آصف محمود

  • پرویز مشرف: ایسا دبدبہ، ایسی بےبسی

    پرویزمشرف کے انتقال کی خبر سنی تو یوں محسوس ہوا حسیات میں عبرت کے منظر آ کر بیٹھ گئے ہیں۔ ان پر عروج آیا تو ایسے آیا کہ کوئی زوال کبھی آنا ہی نہیں اور ان پر زوال برسا تو ایسے برسا جیسے عروج کبھی تھا ہی نہیں۔  کہاں وہ رعب و دبدبہ کہ عدالت ان کی جنبش ابرو کا مفہوم سمجھ کر فیصلے د� [..]مزید پڑھیں

  • کیا اردو میں سی ایس ایس نہیں ہو سکتا؟

    سی ایس ایس کا ایک پرچہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ یہ اصل میں فکری افلاس کا ایک شاہکار ہے۔ سماج کو احساس کمتری اور مرعوبیت نے جکڑ نہ رکھا ہوتا تو اس پرچے میں پنہاں فکری افلاس پر سنجیدہ گفتگو شروع ہو چکی ہوتی۔ لیکن ہمارے ’مقامی جنٹل مین‘ چند دنوں سے اقوال ز ریں پر مشتمل ا [..]مزید پڑھیں

  • ہم شہری ہیں یا مال غنیمت؟

    بھارت کی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے اور اس کی لوک سبھا کے اراکین کی تعداد 543 ہے جب کہ پاکستان کی آبادی 23 کروڑ ہے اور اس کی قومی اسمبلی کی نشستیں 342 ہیں۔ پاکستان کا فارمولا بھارت میں لاگو ہوتا تو بھارت کی لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد 2 ہزار سے زیادہ ہونی چاہیے تھی اور بھارت کا فارم [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کیا ن لیگ اپنی طبعی عمر پوری کر چکی؟

    شاہد خاقان عباسی، سعد رفیق اور مفتاح اسماعیل کے بدلتے تیور کیا اس بات کی علامت ہیں کہ موروثیت کا سرطان مسلم لیگ ن کو گھائل کر چکا اور اس کی طبعی عمر پوری ہو چکی؟ حزب اختلاف کا دور مسلم لیگ ن نے دلاوری سے گزارا لیکن اقتدار میں آئے ایک سہ ماہی نہیں گزری کہ اس کی صفوں میں اب ان رہنم [..]مزید پڑھیں

  • ہماری بریانی کھاتے ہو؟

    دو لوگ کان پکڑے مرغا بنے ہوئے ہیں اور معززین علاقہ ان سے تفتیش فرما رہے ہیں۔ ویڈیو پر نظر پڑی تو خیال آیا یقیناً یہ کسی سنگین جرم میں ملوث ہوں گے۔ اسلام آباد میں اگلے روز ایک خود کش حملہ ہوا جس میں ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔ اس کے بعد سے اسلام آباد میں سکیورٹی سخت کر دی گئ [..]مزید پڑھیں

  • پارلیمانی سیاست یا طوائف الملوکی؟

    لوگ اہل مذہب سے بے زار ہوتے ہیں تو سیکولر ہو جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ لوگ اگر اہل سیاست سے بے زار ہو گئے تو اس کا انجام کیا ہو گا؟ مغربی معاشرہ کلیسا سے مایوس ہوا تو رد عمل میں سیکولر ہو گیا۔ پاکستانی معاشرہ اگر مروجہ پارلیمانی سیاست سے آخری درجے میں اکتا گیا تو اس کے نتائج کیا ہو [..]مزید پڑھیں

  • 2022: اخلاقی بحران کا سال

    یہ سال رخصت ہونے کو ہے اور میں شامِ وداع میں بیٹھا سوچ رہا ہوں اس ستم ظریف کو کیا نام دیا جائے؟ یکم جنوری سے 25 دسمبر تک کی خبروں کا ایک ہجوم میرے سامنے ہے۔ عنوان مختلف ہیں، متن جدا اور حاشیے بھی طویل۔ خلاصہ مگر مختصر اور یکساں ہے: یہ سال اخلاقی بحران کا سال تھا۔ 12 مہینوں کا یہ سف� [..]مزید پڑھیں

  • آئین کی تکریم ہی نہیں ترمیم بھی ضروری

    آئین کی تکریم ضروری ہے لیکن آئین میں ترمیم تو بہت ہی ضروری ہے۔ فیصلہ سازوں کو جب تک یہ نکتہ سمجھ نہیں آتا، تب تک آئین کی بالادستی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔  یہ آئین ایک خاص ماحول میں، ایک خاص نفسیات کے زیر اثر مرتب ہوا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن چکا تھا۔ صدمے کی ایک کیفی� [..]مزید پڑھیں

  • کیا اب ’چوتھی قوت‘ کی ضرورت ہے؟

    پہلی، دوسری کے بعد سیاست کی تیسری قوت کا احوال بھی ہمارے سامنے ہے۔ سوال یہ ہے کہ انہی دستیاب سیاسی قوتوں کو خوبیوں خامیوں سمیت قبول کر کے اصلاح کی کوئی صورت نکالی جائے یا جذبہ انقلاب سے مغلوب ہو کر اب ایک چوتھی قوت کے لیے کوہ کنی کی جائے؟ دستیاب سیاسی قوتوں میں اب کسی کو کسی پر [..]مزید پڑھیں