عطاالحق قاسمی

  • پاگل ای اوئے؟

    میرے ایک دوست کو اخبارات پڑھنے کا بہت چسکا تھا جس کے نتیجے میں وہ پاگل ہو گیا ہے۔ اور اس کے ذہن میں عجیب طرح کے خوف اور واہمے جمع ہو گئے ہیں۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا تو بہت گھبرایا ہوا تھا۔ کہنے لگا ’مجھے کچھ ہو گیا ہے۔‘ میں نے کہا ’کیا مطلب؟‘بولا ’کوئی ایک ہو تو بت� [..]مزید پڑھیں

  • دُر فٹے منہ بے غیرتا!

    میں تو ہمیشہ دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ کبھی کسی کو نصیحت نہ کرو اور اگر کبھی مجبوراً کرنا بھی پڑ جائے تو اتنے اچھے انداز میں کرو کہ دوسرا بدمزہ نہ ہو۔ میں نے ہمیشہ اسی اصول پر عمل کیا ہے اور اس کے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز میں نے ایک دوست، جو چین اسموکر ہے کو کہا ’ [..]مزید پڑھیں

  • ’ہتک آمیز مواد‘

    ایک وقت تھا کہ لاہور کے علاوہ اسلام آباد بھی ادیبوں کا گڑھ بن چکا تھا۔ یہاں جوش ملیح آبادی، ممتاز مفتی، قدرت اللہ شہاب، محمد منشا یاد، رشید امجد، پروین شاکر ، صدیق سالک، شفیق الرحمان، کرنل محمد خاں،سید ضمیر جعفری، احمد فراز، احمد داؤد اور بہت سے دوسرے سینئر اور قابل ذکر جونی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ان ہاتھوں سے نہلایا ہے جی اسے!

    بہت افسوس ہوا تمہارے دوست جیرے پہلوان کی وفات کا سن کر بہت پیارا آدمی تھا۔ ان ہاتھوں سے نہلایا ہے جی اسے۔ ایک ہی تو اپنا دوست تھا آج کل ایسے کہاں ملتے ہیں۔ اسے ہوا کیا تھا! ہونا کیا تھا بالکل ٹھیک ٹھاک تھا، ایک دن پہلے اکھاڑے میں اس کے ساتھ زور کیا، کیسے کیسے استادی ’دا&l [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (39)

    باتوں باتوں میں میں سلیم اختر کا سراپا بیان کرنا بھول گیا۔ پچاس کا سن اور اس کے باجود سر پر پورے بال چاہے گن کر دیکھ لیں۔ سانولا رنگ، کتابی چہرے پر عینک جو انہیں متکلف بنانے کی بجائے ان کی شخصیت کو مزید باوقار بناتی تھی۔ دوران گفتگو کھلکھلا کر ہنستے اور اچھے لگتے ۔ کالج یا تقری [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (38)

    جو لوگ ڈاکٹر سلیم اختر کو ذاتی طور پر نہیں جانتے بلکہ انہیں صرف ان کی تحریروں کے حوالے سے جانتے ہیں وہ میری یہ تحریر پڑھ کر بہت حیران ہوں گے کیونکہ جب میں پہلی دفعہ ڈاکٹر صاحب سے ملا تو خاصاحیران ہوا۔ حیرانی کی وجہ یہ تھی کہ میں نے ان کی کتاب ’عورت جنس اور جذبات‘ کچھ افسان [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (37)

    حفیظ صاحب کی زندگی بھر یہ خواہش رہی کہ انہیں صرف شاعر نہیں، اسی طرح قومی شاعر سمجھا جائے جیسے اقبال کو سمجھا جاتا ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ وفات پر انہیں علامہ اقبال کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ حکومت نے ان کی خواہش کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی جو اس بات کا جائزہ لے سکے کہ ان کی یہ خواہ [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (37)

    بعض اوقات کوئی واقعہ میں پہلے کہیں بیان کر چکا ہوتا ہوں مگر اسے ’میری کہانی‘ میں بیان کرنا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ ’میری کہانی‘ ادھوری نہ رہ جائے۔ مثلاً مجھے یاد آ رہا ہے کہ اپنے وقت کی بہت عمدہ اور مقبول ترین شاعرہ پروین شاکر کی لاہور آمد پر میں نے اور امجد اسلام ام� [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (36)

    اوسلو شہر کے مرکز میں بادشاہ کا دفتر تھا۔ باہر سے بھی عام سا لگتا تھا اور جب میں سیڑھیاں چڑھ کر بادشاہ سلامت سے ملاقات کیلئے گیا، میرے لئے دروازہ کھولا گیا توسامنے بادشاہ اپنے دفتر کے درمیان میں میرے استقبال کیلئے کھڑے تھے۔ آفس میں صرف ایک میز تھا اور دو کرسیاں ایک کرسی پر ب� [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (35)

    ناروے میں میری سفارت کے دوران انڈیا نے ایٹمی دھماکے کئے، مجھے دفتر خارجہ میں بلا کر یہ درخواست کی گئی کہ پاکستان کے اس جواب میں ایٹمی دھماکہ نہ کرے۔ میں نے کہا میں آپ کی یہ ریکوسٹ اپنی حکومت تک پہنچا دوں گا۔ تاہم میرا آپ سے ایک سوال ہے کہ اگر انڈیا ایٹمی طاقت ہونے کے زعم میں � [..]مزید پڑھیں