مسعود اشعر

  • مگر سوال تو اب تک وہیں پڑا ہوا ہے

    کسی دل جلے نے ہمیں ایک شعر بھیجا ہے۔ یہ تو معلوم نہیں یہ شعر کس کا ہے مگر ہمیں کچھ کچھ حسب حال سا لگتا ہے۔ اس لئے یہ شعر آپ بھی پڑھ لیجئے: اٹھا لئے گئے ہیں، جو اٹھا رہے تھے سوال مگر سوال تو اب تک وہیں پڑا ہوا ہے وہ سوال جو اب تک وہیں پڑا ہوا ہے، اسے آپ بھی جانتے ہیں مگر کیا ہمارے [..]مزید پڑھیں

  • پیوندی جمہوریت اور علم و ادب

    سوال کیا جا رہا تھا کہ ہمارے ہاں کیسی جمہوریت ہے؟ کیا یہ خالص جمہوریت ہے؟ مکمل جمہوریت ہے؟ یا نیم جمہوریت ہے؟ ہم سے کسی نے سوال نہیں کیا ورنہ ہم عرض کرتے کہ اصل میں یہ پیوندی جمہوریت ہے۔ ایسی ہی پیوندی، جیسے ہمارے کھیتوں میں پیوندی بیج بوئے جاتے ہیں یا آج کل پیوندی موٹر کاریں [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے سوال

    حاکم کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی سے بچ کے ہی رہنا چا ہیے۔ ہمارے بزرگ یہ ہدایت کرتے تھے۔ ساری عمر ہم نے اس ہدایت پر عمل کیا ہے۔ ہم نے ہر حاکم سے مار کھائی ہے اور گھوڑے سے دولتی (یہ لمبا قصہ ہے پھر کبھی بیان کریں گے) لیکن سوال کرنے سے کبھی باز نہیں آئے۔ آج کل بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹی� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایک سال نہیں، ڈیڑھ دو سال

    ”آپ کو اظہارِ رائے کی پوری ضمانت دی جاتی ہے لیکن اس کے بعد جو ہوگا، اس کی ضمانت نہیں دی جا سکتی‘‘۔ عیدی امین کا یہ قول ہمیں نئے سال پر ملا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ قول اپنی گرہ میں کس کے باندھ لو، کہ یہ تمہیں بار بار یاد آئے گا۔ اور ہم نے اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی ہے اور � [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ

    لیجئے، فیض احمد فیض کی نظم بھی نفرت پھیلا رہی ہے۔ یہ کہا ہے ہندوستان کے شہر کانپور کے ایک پروفیسر صاحب نے۔ آج کل وہاں شہریت کے نئے قانون کے خلاف جو احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، انہیں جوش و جذبہ اور حدت و حرارت مل رہی ہے فیض اور حبیب جالب سے۔ اب ہندی زبان میں تو ایسی نظمیں اور ایس [..]مزید پڑھیں

  • کراچی آرٹس کونسل اور بہت کچھ۔۔

    ان دنوں ہم کر اچی میں ہیں۔ جب سے اسلام آباد میں نیا پاکستان بنانے والی حکومت آئی ہے کراچی کو اتنا بد نام کیا گیا ہے کہ یہاں آنے کی بات سنتے ہی خوف آنے لگتا ہے۔ کچرا ہے تو وہ کراچی میں۔ کتے ہیں تو وہ کراچی میں۔ اور کراچی کے کتے انسانوں کو کاٹتے بھی ہیں۔ یہ خبریں پڑھ پڑھ کر لگت [..]مزید پڑھیں

  • محبِ وطن کون؟

    سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے اور طلبہ یونین کی بحالی کی راہ ہموار کر دی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔ لیکن یہاں کیا ہوا؟ طالب علم رہنماؤں اور طلبہ یکجہتی مارچ کا انتظام کرنے والوں کے خلاف بغاوت اور غداری کے مقدمے ب [..]مزید پڑھیں

  • منہاج برنا اور نثار عثمانی کہاں ہیں؟

    کوے ہیں سب دیکھے بھالے۔ چونچ بھی کالی پر بھی کالے۔ حکومتیں بھی ہماری سب دیکھی بھالی ہیں۔ 1950 کی دہائی سے اب تک کی تمام حکومتیں ہم نے دیکھی ہیں اور یہ بھی دیکھا ہے کہ جب بھی کسی حکومت کی کمزوری سامنے آنے لگتی ہے تو نزلہ میڈیا پر ہی گرتا ہے۔  یہ الیکٹرانک میڈیا تو کل کی بات ہے، پ� [..]مزید پڑھیں

  • غم نہ داری بز بخر۔۔۔

    محاورہ ہے ”غم نہ داری بز بخر‘‘۔ اگر آپ کو کوئی غم نہ ہو تو ایک بکری خرید لو۔ پھر آپ کی زندگی میں غم ہی غم اور دکھ ہی دکھ رہ جائیں گے۔ پریم چند نے اسی عنوان سے افسانہ بھی لکھا ہے۔ ایک صاحب نہایت آرام اور سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ انہیں کوئی غم اور کوئی دکھ نہیں ت� [..]مزید پڑھیں

  • میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا۔۔۔

    ہم خوش ہیں کہ جواہر لعل یونیورسٹی دہلی کے طلبہ اور طالبات مل جل کر زور شور سے حبیب جالب کی نظم ”دستور‘‘ اسی ترنم میں پڑھ رہے ہیں، جس ترنم میں حبیب جالب پڑھا کرتا تھا۔ چلیے کہیں سے تو باغیانہ آواز آئی۔ ایسے دستور کو، صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا۔ یہ وی� [..]مزید پڑھیں