ایاز امیر

  • آہنی دوست چین سے ہی کچھ سیکھ لیں

    امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات میں کچھ دراڑ پڑی تو چین نے دیر نہ لگائی ہندوستان کی طرف قدم بڑھانے کی۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی دہلی آئے اور گو اُس کے بعد اسلام آباد بھی آئے لیکن اُن کے ہندوستان جانے سے یہاں کچھ بخار سا چڑھ گیا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ حلقۂ محبان جو مملکتِ خداداد � [..]مزید پڑھیں

  • جنون کے راستے بدلے نہیں

    جتنا کچھ پاکستانی عوام کے ساتھ ہوا ہے کسی اور ملک کے لوگ ہوتے تو جمہوریت کا درس کب کے بھول چکے ہوتے۔ ایک فہرست ہے ہمارے طالع آزماؤں کی جن کے راج مدتوں رہے۔ لیکن پاکستانی قوم کی ڈھٹائی سمجھیے یا کچھ اور کیفیت کہ طالع آزما رہے بھی تو مصیبتوں کے مارے عوام کے دلوں سے جمہوری نظام ک [..]مزید پڑھیں

  • یہ رویے پاک و ہند کو جچتے نہیں

    ہمارے اوپر کے طبقات ہمارے دونوں ملکوں کی غربت کا تو کچھ احساس کر لیں۔ یہ معاشرے ایسے ہیں جن میں امارت کی کمی نہیں لیکن غربت دیکھیں تو نصف سے زیادہ ہماری آبادیوں کی زندگی اجیرن ہے۔ قومی گفتگو البتہ غریبوں کے بس میں تو ہوتی نہیں، اوپر کے طبقات یا یوں کہیے حکمران طبقات ہی قومی گفت [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اصل دہشت باتھ روموں کی

    صحیح لفظ ٹائلٹ ہے لیکن زبان پر کبھی اچھا نہیں لگا۔ ایک دو بار جیلیں بھگتی ہیں حوالات بھی، گرفتاری کا ڈر لہٰذا اتنا نہیں۔ وہاں بھی کتاب پڑھی جا سکتی ہے، چائے کا ایک عدد اچھا کپ مل جائے تو اور کیا چاہیے۔ مصیبت باتھ روم کی ہوتی ہے۔ تھانوں کا تو حال ہی نہ پوچھیں، اب جا کے کہیں ایس ا [..]مزید پڑھیں

  • کب تک ایسا چلے گا؟

    گلہ ہرگز نہیں۔ ہم کون گلہ کرنے والے؟ کریں بھی تو اُس کا فائدہ کیا۔ محض سمجھنے کی کوشش ہے کہ جو چل رہا ہے کب تک چلتا رہے گا؟ یہ سوال اس لیے کہ پہلے بھی ایسے ادوار رہے ہیں، ایک بار نہیں متعدد بار۔ امریکہ سے پہلے بھی تعلقات ٹھیک رہے،  پیسہ بھی آیا ہتھیار ملے۔ تالیاں بجتی تھیں اور [..]مزید پڑھیں

  • پنجاب تاریخ کے بھنور میں

    پنجاب کے ساتھ ایک حادثہ ہوا جس کے اثرات پوری ریاست پر پڑے۔ اپنی جملہ خوبیوں کے ساتھ پنجاب کے تاریخی تجربے میں ایک کمی واقع ہوئی۔ وصفِ حکمرانی پنجاب کے کھاتے میں کبھی نہ آیا کیونکہ سکھوں کے دور کے علاوہ، سکندرِ اعظم سے لے کر مغلوں تک پنجاب کی کوئی بادشاہت قائم نہ ہوئی نہ پنجاب ن [..]مزید پڑھیں

  • ضائع لمحوں کی باتیں

    فریدہ خانم کا کبھی پرستار نہ تھا۔ مقبولِ عام گانے اُن کے تو سب جانتے ہیں لیکن اس عمر میں آ کے اُن کی گائیکی کا صحیح اندازہ ہوا اور پھر اپنے پہ رونا آیا کہ ساری عمر اگر ایسے فنکار کو نہیں سمجھ سکے تو اپنا وقت پھر برباد ہی کیا۔  جب سے اُن کی کچھ غزلیں ڈاؤن لوڈ کی ہیں، مقبولِ ع [..]مزید پڑھیں

  • پرانا سکینڈل اور صدر ٹرمپ کی پریشانی

    ہم بارشوں اور چینی سکینڈل میں پھنسے ہیں۔ کیا موسم یہاں کا بنتا جا رہا ہے، گرمی شدت کی اور اب بارشیں اتنی کہ زندگی میں پہلی بار ساون سے ڈر آنے لگا ہے۔ چینی سکینڈل کے کردار اتنے طاقتور نہیں جتنی ہماری حکومتیں نالائق۔ مرضی کی برآمد، مرضی کی درآمد اور مرضی کی قیمتیں۔ ضیاالحق ک [..]مزید پڑھیں

  • دو نمبر سیاست میں ایک نمبر احتجاج کیسا؟

    پاکستانی سیاست کا یہ اصول لکھ لیں کہ کوئی احتجاج مخصوص محکموں کی شراکت داری یا اشاروں کے بغیر کامیاب نہیں ہوتا۔ ایوب خان کے خلاف 1968کے آخر میں احتجاج کی لہر اٹھی تو تب کے کمانڈر اِنچیف جنرل یحییٰ خان نے اُن سے فاصلہ اختیار کر لیا تھا۔  ذوالفقار علی بھٹو پر رفیع رضا کی کتاب م [..]مزید پڑھیں

  • عظیم قوم کی منقسم قوتِ برداشت

    کیا کچھ قوم برداشت کر جاتی ہے اور کن نسبتاً چھوٹی نوعیت کے افسانوں پر آہ و بُکا ہونے لگتی ہے۔ پچھلے انتخابات جو ملکی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے، کو قوم نے برداشت کر لیا۔ لاٹری میں ملی حکومتوں کو قوم برداشت کر رہی ہے۔ من پسند کے عدالتی فیصلوں پر کوئی شور شرابا نہیں۔  � [..]مزید پڑھیں