آمنہ مفتی

  • تہمت گندم و حوا

    ایک ہفتہ ہونے کو آیا، وزیر اعظم صاحب کے ریپ کے بارےمیں کہے گئے الفاظ اور پھر ان کی وضاحت کی گونج ختم ہونے میں نہیں آرہی۔ ریپ کے بارے میں کسی بااثر شخصیت کے کہے یہ پہلے ’غیر ذمہ دارانہ‘ الفاظ نہیں ہیں۔ جب بھی ، جس کے بھی منہ میں جو آیا اس نے کہہ دیا۔ عورتوں کے خلاف ہونے والے [..]مزید پڑھیں

  • حسن اپنے ویران گھر پر نظر کر!

    امریکہ پاکستان کو ماحولیاتی کانفرنس میں نہیں بلا رہا۔ پاکستان انڈیا کے ساتھ تجارت شروع کر رہا ہے۔ یہ دو خبریں پڑھیں اور ابھی دوسری خبر کی سیاہی بھی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ فیصلہ تبدیل ہو گیا۔ کچھ برس پہلے انڈیا جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں کے چند صنعت کاروں سے بھی ملاقات ہوئی۔ ا [..]مزید پڑھیں

  • ابو گھر پر نہیں ہیں!

    جمہوریت چاہے ہائبرڈ ہو، چاہے اصلی تے وڈی، ایک شے مشترک ہوتی ہے اور وہ ہے کہ عوام کسی نہ کسی طرح خود کو حکومت کے عمل میں شریک سمجھتے ہیں۔ ’ووٹ‘ کی ایک ننھی سی پرچی، جس کے چال چلن پر دہائیوں سے شک کیا گیا ہے، عوام کو کسی نہ کسی طرح اپنی طاقت کا احساس دلاتی رہی ہے۔  کہا گیا ک [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایک اور الف لیلوی کہانی

    سات کا عدد بہت ہی پراسرار ہے۔ سات سہیلیاں، سات ستارے، سات پھل، سات سر، سات سمندر، ہفتے کے سات روز اور خوش عقیدہ لوگ تو اس عدد کو ایک ہلکی سی لکیر لگا کر صلیب کی شکل بھی دے دیتے ہیں۔ وہی صلیب جو، ازلی سچ اور اس سچ کے لیے ہر اذیت برداشت کر کے امر ہو جانے کی علامت ہے۔ تو صاحبو! یہ سات [..]مزید پڑھیں

  • دیوار پہ لکھی تحریر اور پس دیوار جھانکنے کی عادت

    ایک مزاح نگار فرما گئے ہیں کہ جو شخص سیاست پہ بحث کرتے ہوئے اپنے بلڈ پریشر اور گالی پہ کنٹرول رکھ سکے وہ یقیناً ولی اللہ ہو گا۔ کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہتے بلڈ پریشر کا تو معلوم نہیں لیکن گالی پہ کنٹرول کا بٹن پچھلے کچھ برس سے خراب ہے۔ گالی اور سیاست کا ساتھ کچھ ایسا لازم و ملزوم [..]مزید پڑھیں

  • دے جا سخیا راہ خدا!

    یونیورسٹی سے گھر جاتے ہوئے راستے میں ٹریفک کے تین اشارے آتے ہیں۔ جوں ہی اشارہ سرخ ہوتا ہے بھکاریوں کی ایک فوج گاڑیوں پر یلغار کر دیتی ہے۔ ہاتھوں میں پھول تھامے معصوم بچے، گود میں بچہ اٹھائے عورتیں، تسبیح اور پنج سورہ لیے باریش ادھیڑ عمر آدمی، کٹے ہوئے بازو یا ٹانگ والا جوان ف� [..]مزید پڑھیں

  • زاہد ڈار بھی چلا گیا!

    ادب کا شہر لاہور آج اداس ہے۔ بڑی دبیز دھند چھائی ہے۔ آسمان پہ چیلیں چکر کاٹ رہی ہیں اور سردی جاتے جاتے پھر لوٹ آئی ہے کہ اس شہر کے کتب بین اور قاری زاہد ڈار کی موت کا غم منا سکے۔ زاہد ڈار جیسے لوگ سردیوں ہی میں رخصت ہوتے ہیں۔ خزاں کی ایسی شاموں میں جب، لاہور کی سڑکوں پہ بیڑی پتے ا [..]مزید پڑھیں

  • جو بائیڈن، معاہدہ پیرس اور ماحول

    امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جاتے جاتے نئے صدر جو بائیڈن کے لیے ایک ایسا امریکہ چھوڑ گئے جہاں بہت کچھ درست ہونے والا ہے۔ دیگر معاملات کے ساتھ بائیڈن کے سامنے جو بڑا مسئلہ منہ پھاڑے کھڑا ہے وہ ماحولیاتی ایمرجنسی کا ہے۔ قدرتی تیل اور گیس کے استعمال نے جس طرح ماحول کو مسموم اور [..]مزید پڑھیں

  • استعفے، کہرا اور ملاقاتیں

    پنجاب پہ کہرا چھایا ہوا ہے۔ لاہور بھی کہر کی لپیٹ میں ہے۔ سرشام ہی یہ کافوری سے بادل، لہرئیے بناتے، بل کھاتے، سڑکوں، پارکوں، باغوں، مکانوں اور فٹ پاتھوں پہ اپنی طنابیں گاڑ لیتے ہیں۔ حد نگاہ محدود ہوئی جا رہی ہے اور اس سرد موسم کے ساتھ ساتھ کورونا کی وبا بھی گلی کوچوں میں پھر ر� [..]مزید پڑھیں

  • ہنسنے کی کیا بات ہے؟

    سچ پوچھیں تو مجھے یہ ہنسی ٹھٹھول، بے وجہ کی ٹھٹھا بازی، ہی ہی ہا ہا بالکل پسند نہیں۔ خاص کر جب ذمہ دار عہدوں پہ بیٹھے لوگوں کے بیانات پہ لوگ باگ ہنسے جاتے ہیں، جگتیں لگائے جاتے ہیں، لوٹ پوٹ ہوئے جاتے ہیں تو مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ ایسا جی چاہتا ہے کہ ایک ایک کو پکڑ کے پوچھوں کہ بھئی [..]مزید پڑھیں