آصف محمود

  • کب تماشا ختم ہو گا؟

    ایک طرف عمران خان ہیں جو قبل از وقت انتخابات چاہتے ہیں، دوسری جانب مولانا فضل الرحمن ہیں جو انتخابات کو ایک سال موخر کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ان دو انتہائوں کے بیچ ، کوئی ہے جو توازن اور اعتدال کی بات کر سکے ؟ عمران خان کا مسئلہ آئین قانون ا ور جمہوریت نہیں مجروح انا ہے۔ اور مو� [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان کی فیس سیونگ کامیاب یا ناکام؟

    احتجاجی سیاست میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد عمران خان کو ایک فیس سیونگ کی تلاش تھی۔ اسمبلیوں سے نکلنے کا مبہم اعلان اسی فیس سیونگ کی تلاش کی ایک ناکام اور غیر سنجیدہ کوشش کے سوا کچھ نہیں۔  احتجاجی تحریک مکمل طور پر ناکام ہوئی۔ یہ تضادات اور فکری افلاس کا ایک نوحہ تھا جو س� [..]مزید پڑھیں

  • ظالمو! کپتان ’جا‘ رہا ہے؟

    پاکستان تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ اسلام آباد کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ معلوم نہیں یہ کپتان کے آنے کا اعلان ہے یا ان کے جانے کا۔ الجھنیں ہجوم کرتی ہیں توغالب یاد آتے ہیں: ’تیرا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی۔‘ ابنِ انشا کے ایک دوست کا محبت میں دل ٹوٹ گیا تو انہوں نے اسے [..]مزید پڑھیں

loading...
  • راستوں کی بندش : آئین اور قانون کیا کہتا ہے؟

    پاکستان میں اب یہ رسم سی چل نکلی ہے کہ احتجاج کرنے نکلو تو راستے بند کر دو۔ چند درجن لوگ چوکوں ، چوراہوں اور سڑکوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور خلق خدا ایک عذاب سے دوچار ہو جاتی ہے۔  سوال یہ ہے کہ پاکستان کا آئین اور قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ راولپنڈی میں اگلے روز تحریک انصاف ک� [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان پر حملہ: ایک سماجی پہلو

    آپ میں سے کتنوں کو یقین ہے کہ ہمارا نظام قانون و انصاف عمران خان پر حملہ کرنے والوں پر پوری معنویت کے ساتھ نافذ ہو گا اور جو بھی حقائق ہوں گے وہ ہمارے سامنے لائے گا؟ یہ سوال میں نے کسی نیم خواندہ سیاسی مجلس میں نہیں بلکہ ملک کی بہترین درس گاہ ، قائد اعظم یونیورسٹی کے طلباء و طا [..]مزید پڑھیں

  • کیا پاکستان صرف جی ٹی روڈ کا نام ہے؟

    عمران خان صاحب کا لانگ مارچ لاہور سے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے؟ نئے انتخابات کے مطالبے کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اس مارچ کے ہمراہ ہے کہ کیا پاکستان صرف جی ٹی روڈ کا نام ہے؟ اجتماعی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق صرف لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، شیخوپورہ، جہلم، اور راولپنڈی& [..]مزید پڑھیں

  • راج ناتھ کی دھمکی : ہم کہاں کھڑے ہیں؟

    27 اکتوبر کو جب ہمارے ہاں داخلی سیاست کے جھگڑے غیر معمولی اہتمام سے زیر بحث تھے، سری نگر میں کھڑے ہو کر بھارتی وزیر دفاع نے ایک بیان دیا۔ آپ ہمارے اجتماعی رویے کی بے نیازی دیکھیے ، یہاں کسی نے اس بیان کا نوٹس تک نہیں لیا۔ جیسے تیسے کر کے 27 اکتوبر کو یوم سیاہ تو منا لیا گیا۔ اب اس [..]مزید پڑھیں

  • کشمیر کا یوم سیاہ

    داخلی صف بندیوں میں الجھی قوم کو خبر ہو کہ آج’ یوم سیاہ‘ ہے۔ ایک یوم سیاہ کشمیری قوم 27 اکتوبر کو مناتی تھی اور ایک مزید یوم سیاہ اس پر پانچ اگست کو مسلط کر دیا گیا ۔ ہم اپنے وزیر اعظم کی قیادت میں ایک جمعے کو پورے نصف گھنٹے کھڑے ہوئے اور اپنے تئیں سرخرو ہو گئے۔ اب ہم داخلی [..]مزید پڑھیں

  • ٹرانس جینڈر قانون: چند سوالات

    اس بات سے قطع نظر کہ ٹرانس جینڈر قانون پر تنقید میں کتنا وزن ہے، سوال یہ ہے کہ کیا قانون سازی ایسے ہوتی ہے؟ ہمارے معاشرے میں ایک خرابی یہ ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ اٹھتا ہے، ہمارے ہاں اہل علم فوراً عصبیت کی بنیاد پر مورچہ زن ہو جاتے ہیں۔ جو مذہبی رجحانات کے حامل ہیں وہ مذہبی طبقے � [..]مزید پڑھیں