ایاز امیر

  • کشمیری احتجاج اور ہماری نظریاتی اساس

    کشمیری احتجاج نے ہمارے پلے کچھ نہیں چھوڑا۔ جس تصور کو نظریۂ پاکستان کہا جاتا ہے اس کے دو بنیادی ستون ہیں، ایک اسلام اور دوسرا کشمیر۔ اسلام کے نعرے لگتے رہیں گے لیکن آزاد کشمیر کے باسی احتجاج میں آزادی کا معنی ڈھونڈنے لگیں تو نظریات کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ ریاستی سوچ کی � [..]مزید پڑھیں

  • واشنگٹن کی تھپکی متعدد بار دیکھی

    دشمن کو رہنے دیجئے جتایا تو ہمیں جاتا ہے کہ دیکھو واشنگٹن سے ہماری یاری ہو گئی۔ یاری کیا ہوئی دنیاکے تمام مسائل حل ہو گئے اور مملکت کی بخشش بھی ہو گئی۔ پہلے فیلڈ مارشل یعنی ایوب خان جب دورے پہ گئے تھے تو مسز جیکولین کینیڈی کے ساتھ گھڑ سواری کی تصویریں ہمیں یاد ہیں۔ دوسری بار ا� [..]مزید پڑھیں

  • چکوال کے تاریخی چھپڑ بازار پر حملے کی تیاریاں

    جو یہاں آتا ہے چکوال کے پرانے چھپڑ بازار پر چڑھ دوڑنے کی سوچتا ہے۔ مشرف دور میں ایک سرکاری دستہ یہاں تعینات ہوا۔ ایک اچھا کام اس کی وساطت سے یہ ہوا کہ چکوال کی بڑی سڑکوں پر روشنی کے نظام کا بندوبست ہو گیا۔ شہر میں رات کی آدھی رونق ان لائٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لیکن اس دستے میں ی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تین کہانیاں سینے میں لپٹیں

    1990 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت برخاست ہوئی تو صدر غلام اسحق خان اور جنرل اسلم بیگ کا سارا زور پیپلز پارٹی کے خلاف تھا۔ محترمہ پر مقدمات بنے اورہراساں کرنے کے تمام ہتھکنڈے آزمائے گئے۔ ایک پیشی راولپنڈی ہوتی تو دوسری اگلے روز لاہور یا کراچی میں۔  ایک موقع ایسا بھی تھا کہ محترم [..]مزید پڑھیں

  • بغض پالنے کا بھی اسلوب ہونا چاہیے

    حکومت جیسی بھی ہو، کیوں نہ پرلے درجے کے بیوقوف لوگوں پر مشتمل ہو، اُسے بندھے بندھائے گماشتے مل ہی جاتے ہیں۔ ایسے فنکار قسم کے لوگ جو اپنی آسمانی ڈیوٹی سمجھتے ہیں کہ حکومتِ وقت کی مدح سرائی میں لگ جائیں اور جو اُس حکومت کے مخالف ہو اُس کے پیچھے لگ جائیں۔ یہ ایک قسم کا قدرتی ام� [..]مزید پڑھیں

  • آہنی دوست چین سے ہی کچھ سیکھ لیں

    امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات میں کچھ دراڑ پڑی تو چین نے دیر نہ لگائی ہندوستان کی طرف قدم بڑھانے کی۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی دہلی آئے اور گو اُس کے بعد اسلام آباد بھی آئے لیکن اُن کے ہندوستان جانے سے یہاں کچھ بخار سا چڑھ گیا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ حلقۂ محبان جو مملکتِ خداداد � [..]مزید پڑھیں

  • جنون کے راستے بدلے نہیں

    جتنا کچھ پاکستانی عوام کے ساتھ ہوا ہے کسی اور ملک کے لوگ ہوتے تو جمہوریت کا درس کب کے بھول چکے ہوتے۔ ایک فہرست ہے ہمارے طالع آزماؤں کی جن کے راج مدتوں رہے۔ لیکن پاکستانی قوم کی ڈھٹائی سمجھیے یا کچھ اور کیفیت کہ طالع آزما رہے بھی تو مصیبتوں کے مارے عوام کے دلوں سے جمہوری نظام ک [..]مزید پڑھیں

  • یہ رویے پاک و ہند کو جچتے نہیں

    ہمارے اوپر کے طبقات ہمارے دونوں ملکوں کی غربت کا تو کچھ احساس کر لیں۔ یہ معاشرے ایسے ہیں جن میں امارت کی کمی نہیں لیکن غربت دیکھیں تو نصف سے زیادہ ہماری آبادیوں کی زندگی اجیرن ہے۔ قومی گفتگو البتہ غریبوں کے بس میں تو ہوتی نہیں، اوپر کے طبقات یا یوں کہیے حکمران طبقات ہی قومی گفت [..]مزید پڑھیں

  • اصل دہشت باتھ روموں کی

    صحیح لفظ ٹائلٹ ہے لیکن زبان پر کبھی اچھا نہیں لگا۔ ایک دو بار جیلیں بھگتی ہیں حوالات بھی، گرفتاری کا ڈر لہٰذا اتنا نہیں۔ وہاں بھی کتاب پڑھی جا سکتی ہے، چائے کا ایک عدد اچھا کپ مل جائے تو اور کیا چاہیے۔ مصیبت باتھ روم کی ہوتی ہے۔ تھانوں کا تو حال ہی نہ پوچھیں، اب جا کے کہیں ایس ا [..]مزید پڑھیں

  • کب تک ایسا چلے گا؟

    گلہ ہرگز نہیں۔ ہم کون گلہ کرنے والے؟ کریں بھی تو اُس کا فائدہ کیا۔ محض سمجھنے کی کوشش ہے کہ جو چل رہا ہے کب تک چلتا رہے گا؟ یہ سوال اس لیے کہ پہلے بھی ایسے ادوار رہے ہیں، ایک بار نہیں متعدد بار۔ امریکہ سے پہلے بھی تعلقات ٹھیک رہے،  پیسہ بھی آیا ہتھیار ملے۔ تالیاں بجتی تھیں اور [..]مزید پڑھیں