آصف محمود

  • وفاقی وزیر برائے اپوزیشن؟

    جناب راجہ ریاض قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے امور ہیں جن میں انہیں حکومت وقت سے اختلاف ہے؟ یہ سچ مچ میں قائد حزب اختلاف ہیں یا حکومت نے خالی خانہ پُر کریں کے اصول پر انہیں وفاقی وزیر برائے حزب اختلاف کے منصب پر فائز کر رکھا ہے؟ ابھی قومی اسمبلی [..]مزید پڑھیں

  • معیشت کا پھندا

    اس وقت قومی اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے پیش نظر سب سے بڑا بحران ، بادی النظر میں ، معیشت کا ہے۔ قومی سیاسی جماعتوں کو افراط زر ، مہنگائی ، قرض کے بوجھ اور ڈگمگاتی معیشت کے بحران کا سامنا ہے تو مذہبی سیاسی جماعتوں کے سامنے ان کے ساتھ ساتھ سودی معیشت کے حوالے سے ہونے والی تازہ پیش ر� [..]مزید پڑھیں

  • کیا پاکستان کے معاشی بحران کی وجہ امریکہ ہے؟

    پاکستان کے معاشی بحران کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا یہ محض غلط معاشی اور سیاسی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہے یا اس کا تعلق امور خارجہ سے بھی ہے اور ناراض امریکہ پاکستان کو سزا دینے پر تلا ہوا ہے؟ معاشی مسائل نے پہلی بار پاکستان کا گھر نہیں دیکھا۔ قرض اور امداد کی درخواست لے کر تو ہم 1948 � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اے ’ سیاحت‘ ترے انجام پہ رونا آیا

    وفاقی کابینہ نے’’ معاشی استحکام ‘‘ کے لیے سکوک بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ یہ بانڈ ز جن اثاثوں پر جاری ہوں گے ان میں پی ٹی ڈی سی کے غیر فعال ہوٹل بھی شامل ہیں۔ سوال اب سکوک بانڈز کا نہیں، سوال یہ ہے کہ پاکستان ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کے [..]مزید پڑھیں

  • آزاد کشمیر کا لنگر خانہ !

    آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی حکومت نے صدر محترم بیرسٹر سلطان محمود صاحب کے لیے ایک نئی لگژری گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ گاڑی مرسڈیز بینزہے اور اس کی خریداری کے لیے قومی خزانے سے 10 کروڑ25 لاکھ 21 ہزار روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ لنگر خانہ اس جماعت کی حکومت نے کھ� [..]مزید پڑھیں

  • دیوبند کا پاکستان

    تحریک دیوبند نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی لیکن سیاسی، سماجی اور مذہبی سطح پر جو عروج اسے پاکستان میں ملا، اس کا عشر عشیر بھی اسے بھارت میں نہ مل سکا۔ اتفاقات زمانہ کی یہ کروٹ سیاست اور مذہب کے طالب علموں کو دعوت فکر دے رہی ہے۔ اس دعوت عام میں اگر جمعیت علمائے اسلام بھی شریک [..]مزید پڑھیں

  • ’اپنے‘ دو ہزار کو عزت دو

    اقتدار کا مورچہ تو فتح ہو چکا، لیکن پی ڈی ایم کا مقابلہ اب عمران خان سے نہیں، حاتم طائی سے ہے۔ رعایا کے دست سوال پر پورے دو ہزار رکھ دیے گئے ہیں اور یہ ارشاد اومنی بسوں کے روٹ کی طرح ہمراہ ہے کہ آپ پر کوئی پابندی نہیں، اس خزانے کو جیسے مرضی خرچ کریں۔ جی چاہے تو بسوں کا کرایہ دی [..]مزید پڑھیں

  • حکومتیں نہیں ، قانون بدلیے

    ہمارے ہاں یہ غلط فہمی عام ہے کہ حکومت بدل جائے گی تو حالات اچھے ہو جائیں گے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ جب تک قانون میں اصلاحات نہیں آتیں یہاں کوئی بھی حکومت آ جائے حالات بہتر نہیں ہوتے ہو سکتے۔ ملا نصیر الدین صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی چابی گلی میں گم ہوئی تھی اور وہ اسے گھ� [..]مزید پڑھیں

  • خرابی کہاں ہے؟

    پہلے ریاست وجود میں آتی ہے پھر وہ اپنا ایک آئین بناتی ہے۔ اس آئین کی روشنی میں پھر وہ اپنے لیے قوانین تیار کرتی ہے۔ یہ قوانین پھر شہریوں پر لاگو کر دیے جاتے ہیں اور یوں نظام چلتا ہے۔لیکن ہم نے کیا کیا؟ پاکستان 1947 میں قائم ہوا۔پہلا آئین 1956 میں بنا لیکن قوانین 1860 کے ہیں۔ پور� [..]مزید پڑھیں

  • شہباز شریف: کیا کھویا کیا پایا؟

    شہباز شریف وزیر اعظم تو بن گئے، سوال مگر یہ ہے کہ اس کی قیمت انہوں نے کیا ادا کی اور اس منصب پر فائز ہونے سے ملک کو، مسلم لیگ ن کو اور خود ان کی ذات کو کیا حاصل ہوا؟ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب وہ ایک اچھے منتظم تھے لیکن وزیر اعظم کے طور پر وہ غلطی ہائے مضامین کا ایک مجموعہ ثابت ہوئے۔ ب� [..]مزید پڑھیں