ایاز امیر

  • عالیجاہ، یہ تردد غیرضروری ہے

    کسی کی مجال کہ کوئی گستاخی کا مرتکب ہو۔ بس اتنی سی التجا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم جس کا مسودہ سینیٹ میں پیش ہو گیا ہے، نہایت ہی غیر ضروری عمل ہے۔قانونی ماہر تو ہم ہیں نہیں بس اتنی بات سمجھ آتی ہے کہ اس ترمیم کا ایک مقصد اعلیٰ عدلیہ یعنی سپریم کورٹ کو صحیح راستے پر ڈالنا ہے۔ [..]مزید پڑھیں

  • دو قومی نظریہ اور فکر کے دائرے

    ایک خطۂ زمین پر دو قوموں کا تشکیل پانا کوئی عجیب بات نہیں۔ اور اس امر کی بنیاد پر اس خطۂ زمین کا بٹوارا ہو جانا یہ بھی کوئی انوکھی بات نہیں۔ ایسی کتنی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ لیکن ایسی تقسیم کی بنیاد پر نفرت کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کا پیدا ہونا،یہ منفرد بات ضرور ہے۔  ب� [..]مزید پڑھیں

  • عوامی حمایت کے بغیر جنگیں لڑنا مشکل ہوتا ہے

    استنبول میں طالبان کے ساتھ مذاکرات تو ہو رہے ہیں لیکن ان سے نکلنا کچھ نہیں۔ پاکستان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ طالبان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف ایکشن لے اور اُن کی طرف سے دراندازی روکے۔ اتنی سمجھ تو ہمارے فیصلہ سازوں کو ہونی چاہیے کہ طالبان ایسا نہیں کریں گے۔ ٹی � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • عیاشی کے لمحات

    پنجابی مہینے کَتک کے بارہ دن گزر گئے اور گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔ دھوپ میں بیٹھا نہیں جاتا لیکن جو ہمارے صحن میں بیری کا درخت ہے اس کے نیچے سونے کا اپنا مزہ ہے۔ شامیں بہت ہی خوشگوار ہو گئی ہیں کیونکہ یہی دو تین ماہ ہوتے ہیں جن میں شمالی پنجاب کا موسم قاتل ہو جاتا ہے۔ اب موسم کا سماں [..]مزید پڑھیں

  • اس لڑائی سے کوئی چھٹکارا نہیں

    لڑائی اتنی طالبان سے نہیں جتنی کہ چالیس سالہ حماقتوں سے۔  اس لمبے عرصے کی حماقتوں کا ایک بوجھ پاکستان نے اٹھائے رکھا اور مزے کی بات یہ کہ اس رویے کے پیچھے ضیاالحق سے لے کے حالیہ سالوں تک مکمل اتفاقِ رائے رہاکہ یہی ٹھیک پالیسی ہے اور اسی میں پاکستان کا مفاد ہے۔  اس مؤقف سے [..]مزید پڑھیں

  • کشمیری احتجاج اور ہماری نظریاتی اساس

    کشمیری احتجاج نے ہمارے پلے کچھ نہیں چھوڑا۔ جس تصور کو نظریۂ پاکستان کہا جاتا ہے اس کے دو بنیادی ستون ہیں، ایک اسلام اور دوسرا کشمیر۔ اسلام کے نعرے لگتے رہیں گے لیکن آزاد کشمیر کے باسی احتجاج میں آزادی کا معنی ڈھونڈنے لگیں تو نظریات کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ ریاستی سوچ کی � [..]مزید پڑھیں

  • واشنگٹن کی تھپکی متعدد بار دیکھی

    دشمن کو رہنے دیجئے جتایا تو ہمیں جاتا ہے کہ دیکھو واشنگٹن سے ہماری یاری ہو گئی۔ یاری کیا ہوئی دنیاکے تمام مسائل حل ہو گئے اور مملکت کی بخشش بھی ہو گئی۔ پہلے فیلڈ مارشل یعنی ایوب خان جب دورے پہ گئے تھے تو مسز جیکولین کینیڈی کے ساتھ گھڑ سواری کی تصویریں ہمیں یاد ہیں۔ دوسری بار ا� [..]مزید پڑھیں

  • چکوال کے تاریخی چھپڑ بازار پر حملے کی تیاریاں

    جو یہاں آتا ہے چکوال کے پرانے چھپڑ بازار پر چڑھ دوڑنے کی سوچتا ہے۔ مشرف دور میں ایک سرکاری دستہ یہاں تعینات ہوا۔ ایک اچھا کام اس کی وساطت سے یہ ہوا کہ چکوال کی بڑی سڑکوں پر روشنی کے نظام کا بندوبست ہو گیا۔ شہر میں رات کی آدھی رونق ان لائٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لیکن اس دستے میں ی [..]مزید پڑھیں

  • تین کہانیاں سینے میں لپٹیں

    1990 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت برخاست ہوئی تو صدر غلام اسحق خان اور جنرل اسلم بیگ کا سارا زور پیپلز پارٹی کے خلاف تھا۔ محترمہ پر مقدمات بنے اورہراساں کرنے کے تمام ہتھکنڈے آزمائے گئے۔ ایک پیشی راولپنڈی ہوتی تو دوسری اگلے روز لاہور یا کراچی میں۔  ایک موقع ایسا بھی تھا کہ محترم [..]مزید پڑھیں

  • بغض پالنے کا بھی اسلوب ہونا چاہیے

    حکومت جیسی بھی ہو، کیوں نہ پرلے درجے کے بیوقوف لوگوں پر مشتمل ہو، اُسے بندھے بندھائے گماشتے مل ہی جاتے ہیں۔ ایسے فنکار قسم کے لوگ جو اپنی آسمانی ڈیوٹی سمجھتے ہیں کہ حکومتِ وقت کی مدح سرائی میں لگ جائیں اور جو اُس حکومت کے مخالف ہو اُس کے پیچھے لگ جائیں۔ یہ ایک قسم کا قدرتی ام� [..]مزید پڑھیں