آصف محمود

  • فلسطین: ’جس کی لاٹھی اس کا انٹر نیشنل لا؟‘

    لیگ آف نیشنز سے اقوام متحدہ تک، فلسطین میں جو کچھ ہوتا رہا اور ہو رہا ہے، اس کا حاصل سادہ سا ایک سوال ہے: کیا انٹر نیشنل لا واقعی کوئی منصفانہ عالمی ضابطہ ہے یا یہ بین الاقوامی لاقانونیت کا دوسرا نام ہے؟ انٹر نیشنل لا، اپنی بنیادی ساخت میں انٹرنیشنل کبھی تھا ہی نہیں۔ یہ پ� [..]مزید پڑھیں

  • نواز شریف واپس آ کر کیا کریں گے؟

    نواز شریف کی واپسی کا مقصد کیا ہے؟ کیا وہ محض انتخابی سیاست کرنے اور ایک بار پھر وزیر اعظم بننے آ رہے ہیں یا وہ اس کشمکش اقتدار سے بلند ہو کر ملک اور قوم کے لیے کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟  اگر وہ چوتھی بار وزیر اعظم پاکستان بننے کے ارادے سے تشریف لا رہے ہیں تو ان کا آنا نہ آن� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • عمران خان کے حریف

    عمران خان کی اننگز ختم ہو گئی ہے، کھیل ابھی باقی ہے۔ قید کی تنہائی میں اگر وہ اپنے حقیقی دشمن کو پہچان پائیں تو وقت کا موسم بدل بھی سکتا ہے۔ یہ دشمن کون ہے؟ یہ سوال ایک انگارہ ہے۔ عمران خان اسے اٹھا کر ہتھیلی پر رکھ لیں تو یہ بجھ جائے گا ورنہ اس میں یہ صلاحیت ہے کہ تحریک انصاف [..]مزید پڑھیں

  • فوجی عدالتیں اور سوموٹو: چند سلگتے سوالات

    انصاف کے جن آفاقی اصولوں پر فوجی عدالتوں کو پرکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیا وجہ ہے کہ ان اصولوں کا اطلاق کبھی سوموٹو اختیارات پر نہیں کیا جا سکا؟ اگر فوجی عدالتوں میں سزا کے بعد ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں اپیل کا حق نہیں ہے تو کیا سوموٹو میں دیے گئے فیصلے کے خلاف کسی&nb [..]مزید پڑھیں

  • عالمی گندھارا کانفرنس

    ہوٹل کی لابی میں چند بدھ بھکشوؤں کو دیکھا تو خوش گوار حیرت ہوئی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا اسلام آباد میں گندھارا تہذیب اور بدھ مت ورثہ کے احیاء کے لیے عالمی گندھارا کانفرنس ہو رہی ہے۔ جس میں شرکت کے لیے کوریا ، ملائیشیا ، چین ، تھائی لینڈ ، میانمر اور ویت نام سے بدھ بھکشو آئے ہوئے [..]مزید پڑھیں

  • شفاف انتخابات کے لیے آرٹیکل 62 کا خاتمہ ضروری ہے

    اگر ہم واقعی  شفاف انتخابات چاہتے ہیں تو ہمیں جان لینا چاہیے کہ اس کے لیے آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 کا خاتمہ یا اس میں بامعنی ترمیم بہت ضروری ہے۔ یاد رہے کہ شفاف انتخابات کے باب میں یہ پہلا قدم ہو گا، آخری نہیں۔ کیونکہ صرف آئین کا آرٹیکل 62 نہیں، الیکشن ایکٹ کا سارا فل� [..]مزید پڑھیں

  • کیا عمران خان اب بھی مقبول رہنما ہیں؟

    فہم و حکمت اور بصیرت کا معاملہ تو اقتدار کے دنوں میں ہی آشکار ہو گیا تھا۔ ایک آخری بھرم یہ تھا کہ جیسے بھی ہیں، وہ مقبول بہت ہیں۔ کیا یہ بھرم بھی بند مٹھی سے گرتی ریت کی طرح ختم ہو رہا ہے؟ اقتدار کا معاملہ حسن کی طرح ہوتا ہے، یہ سو عیب چھپا لیتا ہے۔ مگر اقتدار سے محرومی کے بعد عمر [..]مزید پڑھیں