ایاز امیر

  • بدقسمت معاشرے

    خوش فہمی کا کوئی علاج نہیں اور اسی وجہ سے خوش فہمی کے مارے یار دوست پوچھتے رہتے ہیں کہ کسی خوشخبری کی امید ہے۔ مراد اُن کی ملکی سیاست کے حوالے سے ہوتی ہے کہ اس میں کسی تبدیلی کا امکان ہے۔ حقیقت البتہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے جیسے معاشروں میں جب تک کوئی بڑا حادثہ رونما نہ ہو تو چیزیں � [..]مزید پڑھیں

  • الفاظ جب لب پر آ نہ سکیں

    اب تو غافل ذہنوں کو بھی احساس ہو گیا ہوگا کہ بلوچستان دھیرے دھیرے کس طرف جا رہا ہے۔ سرکاری سچ کا پرچار کرنے والے بیچاروں کا حال کیا پوچھنا، اُن کا تو کام ہے کہ جو راگ الاپنے کو کہا جائے اُسے ہی چباتے رہیں۔ بات تو صحیح ہے لیکن نا مکمل کہ کتنے رہا ہوئے اور کتنوں کو ابدی نیند سلا د� [..]مزید پڑھیں

  • کیا پوچھتے ہوحال فقیروں کا

    حالات ایسے بن چکے ہیں کہ اپنے آپ کو فقیروں میں ہی شمار کرنا پڑے گا۔ بولنا مشکل، لکھنا بھی مشکل۔ حساسیت ایسی کہ سمجھ نہیں آتی کہ کیا کِیا جائے۔ اوپر سے کوئی وکیل، دانشور یا قوم کا معمار اُن آزادیوں کا ذکر کرے جو آئین میں درج ہیں تو ہاتھ پستول کو جاتا ہے۔ اب تو سمجھ پن اسی می� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • یورپ کو حالات سمجھنے میں دِقت ہو رہی ہے

    ڈونلڈ ٹرمپ دنیا نہیں بدل رہا بلکہ بدلی ہوئی دنیا کا ادراک اوروں سے بہتر رکھتا ہے۔ یوکرین کے حالات میں تبدیلی نہیں لا رہا بلکہ اتنی بات سمجھ رہا ہے جوکہ یورپ کے لیڈروں کو مشکل سے سمجھ آ رہی ہے کہ یوکرین جنگ میں فتح حاصل نہیں کر سکتا۔  روس کو شکست ہوئی نہ یوکرین کے ہاتھوں ہو س� [..]مزید پڑھیں

  • کنگلے پن کی عیاشیاں

    پاکستانی کنگلا پن اور اُس میں عیاشیاں یہ ایسی فنکاری ہے کہ دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔ لیکن اس موضوع پر آنے سے پہلے ضروری ہے کہ اووَل آفس میں صدر ٹرمپ اور صدر زیلنسکی کے بارے میں کچھ کہا جائے۔ دو سربراہانِ مملکت کے درمیان ایسا مکالمہ اور وہ بھی ٹی وی کیمروں کے سامنے کبھی دیکھ� [..]مزید پڑھیں

  • لاچاری کا اندازہ

    کیسی حالت اس سنہرے دیس کی بن گئی ہے کہ تمام امیدیں ایک کھیل پر بندھی ہوں اور ہر بار جسے اربابِ فکر ونظر نے ازلی دشمن کا درجہ دیا ہو ،اُس کے ہاتھوں پِٹ کے رہ جائیں۔ ایک بار پٹنا ہو پھر تو کوئی اتنی بڑی بات نہیں لیکن غازیانِ فتح وامید ہر بار میدانِ کرکٹ میں اتریں تو ازلی دشمن سے ایس� [..]مزید پڑھیں

  • آپ ہی بتائیں کیا لکھیں اور کیا کریں

    کہنے کی بات نہیں سب کو نظر آ رہا ہے کہ سیاست کے پانی ٹھہرے ہوئے ہیں، جمود کا شکار۔ صحافت لنگڑا کے چلنے پر مجبور ہے، آدھی زندہ آدھی کسی قبر میں دفن۔ شکر ہے ایک بارش ہو گئی ہے نہیں تو ہمارے بارانی علاقوں میں گندم کی فصل کا برا حال ہو جاتا۔ اب ایسا ہے کہ ذخیرے تو نہیں بنیں گے لیکن � [..]مزید پڑھیں

  • کہیں کے نہ رہے

    یاد کریں وہ سنہرے دن جب اس قلعہ نظریات نے افغانستان میں چوکیداری اور خرکاری کیلئے اپنے آپ کو بخوشی وقف کیا تھا۔ اس کے عوض ہمارے امریکی مہربانوں نے ہمیں تھپکیاں دیں اور ڈالروں اور کچھ جنگی ساز وسامان سے نوازا۔ اس پر ہمارے نگہبان پھولے نہ سمائے کہ وہ کتنے ہوشیار اور دانا ہیں۔ [..]مزید پڑھیں

  • واقعہ گُگھ کچھ رنگ بازی کی زد میں

    شادیوں کا موسم ہے اور لگتا ہے کہ شادیوں کے علاوہ اس دھرتی پر اتنی اہمیت کا اور کوئی کام نہیں۔ تین روز پہلے چکوال ایک شادی میں مدعو تھا کہ ساتھ بیٹھے مہمان نے پوچھا کہ گگھ والا قصہ آپ کے علم میں آ گیا ہو گا؟ میں نے پوچھا کون سا واقعہ؟ تو بتایا گیا کہ انسانیت نام کی چیز کہاں پہن� [..]مزید پڑھیں

  • کہاں چلے تھے کہاں پہ آئے

    پرانے وقتوں کے گائیک شنکر داس گپتا کا دل موہ لینے والا گانا ہے جو کیا خوب ہماری داستانِ ستم کی عکاسی کرتا ہے  ’عجیب ہے زندگی کی منزل، کہاں چلے تھے کہاں پہ آئے‘۔ بانیانِ پاکستان جب منٹو پارک لاہور میں 23 مارچ 1940 کو اکٹھے ہوئے تھے، کیسے کیسے خیالات اُن کے ذہنوں سے گزرے ہوں [..]مزید پڑھیں