مسعود اشعر

  • یہ سفید پوش کہاں جائیں؟

    پچھلے کالم میں لکھ دیا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھوک سے نہیں مرتا۔ اس حوالے سے داتا دربار کے لنگر کا ذکر کیا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ اس کے علاوہ مخیر اصحاب نے شہر کے مختلف علاقوں کی دکانوں میں دستر خوان کھول رکھے ہیں، جہاں صبح شام غریبوں کو کھانا مل جاتا ہے اور چند ہوٹل اور بیکر [..]مزید پڑھیں

  • کیا کچھ ہمارے ہاتھ میں بھی ہے؟

    نیوزی لینڈ میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں کہ انہوں نے اس موذی وبا کو اپنے ملک سے نکال باہر کیا ہے جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس ملک کی وزیر اعظم جس جوش و خروش سے یہ اعلان کر رہی تھیں، اس سے ایسا لگتا تھا کہ ابھی وہ اس سرشاری میں اٹھ کر ناچنا شروع کردیں گی۔ گویا وہ س� [..]مزید پڑھیں

  • ہماری ادبی اور سیاسی تاریخ

    ہماری بات چیت میں عام طور پر کسی شخص کا ذکر آتا ہے تو ہم سوال کرتے ہیں ”وہ کیا ہیں؟ یعنی ان کی خوبیاں کیا ہیں؟‘‘ لیکن ہمارے درمیان ایک صاحب ایسے بھی ہیں جن کا ذکر آتا ہے تو وہ سوال یہ شکل اختیار کر لیتا ہے کہ ”وہ کیا نہیں ہیں؟‘‘ یعنی ان کی کن کن خوبیوں کو یاد کیا � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کیا یہ اس کے جانے کے دن تھے؟

    میں کیا لکھوں؟ کیسے لکھوں؟ الفاظ میرا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ میں کیسے یقین کر لوں کہ تین چار دن پہلے جس شخص سے ٹیلی فون پر میری بات ہو رہی تھی، اب وہ نہیں رہا۔ یہ دو ڈھائی ہفتے پہلے کی بات ہی تو ہے۔ اسلام آباد سے کشور ناہید کا فون آیا تھا ”آصف فرخی کی شوگر بگڑ گئی ہے۔ اس کا ح [..]مزید پڑھیں

  • دو گونہ عذاب است جان مجنوں را

    کیا آپ یقین کریں گے کہ جب سے یہ منحوس کورونا ساری دنیا کی گردن پر سوار ہوا ہے اس وقت سے اب تک ہم نے اپنے گھر کے دروازے سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالا ہے۔ ہم ہیں اور ہمارے گھر کی دیواریں یا یوں کہہ لیجئے کہ ہمارے کمروں کی دیواریں۔ انہیں دیکھتے دیکھتے آنکھیں پتھرا جاتی ہیں تو با [..]مزید پڑھیں

  • اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں؟

    فارسی کے استاد معین نظامی صاحب نے اپنے بلاگ میں حافظ شیرازی کا ایک شعر نقل کیا ہے۔ وہ شعر ہماری آج کی صورتحال پر کچھ اتنا صحیح بیٹھتا ہے کہ اس وقت ہم اسے آپ کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہاں ”آپ“ سے ہماری کیا مراد ہے؟ یہ شعر پڑھ کر خود ہی آپ کی سمجھ میں آ جائے گا۔ حا� [..]مزید پڑھیں

  • مرے دل میں ہزاروں وسوسے ہیں

    وسوسے تو ہیں اور ہزاروں ہی وسوسے ہیں لیکن کیا کیا جائے۔ کس سے کہا جائے اور کس کی سنی جائے؟ ہمارے شہر کے ایک بہت ہی بڑے ہسپتال کے باہر ایک صاحب کھڑے شور مچا رہے تھے کہ ایک جگہ سے میرا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے اور دوسری جگہ سے نیگٹیو۔ انہوں نے اپنے گرد ایک مجمع اکٹھا کر رکھا تھا۔ ہم لڑک [..]مزید پڑھیں

  • احمد فراز سے شبلی فراز تک

    احمد فراز کے صاحب زادے شبلی فراز جب عمران خاں کی جماعت میں شامل ہوئے تھے تو اسی وقت ہم حیرت کے سمندر میں ڈوب گئے تھے۔ فراز کا بیٹا اور اس جماعت میں جس کے مشیر اعلیٰ جنرل ضیاالحق کے ایک قریبی ساتھی لیفٹنٹ جنرل مجیب الرحمن تھے۔  وہی جو نفسیاتی جنگ کے ماہر مانے جاتے تھے اور جو ا� [..]مزید پڑھیں

  • ادب اور ادیب آن لا ئن

    دعا دیجے سائنس کو کہ اس نے ہمارے لئے اتنی سہولتیں اور اتنی آسانیاں پیدا کر دی ہیں کہ اس وقت جب کورونا کی وبا نے ایک انسان کو دوسرے انسان سے دور رہنے اور آپ کو گھروں میں بند رہنے پر مجبور کر دیا ہے توادیبوں نے مل بیٹھنے کا ایک اور ہی وسیلہ تلاش کر لیا ہے ۔ یہاں مل بیٹھنے سے مراد [..]مزید پڑھیں

  • کورونا وائرس اور ہماری توقعات

    آج کل ہمیں یہ شعر بہت یاد آ رہا ہے: مانگا کریں گے اب تو دعا ہجرِ یار کی آخر کو دشمنی ہے دعا کو اثر کے ساتھ یہ شعر ہم نے ڈرتے ڈرتے لکھا ہے اور یہ سوچ کر لکھا ہے کہ کیا ہماری دعاؤں میں اثر باقی نہیں رہا؟ کیا ہماری دعائیں قبول نہیں ہو رہی ہیں؟ آپ خود ہی دیکھ لیجئے کہ جب سے یہ موذی [..]مزید پڑھیں