آمنہ مفتی

  • ہماری لنکا کون ڈھائے گا؟

    کچھ برس قبل جب میں سری لنکا گئی تو کولمبو کی سڑکوں پر خشک پتوں کی جگہ، گل چین اور بوگن ویلیا کے پھول اڑ رہے تھے۔ سانولے چمکتے چہروں والے سنہالی بودھ، مسلمان اور ہندو کسی خاص تفریق کے بغیر خوش باش پھر رہے تھے۔ اسلم مارکیٹ میں دھڑادھڑ ساڑھیاں فروخت ہو رہی تھیں، جواہرات کی دکانوں [..]مزید پڑھیں

  • بات نکلے گی تو پھر۔۔۔

    سیاست کا بور ترین مضمون، دلچسپ ہوتے ہوتے اس قدر دلچسپ ہو چکا ہے کہ اب اس کے علاوہ دور دور تک کسی تفریح کا نام بھی نظر نہیں آتا۔ عید پہ نئی فلموں سے زیادہ انٹرویو سنے اور دیکھے گئے۔ چاند رات اور عید کا دن بھی سیاست ہی میں گزرا۔ کچھ دوستوں کی سیاسی پوسٹیں دیکھ کر ان سے عید نہ ملنے � [..]مزید پڑھیں

  • تحریک انصاف کی خوش قسمتی

    حمزہ شہباز صاحب کو کئی دن لٹکا کے آخر ان کی تقریب حلف برداری کی گئی تو معلوم ہوا کہ عثمان بزدار صاحب جن کا استعفٰی بہت روز پہلے سامنے آیا تھا اب بھی وزیر اعلٰی ہیں کیونکہ استعفٰی خام تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت مرکز میں بھی ختم ہوئی تو آخری وقت تک کرسی سے چپکے رہنے کی کوشش کی گئی۔ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • غلطی کرنے والے جن اور خلائی مخلوق

    خان صاحب کی حکومت کیا گئی ویران سڑکوں پر بہار سی آ گئی۔ پھر سے پنڈال سجنے لگے اور سوشل میڈیا پر جگہ جگہ بلوے اور فساد پھوٹ پڑے۔ پرانے دوست چھوٹ گئے، میاں بیوی میں تلخی آ گئی، رشتے داروں میں قطع تعلق ہو گئے اور جن سے دور دور کی سلام دعا تھی سب بلاک ہو گئے۔ عدم برداشت اور بد زبانی � [..]مزید پڑھیں

  • یہ کھیل ہے کیا؟

    ہمارے بچپن میں ایک کھیل کھیلا جاتا تھا، جس میں ایک فرد بندر بنتا تھا اور ایک ’کلی‘ یعنی چوبی میخ گاڑ کے اس سے ڈوری باندھ کے باقی کھیلنے والوں کے جوتے اس ڈوری کے اندر رکھ لیتا تھا۔ اب بندر کی کوشش ہوتی تھی کہ جوتوں کو اپنی جگہ سے کھسکنے نہ دے لیکن کھیلنے والے اپنے جوتے لے کر ب [..]مزید پڑھیں

  • دنیا تمہارے لیے ہی نہیں ہمارے لیے بھی تو بنی ہے

    اچھے وقتوں میں صرف دسمبر کا مہینہ ہی پاکستانی مردوں اور نیم دانشوروں پر گراں گزرتا تھا اور وہ عشقیہ و ڈیڑھ عشقیہ شاعری کرتے پائے جاتے تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ خدا نے کلسنے کلپنے کو فروری اور مارچ بھی عطا کر دیے۔ فروری کے غم سے کسی طرح گزرے ہی تھے کہ مارچ کا صدمہ لے بیٹھا۔ اب صورت [..]مزید پڑھیں

  • میرا بچہ ایسا کیوں ہے؟

    ایک صاحب گھر سے نکلے، سامنے کیلے کا چھلکا پڑا ہوا دیکھا تو سر پیٹ لیا، ’ہائے او ربا! فیر تلکنا پئے گا!‘ پاکستان کی خارجہ پالیسی اکثر و بیشتر ایسے موڑ پہ کھڑی پائی جاتی ہے جہاں ہم جان بوجھ کے ’رپٹتے‘ اور پھر سالہا سال ٹکور کرتے پھرتے ہیں۔ جنگ ایک بھیانک چیز ہے اور وہ ت� [..]مزید پڑھیں

  • طلاق، شادی اور حس مزاح

    موسم نے کروٹ کیا بدلی کہ لوگ بھی حشرات الارض کی طرح اپنے خول جھاڑنے اور نئی کینچلیاں بدلنے چل پڑے۔ شادی یوں تو ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے لیکن ہمارا معاشرہ بنیادی طور پہ شدید ’شادی کانشس‘ معاشرہ ہے۔ ابھی ہوش بھی نہیں سنبھالتے کہ لوگ باگ شادی کے بارے میں بھونڈے مذاق شروع کر د [..]مزید پڑھیں

  • پڑا ہوا جزیرہ، مرا ہوا دریا

    ہاؤسنگ کالونیز بنانے کا مرض، نئے شہر بنانے کا مراق، زرعی زمینیں اجاڑ کے ان پہ کنکریٹ کے ویرانے بنانے کی بیماری تو خیر پرانی ہے۔ راوی ریور فرنٹ کا منصوبہ البتہ ماحول کی اس بربادی کی کہانی میں ایک نیا باب کھلا ہے۔ کتنے ہی برسوں سے ترقی، روزگار میں اضافے، سرمایہ کاری اور بڑھتی آ� [..]مزید پڑھیں

  • ظاہر جعفر کا پچھتاوا

    نور مقدم کیس کی سماعت ہوتی ہے۔ گتھیاں سلجھتی ہیں، بات الجھتی ہے اور گرہ پہ گرہ پڑ کے گنجل در گنجل ایک ایسی کہانی نظر آتی ہے جس کا انت بظاہر سب کو نظر آرہا ہے لیکن فی الحال سب اسی خیال میں بیٹھے ہیں کہ شاید انصاف، شاید انصاف۔ عثمان مرزا کیس میں جو ڈرامائی موڑ آیا ہے اس سے ہمارے مع [..]مزید پڑھیں