آمنہ مفتی

  • کھوجی کی بھی تو مجبوریاں ہوتی ہیں!

    پرانے وقتوں میں، پنجاب میں مویشی چوری عام تھی۔ پنجاب کے دریا اتھرے ہوئے تھے اور ابھی ان پر کیمیائی فضلے کا عذاب نازل نہ ہوا تھا نہ ان پر بندہی باندھے گئے تھے اور نہ ہی ان کا بٹوارا ہوا تھا۔ ان اتھرے ہوئے دریاؤں کے کنارے دلدلی جنگل تھے اور سرکنڈوں کے جھنڈ۔ کچے کے ان علاقوں میں ڈ� [..]مزید پڑھیں

  • اب کیوں نکالا؟

    ’پیارے بچو! پھر یوں ہوا کہ عمرو عیار نے اپنی زنبیل سے سفوف عیاری نکال کر پہرے داروں کو سنگھایا۔ سب کے سب جہاں تھے وہیں کے وہیں بت بن کر ساکت ہو گئے۔ عمرو نے زنبیل سے روغن عیاری نکالا، اپنے اور شہزادے کے منہ پہ ملا، جس سے شہزادہ ایک قریب المرگ بوڑھے میں اور عمرو ایک ادھیڑ عمر طب� [..]مزید پڑھیں

  • اج تے مسلے بازی لے گئے

    30 برس قبل دیوارِ برلن ڈھائی گئی تو ہماری جرمن چچی نے مشرقی سرحد کی طرف اشارہ کر کے کچھ کہنے کی کوشش کی، سارا خاندان جو اس سرحد کے پار سب کچھ لٹا کے آیا تھا اس قدر خفا ہوا کہ چچی کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ اس بات کے دو برس بعد بابری مسجد کو ڈھایا گیا تو ہمارے شہر کا اکلوتا کائی زدہ مند [..]مزید پڑھیں

loading...
  • سیاست کا عہد کنٹینر!

    ملک کی سیاسی سٹیج پر ہڑبونگ مچی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کا نعرہ لے کر اٹھے اور بڑے بڑے بت زمیں بوس نہ بھی ہو ئے تو لرز ضرور گئے۔ لرزے اس لیے کیونکہ ان کے پائیدانوں تلے، کئی برسوں کے غلط فیصلوں کی سیلن، اقربا پروری کی کیچڑ، سمجھوتوں کی دلدل اور مفاد پرستی کی کائی ج� [..]مزید پڑھیں

  • نوبل انعام برائے ادب تو ہمارا تھا!

    گزشتہ ہفتے ادب کا نوبل انعام پانے والے دو ادیبوں کے نام کا اعلان ہوا تو پاکستان کا ہر لکھنے والا ایسے خفا ہو گیا جیسے یہ انعام اسی کو ملنا تھا۔ حد یہ کہ وہ برگزیدہ ادیب جنہوں نے عمر بھر سوائے انجمن ستائش باہمی چلانے کے اور لابی لابی کھیلنے کے کچھ نہ کیا وہ بھی بڑ بڑا رہے ہیں کہ ب [..]مزید پڑھیں

  • مصلحت کی سرحد کے اس پار!

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آج کرفیو کو دو ماہ ہو گئے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز بھی معطل ہیں۔ گاہے گاہے جو خبریں کان میں پڑتی ہیں وہ کچھ اچھی نہیں۔ عالمی ضمیر نامی وہم بھی خیر سے دور ہؤا۔ پاکستان جس حد تک احتجاج کر سکتا تھا کر لیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں � [..]مزید پڑھیں

  • زیر بن، زبر نہ بن، متاں پیش پوی

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ سیانے جانتے ہیں کہ کیوں ہوا، کیوں ہوتا ہے اور وہاں سے کس کے ہاتھ کیا آتا ہے۔ ہم جیسے تو یہ سوچ کر اور دیکھ کر ہی خوش ہو جاتے ہیں کہ دنیا بھر کے جھنڈوں کے درمیان ہمارا جھنڈا بھی لہرا رہا تھا اور زمانے بھر کے لیڈروں کے درمیان ہمارا وزیر اعظم � [..]مزید پڑھیں

  • جنگل کی آگ!

    ایمیزون کے جنگلات میں آگ لگنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا احتجاج کر رہی ہے اور برازیل کی حکومت کے خلاف پابندیاں لگانے کا غوغا اٹھ رہا ہے۔ ادھر ہمارے ہاں سنا گیا تھا کہ پلاسٹک کے شاپر ختم کیے جائیں گے، بات چل پڑی ہے۔ اسلام آباد سے خبریں مل رہی ہیں کہ شاپر کی جگہ پھر سے سودا سلف لانے ک� [..]مزید پڑھیں

  • انڈین سول سوسائٹی ایس او ایس!

    کشمیر کا مسئلہ جو بہتر برسوں سے بر صغیر کے سینے میں ایک ناسور کی طرح پک رہا تھا آخر کار مودی سرکار نے اس میں خنجر گھونپ دیا۔ پوری وادی دنیا سے کٹی ہوئی ہے، آج چاند رات ہے۔ بہتر سال پہلے کی ایک عید الفطر جو سنی سنائی ہے یاد آ جاتی ہے اور دل مزید بھاری ہو جاتا ہے۔ آزادی ایک ایسا خوش [..]مزید پڑھیں

  • پلاسٹک کا بھوت اور پچاس روپیہ فی تھیلا موت

    یہ اسی کی دہائی کا ذکر ہے ہمارے گھر میں سودا سلف لانے کے لئے زین کے دو موٹے تھیلے ہوا کرتے تھے۔ ایک تھیلا بھٹی چڑھنے جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔ سودا لانے والا ملازم بچھیری نامی گھوڑی کو تانگے میں جوتتا، جن بچوں نے سکول جانا ہوتا انھیں تانگے میں سوار کراتا، راستے بھر دل سے [..]مزید پڑھیں