آمنہ مفتی

  • دے جا سخیا راہ خدا!

    یونیورسٹی سے گھر جاتے ہوئے راستے میں ٹریفک کے تین اشارے آتے ہیں۔ جوں ہی اشارہ سرخ ہوتا ہے بھکاریوں کی ایک فوج گاڑیوں پر یلغار کر دیتی ہے۔ ہاتھوں میں پھول تھامے معصوم بچے، گود میں بچہ اٹھائے عورتیں، تسبیح اور پنج سورہ لیے باریش ادھیڑ عمر آدمی، کٹے ہوئے بازو یا ٹانگ والا جوان ف� [..]مزید پڑھیں

  • زاہد ڈار بھی چلا گیا!

    ادب کا شہر لاہور آج اداس ہے۔ بڑی دبیز دھند چھائی ہے۔ آسمان پہ چیلیں چکر کاٹ رہی ہیں اور سردی جاتے جاتے پھر لوٹ آئی ہے کہ اس شہر کے کتب بین اور قاری زاہد ڈار کی موت کا غم منا سکے۔ زاہد ڈار جیسے لوگ سردیوں ہی میں رخصت ہوتے ہیں۔ خزاں کی ایسی شاموں میں جب، لاہور کی سڑکوں پہ بیڑی پتے ا [..]مزید پڑھیں

  • جو بائیڈن، معاہدہ پیرس اور ماحول

    امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جاتے جاتے نئے صدر جو بائیڈن کے لیے ایک ایسا امریکہ چھوڑ گئے جہاں بہت کچھ درست ہونے والا ہے۔ دیگر معاملات کے ساتھ بائیڈن کے سامنے جو بڑا مسئلہ منہ پھاڑے کھڑا ہے وہ ماحولیاتی ایمرجنسی کا ہے۔ قدرتی تیل اور گیس کے استعمال نے جس طرح ماحول کو مسموم اور [..]مزید پڑھیں

loading...
  • استعفے، کہرا اور ملاقاتیں

    پنجاب پہ کہرا چھایا ہوا ہے۔ لاہور بھی کہر کی لپیٹ میں ہے۔ سرشام ہی یہ کافوری سے بادل، لہرئیے بناتے، بل کھاتے، سڑکوں، پارکوں، باغوں، مکانوں اور فٹ پاتھوں پہ اپنی طنابیں گاڑ لیتے ہیں۔ حد نگاہ محدود ہوئی جا رہی ہے اور اس سرد موسم کے ساتھ ساتھ کورونا کی وبا بھی گلی کوچوں میں پھر ر� [..]مزید پڑھیں

  • ہنسنے کی کیا بات ہے؟

    سچ پوچھیں تو مجھے یہ ہنسی ٹھٹھول، بے وجہ کی ٹھٹھا بازی، ہی ہی ہا ہا بالکل پسند نہیں۔ خاص کر جب ذمہ دار عہدوں پہ بیٹھے لوگوں کے بیانات پہ لوگ باگ ہنسے جاتے ہیں، جگتیں لگائے جاتے ہیں، لوٹ پوٹ ہوئے جاتے ہیں تو مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ ایسا جی چاہتا ہے کہ ایک ایک کو پکڑ کے پوچھوں کہ بھئی [..]مزید پڑھیں

  • کسان کو کب تک غصہ نہیں آئے گا؟

    میں ایک کسان ہوں اور میں نے آنکھ کھولتے ہی یہ سنا تھا کہ کسان کو غصہ نہیں آتا۔ کسان کا دل بھینس کی طرح فراغ ہوتا ہے۔ صدیوں سے پنجاب کا کسان اور بھینس ساتھ رہ رہے ہیں۔ صدیوں کے اس ساتھ میں کسان نے بھینس سے پر امن اور پر سکون رہنا سیکھ لیا۔ اس قدر لحیم شحیم بھینس ایک ذرا سے کھونٹے س [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان اور ویب سیریز

    ہمارے بچپن میں پاکپتن میں دو سینما تھے۔ ایک ’صنم‘ اور دوسرا ’نورمحل‘۔ صنم سینما جس سڑک پر تھا وہاں سکول کالج بھی قریب تھے۔ نورمحل شہر کے ایک نیم ویران سے کونے میں تھا۔ خیر سے میں نے ان دونوں سینما گھروں کو کبھی اندر سے نہیں دیکھا۔ کچھ عرصے بعد، صنم سینما ڈھا دیا گیا [..]مزید پڑھیں

  • تقریر سے تقریر تک

    پی ڈی ایم کے جلسے میں میاں صاحب اپنی تقریر میں کہی بھی کہہ گئے، ان کہی بھی اور ان ہونی کے اشارے بھی دے گئے۔ وطن عزیز میں جب کبھی اپوزیشن کی جماعتوں کا اتحاد ہوا، ہم نے سیاست کی بساط الٹتے دیکھی۔ پکڑ دھکڑ بھی دیکھی، مار پیٹ بھی ہوئی، جیل بھرو تحریکیں بھی اٹھیں اور کوئی بھی حکومت [..]مزید پڑھیں

  • ناگورنو قرہباخ میں جنگ کے شعلے

    آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان کئی دہائیوں پرانا تنازعہ پھر سے اٹھ کھڑا ہوا ہے اور قرائن کہتے ہیں کہ اگر یہ آگ جلد نہ بجھائی گئی تو یورپ اور ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ آذربائیجان قدرتی وسائل سے مالا مال مسلم اکثریتی ریاست ہے جو نوے کی دہائی میں روس سے الگ ہو کر آزاد ریا [..]مزید پڑھیں

  • اگلے جنم بھی موہے بٹیا ہی کیجو!

    خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کسی ایسے معاشرے میں معمول کی بات ہیں جہاں معاشرتی انصاف مفقود ہو۔ کہتے ہیں، طاقت گنہگار بناتی ہے اور بے انتہا طاقت گنہگار ترین بناتی ہے۔ ہمارے جیسے دیسی ساختہ معاشرے، جو قبیلوں سے بادشاہتوں، بادشاہتوں سے نو آبادیاتی ادوار اور نو آبادیاتی دور سے [..]مزید پڑھیں