مسعود اشعر

  • ہماری بھی سنی گئی؟

    ہمیں اب تک یقین نہیں آ رہا ہے کہ سرکار دربار میں ہماری بھی سنی گئی ہے اور فردوس مارکیٹ انڈر پاس کا نام وہی رکھ دیا گیا ہے جس کے لئے ہم نے گزارش کی تھی۔ ہم تو یہی کہیں گے کہ لیجئے صاحب، یہ تو کرشمہ ہو گیا۔ کہیں نہ کہیں تو ہماری بھی سنی گئی۔ آج تک تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے سرک [..]مزید پڑھیں

  • ہمارا ٹیکسی کا سفر اور فردوس انڈر پاس

    ہماری اولاد نے ہمارے گاڑی چلانے پر پا بندی لگا دی ہے۔ اس لئے ہم پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔ ہم ایک نجی کمپنی کی گاڑی پر دفتر جاتے ہیں اور اسی کی گاڑی پر واپس گھر آتے ہیں۔  ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ یہ گاڑیاں زیادہ تر اچھے، پڑھے لکھے اور معقول گھرانوں کے نوجوان اور [..]مزید پڑھیں

  • نوم چومسکی کی باتیں

    نوم چومسکی ہمارے اتنے ہی جا نے پہچانے ہیں جیسے ہمارا کوئی بہت ہی پاپولراورمشہور و معروف ادیب۔ جہاں تک ہماری معلومات ہیں ، ان کی تمام کتابوں کا ہی اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ امریکہ کی عالمی پالیسیوں کے سخت نقاد ہیں۔ امریکہ کے ساتھ وہ ان بین ال [..]مزید پڑھیں

loading...
  • سوہنا شہر لاہور اور ریل کی سیٹی

    ہم کو ئی نہایت ہی احمقانہ بات کرتے یا ہماری سمجھ میں کو ئی بات نہیں آتی تو ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے  ’اگر عقل بازار میں ملتی تو اسے دکان سے خرید لا تے‘۔ ہم یہاں عقل اور اس کے ساتھ جمالیاتی حس کا بھی اضافہ کئے دیتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ عقل کے ساتھ جمالیاتی حس بھی اگر بازا [..]مزید پڑھیں

  • اور بڑھی تاریکی

    صبح فیس بک کھولی تو جلی لفظوں میں لکھا نظر آیا  ’ہمارے دادا اس دنیا میں نہیں رہے‘۔ لیکن یہ پیغام ان کی اپنی ہی فیس بک پر لکھا ہوا تھا۔ سمجھ میں نہ آیا کہ کس کے بارے میں یہ خبر دی گئی ہے۔ ذرا غور کیا تو احساس ہوا کہ یہ تو ان کے اپنے رخصت ہو جانے کی اطلاع ہے۔ ایک جھٹکا سا لگا [..]مزید پڑھیں

  • یہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

    اس وقت جب ہم یہ سطریں لکھ رہے ہیں تو ایک ہنستا مسکراتا چہرہ ہمارے سامنے آ گیا ہے۔ اس شخص کا چہرہ جو اب ہم میں نہیں رہا۔ وہ جب بھی ملتے ان کے ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ کھیل رہی ہوتی۔ ہونٹوں پر جمی ہوئی یہ مسکراہٹ اور سر جھٹک کر کچھ شرمیلے سے انداز میں بات کرنے کا لہجہ ان کی پہچ� [..]مزید پڑھیں

  • اگر آج فراز ہمارے درمیان ہوتا؟

    میں نہیں جانتا قبلہ قبلی۔ بات یہ ہے مرے بھائی شبلی۔ اکبر الہ آبادی نے یہ مصرع علامہ شبلی نعمانی کو مخاطب کرتے ہو ئے لکھا تھا۔ اس کے بعد کیا لکھا تھا؟ یہ ہمیں یاد نہیں۔ اگر یہ معلوم کر نا ہو تواردو کے کسی استاد سے پوچھ لیجے۔ ہمیں تویہ مصرع احمد فراز کے بارے میں سوچتے ہوئے یاد آی� [..]مزید پڑھیں

  • اکادمی ادبیات کے نئے منصوبے

    پچھلے دو سوا دو سالوں میں علمی، ادبی اور ثقافتی شعبے میں جوکارنامے انجام دیئے گئے ہیں، وہ یہ ہیں کہ علمی و ادبی اداروں کو دربدر کر دیا گیا ہے۔ ہم لاہور کی بات کر رہے ہیں۔ یہاں اب نہ اکادمی ادبیات کا اپنا کوئی دفتر ہے اور نہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کا۔ اس لئے کہ حکومت ان کے دفتروں کا ک [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر آصف فرخی ، وبا کے دن اور ہمارا ادب

    ادبی جریدے ’ دنیا زاد ‘ کا تازہ شمارہ دیکھا تو ایسا لگا جیسے آصف فرخی ہمارے ساتھ ہی بیٹھے ہیں۔ کورونا وبا کے حوالے سے یہ شمارہ انہوں نے خود ہی تو مرتب کیا تھا۔ انہیں خود یا ہم میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کا مرتب کیا ہوا یہ شمارہ ان کی زندگی میں شائع نہیں ہ� [..]مزید پڑھیں

  • میں روتا ہوں، مت منع کرو!

    آج کل ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں، ان میں پنکج ملک بہت یاد آتے ہیں۔ پنکج ملک اور اس کے گائے ہوئے نیو تھیٹر کے گیت۔ اب بات آ گے بڑھانے سے پہلے ہم یہ بھی عرض کردیں کہ یہ جو پنکج ملک کے نام میں ’ملک‘ کا لفظ ہے، یہ ہمارے اردو، فارسی کا ملک نہیں ہے بلکہ یہ سنسکرت کا  ’مل لک&lsq [..]مزید پڑھیں