آمنہ مفتی

  • اداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے!

    لاک ڈاون کو تیسرا ہفتہ ہونے کو آیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ کارِ جہاں جسے ہم دراز سمجھتے تھے کچھ ایسا دراز بھی نہیں۔ سارا دن شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے، سارا ہفتہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور سارا سال ایک ملک سے دوسرے ملک بھاگے بغیر بھی زندگی گزر جاتی ہے اور اچھی خاصی گزر جاتی ہے۔ � [..]مزید پڑھیں

  • وبا کے دنوں میں محبت

    پاکستان سمیت پوری دنیا اپنے اپنے گھروں میں سمٹی بیٹھی ہے۔ موت، گلیوں بازاروں میں دندناتی، ایک ملک سے دوسرے ملک، ایک براعظم سے دوسرے براعظم، دھمال ڈالتی، دانت نکوسے پھر رہی ہے۔ چین کے شہر ووہان کے ایک بازار سے پھیلنے والا، کورونا وائرس اب ایک عالمی وبا بن چکا ہے۔ سکولوں کالجو [..]مزید پڑھیں

  • وہ صبح کبھی تو آئے گی!

    سنتے آئے ہیں کہ قدیم زمانے میں جادوگر، منتر پڑھ کے انسان کو جانور بنا دیا کرتے تھے، کوئی اسم پھونک کے پورے شہر کو پتھر بنادیتے تھے، ’کھل جا سم سم‘ کے چار لفظ پہاڑ میں دراڑ ڈال دیا کرتے تھے۔ تشکیک پسند فطرت کو لگتا تھا یہ سب کہانیاں ہیں، مگر ہر کہانی فکشن نہیں ہوتی کچھ کہانی� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کورونا وائرس، جنگل آپ کے تعاقب میں ہے!

    چین میں کورونا وائرس پھیلنے سے ہونے والی اموات روز بڑھتی جا رہی ہیں۔ ہزاروں پاکستانی چین میں پھنس چکے ہیں اور پوری دنیا دم سادھے اس موت کو دیکھ رہی ہے۔ موت جو ہر طرف ہے مگر نظر نہیں آ رہی۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ کورونا وائرس جنگلی چمگادڑوں اور دیگر جنگلی جانوروں سے انسانوں میں منت [..]مزید پڑھیں

  • راجہ کے گھر موتیوں کا کال ؟

    پنجاب میں اکثریت کاشتکار ہیں۔ ہاڑی ساونی، گندم کی فصل سنبھالی جاتی ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں کے ہاں بھی بھڑولے ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ پہ جہیز کا ایک اہم جز، اٹی، مٹی اور پیٹی کا سیٹ ہوتا ہے، جس میں سے دو اول الذکر اشیا، بالترتیب گندم اور آٹا رکھنے کے کام آتی ہیں۔ ہڑپہ اور موئن جو دڑو ک� [..]مزید پڑھیں

  • ٹڈی دل آپ کو کھا جائے گا!

    گزشتہ برس ٹڈی دل افریقہ سے اٹھا، ایتھوپیا سے چلا، عمان سے ہوتا ہوا ایران اور وہاں سے چاغی اور پھر سندھ پہنچا۔ عین اسی طرح جیسے آبی پرندوں کے جھلڑ ایک خطے سے دوسرے خطے میں سفر کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ٹڈی دل مہمان پرندہ نہیں ایک آفت ہے اور ہم پر دیگر آفتوں کے ساتھ یہ آفت بھی ٹو� [..]مزید پڑھیں

  • کھوجی کی بھی تو مجبوریاں ہوتی ہیں!

    پرانے وقتوں میں، پنجاب میں مویشی چوری عام تھی۔ پنجاب کے دریا اتھرے ہوئے تھے اور ابھی ان پر کیمیائی فضلے کا عذاب نازل نہ ہوا تھا نہ ان پر بندہی باندھے گئے تھے اور نہ ہی ان کا بٹوارا ہوا تھا۔ ان اتھرے ہوئے دریاؤں کے کنارے دلدلی جنگل تھے اور سرکنڈوں کے جھنڈ۔ کچے کے ان علاقوں میں ڈ� [..]مزید پڑھیں

  • اب کیوں نکالا؟

    ’پیارے بچو! پھر یوں ہوا کہ عمرو عیار نے اپنی زنبیل سے سفوف عیاری نکال کر پہرے داروں کو سنگھایا۔ سب کے سب جہاں تھے وہیں کے وہیں بت بن کر ساکت ہو گئے۔ عمرو نے زنبیل سے روغن عیاری نکالا، اپنے اور شہزادے کے منہ پہ ملا، جس سے شہزادہ ایک قریب المرگ بوڑھے میں اور عمرو ایک ادھیڑ عمر طب� [..]مزید پڑھیں

  • اج تے مسلے بازی لے گئے

    30 برس قبل دیوارِ برلن ڈھائی گئی تو ہماری جرمن چچی نے مشرقی سرحد کی طرف اشارہ کر کے کچھ کہنے کی کوشش کی، سارا خاندان جو اس سرحد کے پار سب کچھ لٹا کے آیا تھا اس قدر خفا ہوا کہ چچی کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ اس بات کے دو برس بعد بابری مسجد کو ڈھایا گیا تو ہمارے شہر کا اکلوتا کائی زدہ مند [..]مزید پڑھیں

  • سیاست کا عہد کنٹینر!

    ملک کی سیاسی سٹیج پر ہڑبونگ مچی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کا نعرہ لے کر اٹھے اور بڑے بڑے بت زمیں بوس نہ بھی ہو ئے تو لرز ضرور گئے۔ لرزے اس لیے کیونکہ ان کے پائیدانوں تلے، کئی برسوں کے غلط فیصلوں کی سیلن، اقربا پروری کی کیچڑ، سمجھوتوں کی دلدل اور مفاد پرستی کی کائی ج� [..]مزید پڑھیں