فرخ سہیل گوئندی

  • حسین حقانی، ایک اور زلمے خلیل زاد

    حسین حقانی کیا چاہتے ہیں؟ یہ بات وہ لوگ یقیناً بہتر سمجھ سکتے ہیں جو اُن کی صحافتی اور سیاسی زندگی سے آگاہ ہیں۔ وہ دائیں بازو کے عروج میں جنم لینے والے اُن طلبا رہنماؤں میں سرفہرست تھے جو جنرل ضیاالحق کے دور میں عملی زندگی میں ابھرنا شروع ہوئے۔ ذہین اور موقع پرست شخصیت رکھنے وا� [..]مزید پڑھیں

  • نواز شریف اور سول ملٹری تعلقات

    پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کا موضوع دہائیوں سے اپنی جگہ موجود رہا ہے۔ موجودہ نواز حکومت سے لے کر 1985 میں جونیجو حکومت بننے تک یہ موضوع سیاسی، صحافتی اور عوامی حلقوں میں کھل کر زیر بحث  ہے۔ اس سے پہلے یہ معاملہ موجود تو تھا لیکن ایسے اہم موضوع پر کھلی بحث کم کم ہی دیکھنے کو مل� [..]مزید پڑھیں

  • سَربلند، راؤ رشید

    بابائے سوشلزم شیخ رشید، ملک معراج خالد، حنیف رامے اور راؤ رشید، یہ میرے اُن دوستوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے پچھلی صدی کے آغاز میں آنکھ کھولی۔ میں جب اوائل نوجوانی میں داخل ہوا تو میری زندگی میں زیادہ تر دوستوں کا تعلق اسی نسل سے تھا۔ اس نسل کے لوگوں سے دوستی نے میری عملی زندگی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • یارم حنیف رامے

    جن لوگوں کو میں نے سکول کے زمانے میں آئیڈیلائز کیا، اُن میں سے کئی نامور لوگ چند سالوں بعد میرے دوست تھے۔ دوست کی تعریف میرے نزدیک یہ ہے کہ جو آپ کا رازداں بن جائے۔ تعلق اور دوستی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ خصوصاً سیاست دان سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگوں کے قریب ہوتے ہیں۔ لیکن اُن کے رازدا� [..]مزید پڑھیں

  • میرے چار دوست، ملک معراج خالد (2)

    اکثر لوگوں کو ملک معراج خالد  کی باتیں مختلف سٹیجوں اور ٹیلی ویژن کے ٹاک شوز میں سننے کو ملتی رہتی ہیں۔ مختلف سیمینارز اور شخصیت سازی کے حوالے سے لیکچرز میں اُن کے کردار کو ماڈل کے طور پر پیش ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے اس بات پر بے انتہا خوشی ہوتی ہے کہ میں نے عملی زندگی کا آغاز ا� [..]مزید پڑھیں

  • میرے چار دوست، بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید(1)

    بہت یاد آتے ہیں مجھے، میرے چاردوست اور جدوجہد کے ساتھی اور سیاسی رہنما بھی۔ بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید مرحوم، ملک معراج خالد مرحوم، حنیف رامے مرحوم اور راؤ رشید مرحوم۔ مجھے ان دوستوں کے ہمراہ کبھی بھی کم مائیگی کا احساس نہیں ہوا۔ اُن نام نہاد روایات کا کبھی ان کی محفلوں اور ج� [..]مزید پڑھیں

  • سرد جنگ اور آج کی دنیا

    جنگ عظیم اوّل کے بعد یورپ اور ایشیا کا نقشہ بدلنے لگا۔ نئی ریاستوں کا ظہور ہوا۔ کلونیل نظام میں اتھل پتھل ہوئی۔ روایتی کلونیل ریاستوں کا کردار معدوم ہونے لگا اور مزید کلونیل ریاستیں ابھر کر سامنے آئیں جن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ سرفہرست ہے۔ اسی دوران روس میں بالشویک انقلاب [..]مزید پڑھیں

  • ٹرمپ، فلسطین اور دو ریاستی حل

    حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ کے 16فروری 2017 کے بیان کے مطابق، نیتن یاہو اور ٹرمپ کی میٹنگ کے بعد یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ اس میں مذاکرات کی موت کا نیم سرکاری اعلان کیا گیا۔ بیشتر امریکی سیاست دانوں نے جو بات محسوس تو کی تھی مگر جعلی شائستگی اور معقولیت کی بنا پر � [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان میں بائیں بازو کا بحران

    مشرقی یورپ میں اشتراکی ریاستوں کے خاتمے اور سوویت یونین کے تحلیل ہونے کے بعد عالمی سطح پرسرمایہ دار دنیا کے سرخیل دانشوروں نے اِسے تاریخ کا خاتمہ قرار دیا۔ اور یہ اعلان ہوا کہ سوشلزم ناکام ہوگیا اور یہ کہ دنیا کا مستقبل سرمایہ دارانہ جمہوریت ہے۔ پاکستان میں بھی یہی اعلان ہوا۔ [..]مزید پڑھیں

  • تخلیق کاروں کی تقریب

    15فروری کو تخلیق کاروں کی ایک شان دار تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ اس سے صرف ایک دن قبل تخریب کاروں نے لاہور کو اپنی تخریب کاری کا نشانہ بنایا۔ ایسا سماج جہاں تخریب کاروں کی یہ کوشش ہو کہ وہ تخریب کے ذریعے، تخلیق اور تعمیر کو روک کر اپنی رجعتی اور تخریبی سوچ کو مسلط کرلیں گے، ایسے � [..]مزید پڑھیں