہے کہ اپنی طاقت کی حد بھول جاتے ہیں اور اُنہیں یہ سمجھ نہیں رہتی کہ کہاں جا کے رکنا چاہیے۔  1812 تک نپولین یورپ کا بادشاہ تھا۔ سوائے انگلستان کے باقی یورپ ا [..]مزید پڑھیں

  • لے دے کے ڈھنگ کے دو کام ہی ہوئے

    پہلا تھا چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اور اس میں ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اتنا نہیں تھا جتنا کہ ایک شخص کا، ذوالفقار علی بھٹو۔ باقی حکومت اور کابینہ اُس وقت کی امریکہ نواز تھی اور چین سے کوئی اتنا لگاؤ نہیں تھا۔ بھٹو کی سوچ مختلف تھی اور چین کی اہمیت کا احساس وہ دلواتے ر [..]مزید پڑھیں

  • سلگتے ارمان اپنے بھی تو ہیں

    غیروں کے لیے کاوشیں بجا اور ان میں ہم نے خوب کردار نبھایا۔ ان کاوشوں کے لیے داد ملی اور سمیٹی گئی۔ ہم پھولے نہیں سمائے اور ظاہر ہے اُس کی وجہ بھی تھی۔ لیکن ان کاموں میں توانائیاں اتنی صرف ہوئیں کہ ذہن سے یہ خیال قدرے اوجھل ہو گیا کہ ارمان اپنے بھی تو ہیں۔ اوروں کے غمگسار تو ہوئ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • امریکہ کو مروڑ پڑ رہے ہیں

    مروڑ اس لیے کہ ایران گھٹنے نہیں ٹیک رہا،امریکہ کے سامنے لیٹ نہیں رہا، امریکہ کی ہر لایعنی بات کو مان نہیں رہا۔ اس لیے وہ نادر شخصیت جو وائٹ ہاؤس میں براجمان ہے ، دانت پیس رہی ہے۔ اس کا بس نہیں چل رہا نہیں کہ ایران کو نیست و نابود کردے۔ اسرائیل کی کیا بات کرنا وہ تو شرارت پہ تلا [..]مزید پڑھیں

  • محترمہ کی ادا جو اچھی لگی

    اپنے بارے میں یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ دھر لیے جائیں اور 48 یا 72 گھنٹے زیر حراست رہیں تو کوئی بھی بیان دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ سفید کاغذ ہمارے سامنے رکھنے کی دیر ہو اور فوراً سے پہلے ہم دستخط کر دیں۔ یہ اس لیے کہہ رہے ہیں کہ اپنی ہمت کا اندازہ ہے۔  اس لیے حیرانی ہوئی یہ دیکھ ک� [..]مزید پڑھیں

  • بیکار کے دن

    جوانی کا ایک منظر ہے جو کبھی ذہن سے فراموش نہیں ہوا۔ لارنس کالج کے ماحول سے نکلے تو کوئی آدھا سال گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم رہے۔ لاہور کے مال پر وائے ایم سی اے ہاسٹل اُس زمانے میں بڑا اچھا سمجھا جاتا تھا۔ قیام وہاں تھا اور شام کو الفلاح کی طرف سیر کرنے نکلتے۔ لاہور کا ماح [..]مزید پڑھیں

  • اس ہر دلعزیزی سے حاصل کیا ہونا ہے

    ہماری خاصیت رہی ہے معمولی باتوں پر اِترا جانا۔ ہمارا پروفائل اونچا ہو گیا شکر ہے۔ لیکن پٹرول کی ٹینکی میں تو پروفائل جاتا نہیں۔ تیل کی قیمتوں نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ہم پٹرول کو رو رہے ہیں، کسان بے چارہ ٹریکٹر اور ڈیزل کا کون سا نوحہ پڑھے؟ فی الحال تو امریکہ دوستی اور جواہرِس [..]مزید پڑھیں

  • سیاست کا جنازہ

    ایک طرف معرکۂ حق اور دوسری طرف ایران جنگ میں ثالثی کے درجات، ان دونوں عوامل کے بیچ میں ریاستی حاکمیت کا رعب و دبدبہ بڑھ گیا ہے اور روایتی سیاست کا حشر ہو گیا ہے۔ بڑے بڑے پھنے خانوں کے زمانوں میں کسی نہ کسی صورت سیاست زندہ رہتی تھی۔ اقتدار کی سختی کے باوجود اپوزیشن کی سیاست چلتی [..]مزید پڑھیں

  • مرنا ایران کو تھا پھنس امریکہ گیا

    مسئلہ یہ نہیں رہا کہ ایران کو کیسے شکست ہو اور امریکی مطالبات کے سامنے وہ کیسے سرنگوں ہو۔ مسئلہ اب یہ بن پڑا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس بیوقوفی سے کیسے نکالا جائے۔ چلے تھے ایران کو تباہ کرنے اور پھنس گئےاس بری طرح کہ نکلنے کا راستہ نظر نہیں آ رہا۔  آئے روز صدارتی محل سے لایعنی با� [..]مزید پڑھیں

  • مہنگائی کے دور میں جینے کے انداز

    ہمارے بڑے سیاست اور کاروبار دونوں کرتے تھے۔ کاروبار میں آڑھت کا کام تھا اور کاروباری ذہن خوب رکھتے تھے۔ اس کے برعکس ہم مکمل نکمے ٹھہرے۔ کاروباری ذہن تو بالکل ہی نہیں رہا ۔کوئی ہمیں چلتی ہوئی فیکٹری بھی دے دیتا تو تھوڑے ہی عرصے میں تباہی کے دہانے پر اُسے پہنچا دیتے۔ کچھ تو کت [..]مزید پڑھیں