آصف محمود

  • دیوبند کا پاکستان

    تحریک دیوبند نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی لیکن سیاسی، سماجی اور مذہبی سطح پر جو عروج اسے پاکستان میں ملا، اس کا عشر عشیر بھی اسے بھارت میں نہ مل سکا۔ اتفاقات زمانہ کی یہ کروٹ سیاست اور مذہب کے طالب علموں کو دعوت فکر دے رہی ہے۔ اس دعوت عام میں اگر جمعیت علمائے اسلام بھی شریک [..]مزید پڑھیں

  • ’اپنے‘ دو ہزار کو عزت دو

    اقتدار کا مورچہ تو فتح ہو چکا، لیکن پی ڈی ایم کا مقابلہ اب عمران خان سے نہیں، حاتم طائی سے ہے۔ رعایا کے دست سوال پر پورے دو ہزار رکھ دیے گئے ہیں اور یہ ارشاد اومنی بسوں کے روٹ کی طرح ہمراہ ہے کہ آپ پر کوئی پابندی نہیں، اس خزانے کو جیسے مرضی خرچ کریں۔ جی چاہے تو بسوں کا کرایہ دی [..]مزید پڑھیں

  • حکومتیں نہیں ، قانون بدلیے

    ہمارے ہاں یہ غلط فہمی عام ہے کہ حکومت بدل جائے گی تو حالات اچھے ہو جائیں گے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ جب تک قانون میں اصلاحات نہیں آتیں یہاں کوئی بھی حکومت آ جائے حالات بہتر نہیں ہوتے ہو سکتے۔ ملا نصیر الدین صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی چابی گلی میں گم ہوئی تھی اور وہ اسے گھ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • خرابی کہاں ہے؟

    پہلے ریاست وجود میں آتی ہے پھر وہ اپنا ایک آئین بناتی ہے۔ اس آئین کی روشنی میں پھر وہ اپنے لیے قوانین تیار کرتی ہے۔ یہ قوانین پھر شہریوں پر لاگو کر دیے جاتے ہیں اور یوں نظام چلتا ہے۔لیکن ہم نے کیا کیا؟ پاکستان 1947 میں قائم ہوا۔پہلا آئین 1956 میں بنا لیکن قوانین 1860 کے ہیں۔ پور� [..]مزید پڑھیں

  • شہباز شریف: کیا کھویا کیا پایا؟

    شہباز شریف وزیر اعظم تو بن گئے، سوال مگر یہ ہے کہ اس کی قیمت انہوں نے کیا ادا کی اور اس منصب پر فائز ہونے سے ملک کو، مسلم لیگ ن کو اور خود ان کی ذات کو کیا حاصل ہوا؟ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب وہ ایک اچھے منتظم تھے لیکن وزیر اعظم کے طور پر وہ غلطی ہائے مضامین کا ایک مجموعہ ثابت ہوئے۔ ب� [..]مزید پڑھیں

  • ملک ایسے نہیں چلتے بھائی جان

    بلیو ایریا سے نکلا تو سامنے گاڑیوں کی ایک طویل قطار تھی۔ یہ اب اسلام آباد کا ہر وقت کا معمول ہے۔ کئی کلومیٹرز تک بمپر ٹو بمپر گاڑیاں چل رہی ہوتی ہیں۔ ان گاڑیوں میں سے کوئی ایک گاڑی بھی پاکستان میں تیار نہیں ہوئی۔ یہ سب گاڑیاں ہم نے قیمتی زر مبادلہ چولہے میں ڈال کر لی ہیں۔ گاڑی [..]مزید پڑھیں

  • آنکھیں کھولیے، موسم روٹھ رہے ہیں

    گرمی کی تازہ  لہر نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ لیکن اس لہر اور اس کے خطرناک  اثرات پر بحث، تحقیق اور گفتگو برطانیہ اور امریکہ میں ہو رہی ہے۔ امپیریل کالج لندن اور یونیورسٹی آف ہوائی میں محققین بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ موسم کی یہ انگڑائی پاکستان کا کیا حشر کر سکتی ہ� [..]مزید پڑھیں

  • کمیشن۔۔۔ نہیں کم حشر سے اودھم ہمارا

    عمران خان رات قوم سے نہیں، جوان جذبوں والے اپنے ان کارکنان سے مخاطب تھے جو کرپٹ عناصر کو نشان عبرت بنا دینے کی کوئی سی بھی قیمت دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ معاملہ مگر یہ ہے عمران خان کے وابستگان میں صرف اٹھتی جوانیوں کا جوش نہیں، کچھ ایسے بھی ہیں جن کی کنپٹیوں کے سفید بال اب رنجِ عش [..]مزید پڑھیں