آمنہ مفتی

  • ہاؤسنگ سوسائٹی کا وائرس

    موسم گرما اپنے جوبن پہ ہے۔ پارہ 44 تک بھی پہنچ جاتا ہے اور دھوپ نکلتی ہے تو ایسی کہ اپنی تمازت سے خود ہی کمہلا جاتی ہے۔ کنکیں کٹ چکی ہیں، دھان کی اگیتی پنیری کھیتوں میں جم چکی ہے اور باسمتی کی پنیری بوئی جا چکی ہے۔ امبیاں پک کے پال کے لیے تیار ہیں۔ فالسہ دھڑی دھڑی کر کے بک رہا ہے ا [..]مزید پڑھیں

  • ترین صاحب نے تراہ ہی نکال دیا

    ہماری نسل نے اپنے بزرگوں کو بہت شوق سے سیاست اور نظریات پر بات کرتے سنا۔ اس وقت نو آبادیاتی نظام ختم ہوئے کچھ ہی عرصہ گزرا تھا، کمیونزم کا جادو سر چڑھ کے بول رہا تھا۔ سیاست پر بات کرنا، انقلابی نظر آنے کے لیے جلے کٹے لہجے میں سگریٹ، چائے پی کے نظام کو کوسنا اور ایک نئی دنیا کے خ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • وبا کا قہر

    کورونا وائرس ایک برس سے زائد عرصے سے دنیا پہ منڈلاتا پھر رہا ہے۔ پہلی، دوسری، تیسری اور کچھ ملکوں میں چوتھی لہر آچکی ہے۔ موت، وبا کا روپ دھارے اب ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ انڈیا میں، ہم جیسے، ہماری ہی زبان بولتے، ہماری ہی طرح روتے، سسکتے، ہم جیسے ہی غریب اور پسماندہ انسان اس کے قہر [..]مزید پڑھیں

  • مذاکرات کی میز پر بھی طالبان ہی جیتے

    بیس برس کی بے نتیجہ جنگ کے بعد آخر کار امریکہ واپس گھر جا رہا ہے۔ بقول صدر جو بائیڈن، ’اٹس ٹائم ٹو کم ہوم‘۔ مبینہ طور پہ امریکہ یہ جنگ جیت کے جا رہا ہے لیکن صاحبو! جنگ کبھی جیتی نہیں جاتی، جنگ صرف لڑی جاتی ہے۔ امریکہ نے جنگ لڑی، اندازاً 20 کھرب سے زیادہ خرچ کر کے اور 2300 امریک [..]مزید پڑھیں

  • تہمت گندم و حوا

    ایک ہفتہ ہونے کو آیا، وزیر اعظم صاحب کے ریپ کے بارےمیں کہے گئے الفاظ اور پھر ان کی وضاحت کی گونج ختم ہونے میں نہیں آرہی۔ ریپ کے بارے میں کسی بااثر شخصیت کے کہے یہ پہلے ’غیر ذمہ دارانہ‘ الفاظ نہیں ہیں۔ جب بھی ، جس کے بھی منہ میں جو آیا اس نے کہہ دیا۔ عورتوں کے خلاف ہونے والے [..]مزید پڑھیں

  • حسن اپنے ویران گھر پر نظر کر!

    امریکہ پاکستان کو ماحولیاتی کانفرنس میں نہیں بلا رہا۔ پاکستان انڈیا کے ساتھ تجارت شروع کر رہا ہے۔ یہ دو خبریں پڑھیں اور ابھی دوسری خبر کی سیاہی بھی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ فیصلہ تبدیل ہو گیا۔ کچھ برس پہلے انڈیا جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں کے چند صنعت کاروں سے بھی ملاقات ہوئی۔ ا [..]مزید پڑھیں

  • ابو گھر پر نہیں ہیں!

    جمہوریت چاہے ہائبرڈ ہو، چاہے اصلی تے وڈی، ایک شے مشترک ہوتی ہے اور وہ ہے کہ عوام کسی نہ کسی طرح خود کو حکومت کے عمل میں شریک سمجھتے ہیں۔ ’ووٹ‘ کی ایک ننھی سی پرچی، جس کے چال چلن پر دہائیوں سے شک کیا گیا ہے، عوام کو کسی نہ کسی طرح اپنی طاقت کا احساس دلاتی رہی ہے۔  کہا گیا ک [..]مزید پڑھیں

  • ایک اور الف لیلوی کہانی

    سات کا عدد بہت ہی پراسرار ہے۔ سات سہیلیاں، سات ستارے، سات پھل، سات سر، سات سمندر، ہفتے کے سات روز اور خوش عقیدہ لوگ تو اس عدد کو ایک ہلکی سی لکیر لگا کر صلیب کی شکل بھی دے دیتے ہیں۔ وہی صلیب جو، ازلی سچ اور اس سچ کے لیے ہر اذیت برداشت کر کے امر ہو جانے کی علامت ہے۔ تو صاحبو! یہ سات [..]مزید پڑھیں

  • دیوار پہ لکھی تحریر اور پس دیوار جھانکنے کی عادت

    ایک مزاح نگار فرما گئے ہیں کہ جو شخص سیاست پہ بحث کرتے ہوئے اپنے بلڈ پریشر اور گالی پہ کنٹرول رکھ سکے وہ یقیناً ولی اللہ ہو گا۔ کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہتے بلڈ پریشر کا تو معلوم نہیں لیکن گالی پہ کنٹرول کا بٹن پچھلے کچھ برس سے خراب ہے۔ گالی اور سیاست کا ساتھ کچھ ایسا لازم و ملزوم [..]مزید پڑھیں