عدنان خان کاکڑ

  • عمران خان کی پریشانی اور دماغی صحت

    کل ایک پریشان کن خبر پڑھ کر ہم دیار غیر میں بھی ٹینشن میں بیٹھے ہیں۔ پہلے آپ بھی خبر پڑھ لیں تاکہ دیار یار میں آپ ہم سے بھی زیادہ پریشان ہو سکیں۔ صدر پاکستان عارف علوی نے بتایا ہے کہ عمران خان ملک کی حالیہ صورتحال پر کافی پریشان ہیں۔ ان کی پریشانی اس قدر زیادہ بڑھ گئی ہے کہ انہو� [..]مزید پڑھیں

  • بوئنگ 737 میکس جہاز اور اسد عمر

    بوئنگ 737 میکس میں نقص یہ تھا کہ اس کی دم پر وزن زیادہ ڈال دیا گیا تھا اور باڈی کے پرانے انجن کی جگہ زیادہ پاور فل انجن لگا دیے گئے تھے۔ نتیجہ وہی نکلا جو آپ نے موٹر سائیکل پر اس وقت محسوس کیا ہو گا جب آپ اچانک زیادہ ریس دے دیتے تھے اور پتہ چلتا تھا کہ اگلا ٹائر ہوا میں بلند ہو گیا ہے [..]مزید پڑھیں

  • اب بھگتیں سب معیشت کو

      حکومت گرنے کی خبریں تواتر سے آ رہی ہیں۔ کوئی بتا رہا ہے کہ بجٹ سے پہلے کام تمام ہو جائے گا۔ کوئی بتاتا ہے کہ نہیں، بلکہ بجٹ میں جب عوام کی روح کھینچی جائے گی تو جولائی اگست میں عوامی غصہ اور بے بسی حکومت کو بہا لے جائیں گے۔ کچھ کہتے ہیں کہ نہیں حکومت کی رسی اس برس کے آخر تک [..]مزید پڑھیں

loading...
  • فیصل واؤڈا کا نوکریوں کا دعویٰ درست ہے

    مورخہ 8 اپریل کو حامد میر کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واؤڈا نے بیان دیا کہ پاکستان میں نوکریوں کی ایسی بہتات ہو گی کہ امیدوار ملنا مشکل ہو جائے گا، اور یہ معجزہ محض ہفتے، دس دن، دو چار ہفتے میں برپا ہو جائے گا، اور پان چھابڑی والے بھی کہیں گے ک� [..]مزید پڑھیں

  • معیشت اس سے زیادہ بہتر نہیں ہو سکتی

    تحریک انصاف کے بہت ’ڈائی ہارٹ‘ حامی بھی نہایت پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے محض چھے آٹھ ماہ بعد ہی ڈائی ہارڈ سے ڈائی ہارٹ کی تبدیلی کو بعض قنوطی پریشان کن قرار دے رہے ہیں۔  اس مردہ دلی کو پھیلانے میں مقامی اور عالمی میڈیا بھی اپنا کردار ادا کر رہا [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے بچوں کا سولہ دسمبر تو روز آتا ہے

    سولہ دسمبر ہماری تاریخ کے منحوس ترین دنوں میں سے ہے۔ ہمارے سے پچھلی نسل نے اس تاریخ کو قائد اعظم کا پاکستان دو لخت ہوتے دیکھا تھا۔ سنا ہے کہ ایک طویل عرصے تک وہ غمزدہ رہے تھے۔ سولہ دسمبر کے بعد انہیں نارمل ہونے میں بہت وقت لگا تھا۔ ہماری نسل نے اس تاریخ کو آرمی پبلک سکول کا قتل عا [..]مزید پڑھیں

  • کیا ہم واقعی روہنگیا کی مدد کرنا چاہتے ہیں؟

    روایت ہے کہ ایک جنگل میں کچی پکی جمہوریت آ گئی۔ ووٹروں کی اکثریت نے فیصلہ کیا کہ اگلے پانچ برس جنگل کا بادشاہ ایک بندر ہوگا۔ بندر بادشاہ نے ابھی تخت سنبھالا ہی تھا کہ ایک ہرنی فریاد کرتی ہوئی آ گئی۔ کہنے لگی کہ ”بادشاہ سلامت! آپ کے راج میں شیر میرے میاں کو اٹھا کر لے گیا ہے، با� [..]مزید پڑھیں