آمنہ مفتی

  • غدر، زیتون کا پیڑ اور نکبہ

    مشرق وسطیٰ میں لگی آگ پھر بھڑکنے کو ہے۔ فلسطین کا زخم جو ایک ناسور بن کے عالمی ضمیر پہ مستقل دھبے کی صورت موجود ہے، ایک بار پھر رس رہا ہے۔  حماس کے  اسرائیل پر حملے کے بعد کئی نسلوں سے ظلم و زیادتی کے شکار فلسطینی ایک بار پھر سنگین کی نوک میں پروئے جا رہے ہیں۔ فضائی حم� [..]مزید پڑھیں

  • ٹاک شو میں طمانچہ

    یہ کوئی نئی بات نہیں رہ گئی ہے کہ ٹی وی پہ ٹاک شو کے دوران اچانک ایک مہمان دوسرے مہمان پہ پل پڑے۔ روز نہ سہی سال میں ایک دو بار تو ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو پروگرام کا میزبان بلیوں اچھلتے دل کو سنبھالتے، نیم دلی سے ناں، ناں، ہائیں، ہائیں کرتا دوڑتا ہے۔ گو اس کی بدن بو [..]مزید پڑھیں

  • بل پہ بل، مہنگائی کا طوفان کہاں رکے گا؟

    مہنگائی بد سے بد ترین کی طرف گامزن ہے۔ پیٹرول کی قیمت ہر دوسرے ہفتے بڑھ رہی ہے، روپے کی قیمت اسی رفتار سے گر رہی ہے۔ کمانے والی کمریں دہری ہو رہی ہیں اور سنہری ہاتھوں کی انگلیاں خونچکاں ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ کرپشن، کرپشن، ہائے کرپشن۔ چور چور چور، ملک کو لوٹ کے کھا گئے چور۔ کون چو� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • درخواست برائے وزارت و مشاورت

    بخدمت جناب عالی، گرمی تو ہر برس پڑتی ہے اس برس بھی پڑی،  بارش اپنے وقت پہ برسی، چھٹیاں بھی اسی طرح ہوئیں اور گھر کے افراد بھی اتنے ہی تھے مگر بجلی کا بل وہ نہ تھا۔ ہماری دُہائی سن کے آپ سمجھیں گے کہ ہم ایک مخصوص سیاسی جماعت سے کچھ وابستگی رکھتے ہیں۔ قطعاً نہیں، ہم اس خاص سی� [..]مزید پڑھیں

  • آخر کار ’سجناں نوں قید بول گئی‘

    آخر کار ’سجناں نوں قید بول گئی۔‘ تین سال کی سزا جو کہ شاید ہمارے حساب سے ڈیڑھ سال بنتی ہے کیونکہ جیل کی رات بھی ایک دن شمار کی جاتی ہے۔ یہ ہے وہ منطقی انجام جو کمپنی سے معاہدہ کرنے والے ہر شخص کا ہوتا ہے۔ مجھے چئیرمین پی ٹی آئی کی حلف برداری پہ لکھا گیا اپنا ہی کالم یاد آرہا [..]مزید پڑھیں

  • ویل ڈن حمزہ خان!

    الف لیلیٰ کی کسی کہانی میں ایک محبوس شہزادی کے پاس ایک اجنبی آتا ہے، جسے دیکھ کے پہلے تو وہ ہنستی ہے اور پھر رو پڑتی ہے۔ اجنبی حیران ہوتا ہے اور پوچھتا ہے اے خاتون! تو پہلے ہنسی کیوں اور پھر روئی کس لیے؟ شہزادی نے آنسو پونچھ کر کہا کہ ہنسی تو اس لیے کہ اتنی مدت بعد کوئی آدم زاد دی [..]مزید پڑھیں

  • برسات کا موسم، آفات کا موسم

    بارش، گھٹائیں، اودا کانچ آسمان، امڈتے ہوئے دریا، کناروں سے چھلکتے دریا، گلیوں کوچوں، تہہ خانوں، کچے مکانوں اور دریا کے کناروں پہ آباد بستیوں میں گھسا پانی اور اس پانی میں گھرے آپ کے میرے جیسے انسان۔ ساون کے موسم کے ساتھ ہمارے خطے کے رومانوی تلازمے جڑے ہیں۔ ساون کا ذکر آتے ہی [..]مزید پڑھیں

  • میاں صاحب کی واپسی!

    جلاوطنی بری چیز ہے۔ ہمیں اس کا تجربہ تو نہیں لیکن احساس ضرور ہے۔ اپنی مٹی، اپنے گھر اور اپنے لوگوں سے دوری۔ امیر ہو یا مفلس، غریب الدیار ہونا بڑی مصیبت ہے۔ وطن عزیز کی ننھی منی سیاسی تاریخ جبری اور خود ساختہ جلاوطنی کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ کئی ایسے جلاوطن بھی گزرے، جنہیں د [..]مزید پڑھیں

  • مبارک ہو، ’پارٹی‘ ہوئی ہے

    ہمارے عمر شریف صاحب مرحوم بلا کے جملے باز واقع ہوئے تھے۔ ایسی صورت حال میں سے بھی مزاح تلاش کر لیتے تھے جہاں کسی کے ہونٹوں پہ پتلی سی مسکراہٹ بھی نہ ابھر سکے۔ ایک شو میں فرمانے لگے، ’فلاں صاحب ایسے پیدا ہوئے تھے کہ ان کی امی چھت پہ گڈی اڑا رہی تھیں کہ کسی نے آ کے کہا، بہن مبار� [..]مزید پڑھیں

  • کنبھ کے میلے میں بچھڑنے والے

    ہمارے بچپن میں جب سارے رشتے دار جمع ہوتے تھے تو وی سی آر پر جہاں شدید رومانٹک فلمیں دیکھی جاتی تھیں، وہیں بڑوں کو دھوکہ دینے کے لیے کچھ ایسی فلمیں بھی لگائی جاتی تھیں جن میں کہانی کے ہر خلا کو پُر کرنے کے لیے کچھ ایسے رشتے داروں کو ملا دیا جاتا جو کنبھ کے میلے میں بچھڑ گئے تھے۔ [..]مزید پڑھیں