مسعود اشعر

  • شمیم حنفی بھی چلے گئے

    دلی سے یہ انتہائی دردناک خبر ملی ہے کہ اردو کے ممتاز نقاد، شاعر، ڈرامہ نگار، مترجم اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر شمیم حنفی بھی کورونا کا شکار ہو گئے۔ ان سے پہلے مشہور و معروف نقاد اور ناول نگار شمس الرحمن فاروقی اسی موذی وبا میں اس دنیا سے چلے گئے تھے۔ زمیں کھا گئی [..]مزید پڑھیں

  • فخر کی بات

    وزیر اعظم صاحب نے کہا ہے کہ انہیں اپنی پالیسیوں پر فخر ہے۔ یہ اعلان کرنے کے لئے انہیں اپنی زبان کو زحمت دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ عام آدمی سے پوچھ لیجئے، وہ اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ وہ کہے گا کہ ان کی پالیسیوں کی کامیابیاں تو ہمیں قدم قدم پر نظر آ رہی ہیں۔  آپ صرف یوٹیلٹی � [..]مزید پڑھیں

  • ہم ایک اور ہمہ گیر شخصیت سے محروم ہو گئے!

    سمجھ میں نہیں آرہا، انہیں کس حیثیت میں یاد کیا جائے؟ وہ ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ہمہ جہت اور ہمہ گیر۔ وہ صحافی تھے۔ ساری عمر صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کے علمبردار تھے۔ آخری عمر تک وہ انسانی حقوق کمیشن کے ساتھ وابستہ رہے۔ وہ اس خط� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اتنا… زیادہ؟…

    آج کل ٹیلی وژن پر کچھ اس طرح کا ایک اشتہار نظر آتا ہے، ایک صاحب بڑے سے چمچے سے تیل کی دھار اوپر سے نیچے گرا رہے ہیں اور حیرت سے آنکھیں اور منہ پھاڑے کہہ رہے ہیں  ’اتنا... زیادہ؟‘ یہ اشتہار ہمیں جوہر ٹائون کے ایکسپو سنٹر جا کر یاد آیا جہاں کورونا کی ویکسین لگائی جا رہی ہ� [..]مزید پڑھیں

  • نایاب فلم گلنار: کھویا ہؤا خزانہ

    ایک زمانے سے ہم ایک بہت ہی پرانی پاکستانی فلم کی تلاش میں ہیں۔ کیا اس تلاش میں آپ ہماری مدد کر سکتے ہیں؟ یہ کالم اسی در خواست کے ساتھ لکھا جا رہا ہے ۔ یہ فلم 1950 کی دہائی میں سید امتیاز علی تاج نے بنائی تھی اور اس میں اردو کے مشہور و معروف مزاح نگار شوکت تھانوی نے بھی کام کیا تھا۔ [..]مزید پڑھیں

  • کل کا جھر لو، آج کے کتنے ارب؟

    چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے بعد ایک صاحب نے نہایت ہی معصومانہ انداز میں سوال کیا ”اب کیا ہوگا؟‘‘ ہم نے کہا: وہی ہو گا جو عمران خاں کو منظور ہو گا۔ آپ دیکھتے نہیں پچھلے دو ڈھائی سال میں وہی ہو تا آ رہا ہے جو عمران خاں چاہتے ہیں۔ عمران خاں نے کہا اوپن بیلٹ ہونا چاہیے۔ او� [..]مزید پڑھیں

  • کنو مالٹے اور موذی کورونا وائرس

    آج کل کنو اور مالٹے وغیرہ کے پیڑ سفیدسفید پھولوں سے لدے ہو ئے ہیں  اور پو ری فضا بھینی بھینی کھٹی میٹھی خوشبو سے مہک رہی ہے۔اب آپ ہمارا مذاق نہ اڑاناکیونکہ ہمیں ان پھو لوں اور اس موسم سے کو روناکا حملہ یاد آ گیا ہے۔  یہی تو موسم تھا جب اس موذی اور منحوس مرض کے وائرس کا ہم [..]مزید پڑھیں

  • وہ آواز کہاں گئی؟

     آ پ نے یہ نام کہاں سنا ہو گا؟ بلکہ ملتان میں پیدا ہونے والی نئی نسل بھی اس نام سے کہاں واقف ہو گی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ٹیلی وژن پاکستان آ تو گیا تھا مگر وہ صرف چند شہروں تک محدود تھا۔ طوطی بول رہا تھا ریڈیو پاکستان کا۔  انہی دنوں ملتان میں بھی ریڈیو پاکستان کی نئی عمار [..]مزید پڑھیں

  • مادھو سے زاہد ڈار تک

    یہ بات کہتے ڈر لگتا ہے مگر کہے بنا رہا بھی نہیں جاتا۔ انتظار حسین کو اپنے کالموں کے لئے عجیب و غریب کرداروں کی تلاش رہتی تھی اور انہی کرداروں میں زاہد ڈار انہیں مل گیا تھا۔ پھر کیا تھا۔ اب تو زاہد ڈار تھا اور انتظار صاحب کے کالم۔  زاہد ڈار کوئی انوکھی بات کہتا اور وہ ان کے کال [..]مزید پڑھیں

  • ایک فلم ضیا محی الدین پر

    ہم یہ تو جا نتے ہیں کہ ضیا محی الدین ہر سال دسمبر کی آ خری شام کو لاہور کے علی آ ڈیٹوریم میں اپنے ایجاد کردہ فن ’پڑھنت‘ کا مظا ہرہ کرتے ہیں اور یہ بھی جا نتے ہیں کہ یہ پڑھنت اتنی مقبول ہو چکی ہے کہ پاکستان میں ادب و فن کے جو بھی جشن منائے جا تے ہیں وہ ضیا محی الدین کی اس پڑھنت [..]مزید پڑھیں