مسعود اشعر

  • ضیاالحق کے مارشل لا کی کچھ اور یادیں

    اب چونکہ پرانی یادیں ہی اس کالم کا موضوع بن گئی ہیں، تو چند یادیں اور بھی پیش خدمت ہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ملک میں تازہ تازہ مارشل لا لگا تھا اور جنرل ضیاالحق ایک خبر کی بنا پر ہم سے ناراض نہیں ہوئے تھے۔ حکو مت سنبھالتے ہی انہوں نے اخبارات کے ایڈیٹروں کو اسلام آباد بلایا۔ [..]مزید پڑھیں

  • ضیاالحق کی یاد میں

    عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے کہ ضیاالحق نے اپنی عمر تو نواز شریف کو دینے کی دعا کی تھی، لیکن بہاولپور کے واقعے کے بعد نواز شریف کے زمانے میں ضیاالحق کو اتنا یاد نہیں کیا گیا جتنا اس سال عمران خان صاحب کے دور حکومت میں یاد کیا گیا ہے۔ ہم نے وہ کالم اور وہ مضامین پڑھے اور سوچا کہ ہم ب� [..]مزید پڑھیں

  • اہل نظر اور تازہ بستیاں

    شاعر نے کہاتھا: کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد اور ہمارے وزیر اعظم عمران خاں نے نیا لاہور بسانے کا اعلان کرکے اپنے آپ کو اہلِ نظراصحاب کے قبیلے میں شامل ہو نے کیلئے راستہ ہموار کر لیا ہے۔ اس نئے شہر کیلئے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ: یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں کیو � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے؟

    ذرا تھوڑی دیر کے لئے ناصر کاظمی کو یاد کر لیجئے اور اس کی آواز میں اپنی آواز ملا کر یہ شعر پڑھ لیجئے: ہم اور آپ تو زمیں کا بوجھ ہیں زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے ناصر کاظمی نے غلط تو نہیں کہا تھا۔ کہاں گئے وہ فراخ دل اور کشادہ دماغ رکھنے والے، جن کے اندر برداشت کا مادہ تھ� [..]مزید پڑھیں

  • سفر کی رائیگانی اورادبیات کا ناول نمبر

    اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی؟ یہ محاورہ ہے۔ معلوم نہیں پرانے زمانے میں یہ محاورہ کہاں اور کس موقع پر استعمال کیا جا تا ہو گا؟ اس وقت تو یہ محاورہ اس لئے یاد آیا ہے کہ ہمیں اپنی بھی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ ہمیں تو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ہمارا اونٹ کس [..]مزید پڑھیں

  • کورونا ، ہم اور انصاف کی آواز

    ہم تو یہ سوچ کر نیشنل سیونگ سنٹر پہنچے تھے کہ وہاں کچھ دیرہی اپنی باری کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد ہمارا کام ہو جا ئے گا۔ لیکن وہاں تو ایک تماشہ لگا ہوا تھا۔ سنٹر کا لوہے کا دروازہ بند تھا بلکہ اس دروازے کو ایک گارڈ نے سختی سے بند کر رکھا تھا اور باہر لوگوں کا ایک ہجوم تھا جو ا [..]مزید پڑھیں

  • غریبوں کے لئے گھر اور بینکوں کے قرضے

    عمران خاں نے ایک کروڑ نوکریاں دینے اور پچاس لاکھ مکان بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ نوکریاں دینے کی باری تو ابھی نہیں آئی البتہ گھر بنانے کی باری آ گئی ہے۔ یہ گھر پچاس لاکھ تو نہیں ہوں گے، ایک لاکھ ہوں گے۔ چلئے، کچھ نہیں تو ایک لاکھ ہی سہی۔ انہوں نے خوش خبری سنائی ہے کہ بالآخر غریب [..]مزید پڑھیں

  • ہمارا ٹی وی کہاں گیا؟

    آج کل ترکی کا ڈرامہ ارطغرل پاکستان میں بقول کسے کھڑکی توڑ کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ کہتے ہیں اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس کے سامنے پاکستانی ڈرامے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ ہم نے یہ ڈرامہ نہیں دیکھا۔ البتہ اس پر جو بحث مباحثے چل رہے ہیں انہیں شوق سے دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے لکھنے [..]مزید پڑھیں

  • بڑی بے اعتباری کا ہے موسم

    کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ وطن عزیز میں کیا ہو رہاہے؟ ایک انتشار، ایک خلفشار ہے جس نے اس ملک کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ جو بھی ٹی وی چینل کھولو اس پر سندھی کشتی ملاکھڑا دیکھنے کو ملتی ہے۔ آپ جانتے ہیں نا کہ ملاکھڑا میں ہاتھ پاؤں کے دائو پیچ نہیں ہوتے بلکہ شلوار کے نیفے [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے دکھ اور ہمارا سوال

    انیس سو پچاس کی دہائی میں سید امتیاز علی تاج نے ایک فلم بنائی تھی، نام تھا ”گلنار‘‘۔ فلم کی کہانی اردو کی مشہور مثنوی ”زہرِ عشق‘‘ پر مبنی تھی۔ اس فلم میں نور جہاں اور خلیل احمد نے خالص اردو مثنوی کی قدیم طرز پر وہ مثنوی گائی تھی۔ خلیل احمد اس وقت تک فلموں کے میو [..]مزید پڑھیں