عفت حسن رضوی

  • ورنہ ہونے کو کیا نہیں ہو رہا

    یہ موضوع ہمارے لوگوں کے لیے بولڈ ہے، سماجی حدوں سے باہر ہے، بہت سے پاکستانی قارئین کے لیے شاید اس مضمون میں کی گئی باتیں ہمارے معاشرے سے تعلق نہیں رکھتیں۔ لیکن اگر دنیا کو گلوبل ویلج کہتے ہیں تو سمجھنا پڑے گا۔ جیسے ہوا، پرندے، خیال اور افواہیں سرحد، فاصلہ رکاوٹ سے بےنیاز ہوتے [..]مزید پڑھیں

  • مدرسہ، منبر، مولوی، مرد پرائیوٹ لمیٹڈ

    ہر بات کہہ لینے کی نہیں ہوتی کیونکہ ہر بات ہر کسی کے سمجھنے کی نہیں ہوتی۔ اللہ نے جیسے سب کو الگ الگ سکت اور نوعیت کا نظام ہضم دے رکھا ہے ایسے ہی سیانی گیانی بات دماغ میں جذب کرنے کی صلاحیت بھی سب کے پاس ایک سی نہیں۔ مذہب کا موضوع بھی ایسا ہی بھاری بھر کم ہے۔ مذہب ایک الہامی معام� [..]مزید پڑھیں

  • قومی اسمبلی سارجنٹ نے اماں کو کیا کہانی سنائی

    کہانیاں، کہہ مکرنی، حکایتیں، روایتیں، افسانے۔ یہ سب سنانے والوں کے دم سے وجود پاتے ہیں۔ کہانی کہنا اور سننا انسان کی سرشت میں ہے، اسے اچھا لگتا ہے یہ جاننا کہ کسی کی بیتی آخر کیسے بیتی۔ یہ بتانا کہ جو اس نے دیکھا تو کیا دیکھا۔ ایسی ہی ایک کہانی قومی اسمبلی کے سارجنٹ نے اپنی ام� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • وہ صنم بناتے نہیں جو ٹوٹ جائے

    پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ صحافیوں کی تنظیم ہے جو کہ عدالت عظمیٰ میں روزانہ کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں پر مشتمل ہے۔ اس تنظیم کے پاس سپریم کورٹ عمارت کے اندر ایک کمرہ ہے۔ یہ کمرہ پہلے اپنے سائز میں خاصا چھوٹا ہوتا تھا۔ درمیان میں ایک بڑی سی کانفرنس میز تھی جس کے چاروں طرف ر� [..]مزید پڑھیں

  • عجیب مرحلہ فکر ہے مرے دوستو!

    مرحوم علامہ طالب جوہری کی مجالس سننے والے یوں تو ان کی علمی و ادبی شخصیت کی کمی محسوس کرتے ہوں گے لیکن ان کے مخصوص انداز خطابت کی یاد بھی آتی رہتی ہے۔ جب قرآن کریم، حدیث یا فلسفے سے کوئی مشکل موڑ نکال لاتے تو کہا کرتےتھے کہ ’عجیب مرحلہ فکر ہے جہاں میں اپنے سننے والوں کو لے آی� [..]مزید پڑھیں

  • احتجاج کا لہجہ بدل کہ دیکھیے

    یہ تو طے ہے کہ انسانی تاریخ میں زندگی، ترقی اور اچھائی کی بات جب بھی ہوئی وہ جنگ کے میدان نہیں تھے۔ جنگ کے میدانوں میں ہار جیت انسانی ڈھانچوں اور تباہ شدہ اسلحے کا ملبہ دیکھ کہ ماپی جاتی ہے۔ ’طاقت ور کون‘ یہ فیصلہ تو جنگیں کرسکتی ہیں مگر بقا اور دوام کسے ملی گی یہ جاننا می� [..]مزید پڑھیں

  • یا اللہ! ظالم کے راکٹوں میں کیڑے پڑیں

    وہ بادشاہ صرف بچوں کی کہانیوں میں ملے گا جسے مظلوم یتیم بچے کے گرتے آنسو دیکھ کر پھر ساری رات نیند نہیں آئی۔ اور ایسا نرم دل تاجر بھی من گھڑت حکایتوں میں ہوتا ہے جس نے ضرورت مند دیکھ کر اپنے خزانے کا منہ کھول دیا۔ وہ ہیرو تو بس فلموں میں ہوتا ہے جو مشین گن سے نکلی گولیاں ہاتھ سے � [..]مزید پڑھیں

  • ذکر اک ٹھنڈے کمرے کا

    شدید گرمیوں میں گزشتہ برس نجانے کیا سوجھی افسر شاہی میں پھنسے ایک بظاہر معمولی سے کام کو نمٹانے اسلام آباد سے کراچی چلی گئی۔ یہی کوئی آٹھ، دس چکر کراچی کے ایک گنجان علاقے میں واقع ڈی سی آفس کے لگائے۔ عملہ ایک فائل غائب کر چکا تھا اسی کی تلاش تھی۔ ایک ادھیڑ عمر کا مرد کلرک سارا � [..]مزید پڑھیں

  • جو دوا کے نام پہ زہر دے اسی چارہ گر کی تلاش ہے

    دنیا کو ہم پاکستانی اچھے ہاتھ لگے۔ سماجی سائنس دانوں کی تجربہ گاہ، سیاسی محققین کا تختہ مشق، عالمی طاقتوں کے لیے کھیل کا میدان، مذہب کو سیاست اور سیاست کو مذہب کے نام پہ استعمال کرنے والوں کے لیے نیٹ پریکٹس۔ ہم ہر صورت حال کے حساب سے مال آرڈر پہ تیار کرنے کے ماہر ہو چکے ہیں۔ تج [..]مزید پڑھیں

  • کیسے کہہ لیتے ہو لبیک، لبیک؟

    سوچیں ایک بادشاہ ہے۔ اس گول دنیا کی کوئی زمین ایسی نہیں جہاں اس بادشاہ کا نام لوگ جانتے نہ ہوں، دنیا کی آبادی میں ان گنت لوگ اس بادشاہ کے نام کا ورد زباں کرتے ہوں۔ یہ ایسا سردار ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑا لشکر اس کی طاقت کے آگے ہیچ ہے۔ ایسی حشمت ہے کہ بڑی طاقت والے بھی اس کا دم بھرت� [..]مزید پڑھیں