عطاالحق قاسمی

  • میری کہانی (34)

    ناروے میں بطور سفیر میری تعیناتی میرے لئے ایک امتحان تھا۔ میں نے پوری کوشش کی کہ اس امتحان سے بچ جاؤں مگر میرے مخلص احباب نے بہت مضبوط دلائل کےساتھ بالآخر مجھے قائل کر لیا کہ میں یہ ذمے داری قبول کرلوں۔ بصورت دیگر یہ کہنا بند کر دوں کہ ہمارے سفارتخانے اپنی ذمہ داریاں پوری نہی� [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (33)

    میری عمر کا بڑا حصہ مشاعرے پڑھنے میں گزرا ہے۔ آج اس شہر میں، کل نئے شہر میں۔ بلکہ ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر جاری رہتا ہے۔ ایک دفعہ نذیرناجی سے ان کے کسی قاری نے کوئی سوال پوچھا انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ عطاالحق قاسمی سے رجوع کریں، وہ ان دنوں اتفاق سے پاکستان میں ہیں۔ اور � [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (32)

    جو پاکستان آپ آج دیکھ رہے ہیں، میں نے اس سے بالکل مختلف پاکستان بھی دیکھا ہے۔ یہ جو زندگی میں آج گزار رہا ہوں میں نے اس سے مختلف زندگیاں بھی گزاری ہیں۔ رند اور واعظ دونوں کے ساتھ دوستی رہی ہے۔ ایک دلچسپ بات آپ کو بتاؤں کہ جامعہ اشرفیہ کے سالانہ جلسے کے موقع پر ٹانگے پر لاؤڈ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • میری کہانی (31)

    گاؤ تکیہ کے ساتھ احسان صاحب بیٹھے ہوتے ، سامنے لوگ براجمان ہوتے ، جن میں زیادہ تر ان کےشاگرد ہوتے۔ شعرو ادب کی باتیں بھی ہوتیں اور اس دوران احسان صاحب درمیان درمیان میں من گھڑت واقعات بھی سناتے۔ اس طرح کی کچھ باتیں ان کی نثری کتاب ’جہانِ دانش‘ کی پہلی جلد میں بھی موجود ہ� [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (31)

    حفیظ، فیض اور احسان دانش سے میرا ’رشتہ‘ بہت عجیب رہا ہے اور اس سے زیادہ تعلق ان کی علالت یا وفات کے حوالے سے ہے۔ میں نے مجید نظامی صاحب سے فیض صاحب کے انٹرویو کی اجازت لی۔ فیض صاحب اگرچہ ماڈل ٹاؤن میں میرے ہمسائے تھے مگر ان کے حوالے سے نوائے وقت کی جو پالیسی رہی تھی وہ اتنی [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (30)

    اس نوع کی ایک اور وضعداری کی مثال یاد آرہی ہے۔ قیام پاکستان سے قبل والد ماجد مولانا بہاالحق قاسمی مجلس احرار سے وابستہ تھے۔ ’زندگی‘ والے چودھری افضل حق مرحوم بھی مجلس احرار کے رہنماؤں میں سے تھے۔ ایک دفعہ چودھری صاحب مرحوم و مغفور کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں اشتراکیت [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (29)

    میں حسب عادت کام کاج سے فارغ ہو کر گھر آتے ہی سیدھا والد ماجد کے کمرے میں انہیں سلام کرنے کیلئے جاتا ہوں، مگر ان کابستر خالی ہوتا ہے، ان کی چھڑی اور شیروانی کھونٹی سے لٹکی ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ باتھ روم تک گئے ہیں۔ میں ہر بار بھول جاتا ہوں کہ میں انہیں اپنے ہاتھوں سے [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (28)

    جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ زندگی میں حرام مال کمانے کے بے شمار مواقع ملے لیکن وہ وجوہ اس رستے پر چلنے میں مانع رہیں۔ ایک تو ابا جی کی تربیت اور دوسرے اس حوالے سے انکی پوری زندگی کی عملی مثال۔ اس کی دوسری وجہ اپنی خودداری۔ میں سوچتا تھا کہ میں جو اس کی نظر میں ایک باوقار اور � [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (27)

    میں اپنی زندگی میں پانچ دفعہ موت کے منہ سے نکلا ہوں۔ ایک تو بچپن میں جب میں ماں کی گود میں تھا میری حالت اتنی غیر ہوگئی تھی کہ ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا۔ اور کہا گھنٹوں کی نہیں منٹوں کی بات ہے ۔ امی جی بتاتی تہیں کہ تمہارے ابا جی کی طبیعت میں اتنی جلد بازی تھی کہ وہ گورکن کو کہہ آئے [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (26)

    آپ نے یہ ’کہاوت‘ تو سنی ہو گی کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ میں اس میں ایک اور طرح کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ جس نے منیر نیازی کو نہیں دیکھا اس کی باتیں نہیں سنیں، اس کی شاعری نہیں پڑھی، اس نے اپنی عمر کا کثیر وقت ضائع کیا۔ شکل وصورت سے کسی فلم کا ہ� [..]مزید پڑھیں