فرخ سہیل گوئندی

  • شریف خاندان کی جہدِ سرمایہ داری

    پانامہ لیکس عالمی سرمایہ داری نظام کے باہمی تضادات اور تصادم کی کہانی ہے۔ ہمارے ہاں جو لوگ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ لوٹا ہوا مال واپس لائیں گے اور ایک ملک سے دوسرے ملک سرمائے کی ترسیل پر اعتراض کرتے ہیں، ان کو علم ہونا چاہیے کہ کیپٹل ازم کی تعریف ہی Movement of Capital ہے۔ بس اب یہ ہوا کہ [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان، نظام گراؤ حکومت نہیں

    عمران خان 2013ء میں انتخابات کی کامیابی کے بعد جس دھج سے سیاست کر رہے ہیں، لگتا ہے ان کا تصورِ جمہوریت، کسی کوڈیٹا سے متاثر ہے۔ وہ معاملاتِ سیاست کو آئین، جمہوریت اور قانون سے بالاتر ہو کر دیکھتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے نئی حکومت کے قیام کے فوراً بعد حکومت کو اپنے ’’تصورِ جمہو [..]مزید پڑھیں

  • نیشنل بُک فاؤنڈیشن کا قومی کتاب میلہ

    نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے تین سال قبل درحقیقت دوسرا جنم لیا ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید جب سے اس ادارے کے سربراہ بنائے گئے، نیشنل بُک فاؤنڈیشن کو تب سے ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔ ادارہ جہاں کتاب اور قلم کاروں کی تخلیقات کو فروغ دے رہا ہے، وہیں وہ کتاب دوستوں، کتاب پڑھنے والوں اور کتاب [..]مزید پڑھیں

loading...
  • دار سے اقتدار کی پارٹی

    کچھ عرصے سے یہ خبریں گرم ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی تنظیم نو کا آغاز کرنے والی ہ۔، اس کے لیے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قمرالزمان کائرہ پریس کے ذریعے مطلع بھی کر رہے ہیں اور پنجاب میں تنظیم نو کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چند ہمدرد اس بات پر یقین کر چکے ہیں � [..]مزید پڑھیں

  • پانامہ لیکس، عالمی سرمایہ داری کے تضادات

    پانامہ لیکس نے عالمی سرمایہ داری نظام کے تضادات اور اندرونی تصادم کو بے نقاب کرنے میں حیرت انگیز توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ ہمارے سیاسی اور ریاستی ادارے بھی ان لیکس کے بعد اپنی اپنی چال کھیلنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ ٹیکس چوری، ناجائز دولت اور منی لانڈرنگ کی بنیاد پر دنیا بھ [..]مزید پڑھیں

  • 2018ء کے انتخابات کے بعد کا منظر

    ( فرخ سہیل گوئندی نے قارئین کی سہولت کے لئے  2018ء کے انتخابات کے بعد کی صورتِ حال پر یہ کالم 2016 میں ہی لکھ دیا ہے۔ ایک تخیلاتی کالم ہے۔  کالم نگار اپنے تجربے اور مطالعے کی بنیاد پر اس Scenario کو دو سال قبل پیش کر رہا ہے۔) قومی انتخابات کے بعد پاکستان میں جمہوریت اب ایک نئے مرحل [..]مزید پڑھیں

  • لڑکھڑاتی جمہوریت اور آمریت کے امکانات!

    سیاسی لیڈر ہمیشہ اپنے جمہوری ادوار میں بلند بانگ دعوے کرتے ہیں کہ جمہوریت مضبوط ہے اور اس کو کوئی طاقت نہیں گراسکتی۔ لیکن ہم نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دیکھا کہ آمروں نے جب بھی چاہا، منتخب حکومت کی بساط لپیٹ دی۔ ذوالفقار علی بھٹو، پاکستان کی جمہوری تاریخ کے سب سے مقبول منتخ [..]مزید پڑھیں

  • بھٹو کے حوالے سے چند حقائق

    ذوالفقار علی بھٹو نے 21دسمبر 1971ء کو اس وقت پاکستان کا اقتدار سنبھالا جب پاکستان کا مشرقی حصہ (مشرقی پاکستان) علیحدہ ہوچکا تھا، اقتدار فوجی آمریت کے تحت جنرل یحییٰ کے پاس تھا، پاکستان ایک آئینی ریاست تھی اور پاکستان کا نظام مارشل لاء تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی ذات سے نفرت کرنے وا [..]مزید پڑھیں

  • ماسکو میں گلشنِ اقبال کے شہیدوں کے چراغ

    گلشنِ اقبال ، مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کا باغ، علامہ اقبال ٹاؤن، اقبال لاہوری، 27مارچ کو اقبال اور جناح کے بچوں کی لاشوں سے پٹ گیا۔ ایک درندے نے ’’جنت کی نام نہاد کنجی‘‘ کے حصول کے لئے اپنے ہم مذہبوں اور اپنے ہی ہم وطنوں کو بے رحمانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتار دی [..]مزید پڑھیں

  • دہشت گردوں کی نفسیات

    دو روز قبل لاہور میں اتوار کو گلشن اقبال میں خود کش حملہ آور نے خود کو ہلاک کرکے 73 سے زائد ہم وطنوں کو زندگیوں سے محروم کردیا۔ حملہ آور کی شناخت کے مطابق اس کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا۔ وہ لاہور کے ایک مدرسے میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہیں پر تعلیم دینے کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ [..]مزید پڑھیں