عفت حسن رضوی

  • خاں صاحب! آپ کو گمراہ کیا جارہا ہے

    ’یہ ہوٹل اور آئی ٹی کے شعبے میں پندرہ سال گزارنے والی اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری یافتہ ایک لڑکی  کی سی وی  ہے، میں نے پوچھا تنخواہ کے حوالے سے آپ کی توقع کیا ہے۔ وہ بولی  30 ہزار۔۔۔  اس سے پہلے ای کامرس کی  پوسٹ کے لیے ایک  لڑکا انٹرویو دے کر گیا [..]مزید پڑھیں

  • بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی

    سیاست میں ایک یہی تو اچھی بات تھی کہ اس میں حرف آخر کچھ بھی نہیں۔ کوئی مستقل دوست ہے نہ دشمن۔ سیاست میں تو بات ہوتی تھی، بات سے بات چلتی تھی۔ ملاقاتیں ہوتی تھیں کبھی نتیجہ خیز اور کبھی بےنتیجہ لیکن بات چیت کے راستے کھلے رہتے تھے۔ آج ہم سیاست کی اس روایت سے بھی گئے۔ ادھر حکومت من [..]مزید پڑھیں

  • ملزم کیوں نہ ہنسیں

    ہم حال مست لوگ ہیں، خوش رہتے ہیں خوش رکھتے ہیں پھر چاہے وہ ہمارا قاتل ہی کیوں نہ ہو۔ ہماری قومی خوش مزاجی کا اک نیا رخ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دکھایا ہے۔ نواز شریف ضمانت کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا ہے کہ ’لندن میں بیٹھ کر ملزم بھی ہنستا ہوگا کہ کیسے پورے نظام کو شکست [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مصلحت کے شہر میں انقلاب کی باتیں

    شاعر عجیب ہوتے ہیں۔ ان کے پاس شعر کہنے اور لفظوں سے کھیلنے کا ایک ہی تو فن ہوتا ہے۔ یہ انہی لفظوں سے خواب دکھاتے ہیں، کبھی نجومی بن کر مستقبل کا حال سناتے ہیں، کبھی دوست بن کر اپنے خیالات کا کندھا دیتے ہیں اور کبھی تلخ شاعری سے طعنے تشنے بھی دے جاتے ہیں۔ آج کل مرحوم راحت اندوری � [..]مزید پڑھیں

  • کراچی، ابھی تو ہمیں اور ڈوبنا ہے

    لندن کی ایک یونیورسٹی کی کلاس میں کچھ عرصہ قبل پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ کے طالب علم صحافی بیٹھے تھے۔ لیکچرر نے سوال پوچھا: ’آپ کے خیال میں آپ کے ملک کو درپیش ٹاپ پانچ مسائل کیا ہیں جو مستقبل قریب میں بھی آپ کے ملک کے لیے چیلنج بنے رہیں گے؟‘ مجھ سمیت س [..]مزید پڑھیں

  • کیا ریاست کو سوال سننا پسند نہیں؟

    آئیں ہم اہل تذبذب سوچتے ہیں۔ اگر ساری دنیا کی طبیعت معتدل ہو جائے، سب کو سر جھکانے کی عادت ہو، سب کسی نہ کسی ڈیل کے منتظر ہوں، سب ہاں میں ہاں ملانے کو تیار ہوں تو ظلم کی لاٹھی اٹھانے والے کے ہاتھ کون روکے گا؟ کار جہاں کتنا بوجھل سا لگے گا۔ سوچیں ایک ایسی دنیا جہاں سب محتاط ہوں، س [..]مزید پڑھیں

  • پاکستانی عدلیہ: ’شیشے کا گھر اور کانچ کی گڑیا‘

    کالم کی ابتدا میں ہی واضح کر دوں کہ تحریر کے عنوان میں جو کانچ کی گڑیا یا شیشے والے الفاظ لکھے ہیں یہ ججز کے منہ سے نکلے ریمارکس ہیں جو کہ کھلی عدالت میں دیے گئے تھے اس لیے فدوی ایسی ویسی توہین عدالت کی ہر گز مرتکب نہیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے 18ویں آئینی ترمیم کیس کے دور� [..]مزید پڑھیں

  • صرف عذیر بلوچ جے آئی ٹی کافی نہیں

    فائل کی پیمنٹ ہوگئی؟ ٹی وی پر میچ آرہا ہے، دیکھا؟ ارے وہ گھڑی کس نے خریدی تھی؟ ایک ٹارگٹ کلر کی دوسرے سے فون پر خفیہ الفاظ و اشاروں میں گفتگو کچھ ایسے ہوتی ہے۔ یہ بالی وڈ فلم نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے مبینہ ٹارگٹ کلر کا اقبالی بیان ہے جو اس نے جے آئی ٹی کے سامنے [..]مزید پڑھیں

  • اب ایک نہیں چار قاضی ہیں

    اس بات سے انکار نہیں کہ ملک میں عوام کی اکثریت کے لیے قانونی موشگافیوں کو سمجھنا آسان نہیں۔ آسان ہی کیا ضروری بھی نہیں۔  عوام کو  کیا لگے کہ دماغ پر زور ڈالیں کہ جی قاضی فائز معاملے پر سپریم کورٹ کا مختصر فیصلہ تو آ گیا اب تفصیلی فیصلے میں کوئی کسی کا کیا بگاڑ لے گا۔ عوام ک� [..]مزید پڑھیں

  • کیا جسٹس عیسیٰ پاکستانی عوام کے مجرم ہیں؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ۔ نام لکھنے کی دیر ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر جملے کسنے والے یہاں وہاں سے جمع ہو جاتے ہیں۔ ان افراد میں کچھ سیاست دان ہوتے ہیں، کچھ سیاسی کارکن، کچھ انجان گمنام اکاؤنٹس اور کچھ نام نہاد صحافی۔ سوال ہوتا ہے کہ رسیداں کڈو، جج صاحب بہانے نہ بناؤ  [..]مزید پڑھیں