یاسر پیرزادہ

  • ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر

    ”جنابِ اسپیکر، معزز اراکینِ پارلیمان، خواتین و حضرات! آج کا دن ہماری سیاسی تاریخ کا یادگار دن ہے، آج سے قریباً اسّی برس پہلے قائد نے ہماری ریاست کی سمت متعین کی تھی مگر افسوس کہ ہم بھٹک گئے۔ اسی لیے آج میں کوئی روایتی تقریر کرنے نہیں آیا اور نہ ہی آپ کے سامنے اپنی حکومت کی ک� [..]مزید پڑھیں

  • میں، روزنامہ ’کالک‘ اور ’عدم جونئیر‘

    سچ پوچھیں تو میرا ارادہ تھا کہ آج میں آپ کو اپنی ذات کے اُن پہلوؤں سے آگاہ کروں جن سے صرف میرا تحت الشعور بلکہ لا شعور واقف ہے اور بتاؤں کہ میں کس قدر عجیب و غریب، محیر العقول اور دخل در معقول قسم کی خصوصیات کا حامل انسان ہوں۔ مجھ میں کیسے کیسے گُن ہیں، میں کتنا عظیم ہوں، میں ن [..]مزید پڑھیں

  • آئی ایم ایف کا باقاعدہ شکریہ

    ’قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں، رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن‘ ۔ اِس میں دو رائے ہو سکتی ہیں کہ اقبال کے تصورِ پاکستان کو جناح صاحب کُلی طور پر عملی جامہ پہنا سکے یا نہیں البتہ غالب کے تصورِ عیاشی کو ہم نے قومی شعار ضرور بنا لیا ہے۔ مرزا، ڈومنی کے طلبگار تھ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • جامعات کی گھٹن اور میرٹ کا تماشا

    ایک ایسی یونیورسٹی کا تصور کیجیے جو رات بھر کھلی رہتی ہے، جس کے کتب خانوں میں طلبا گھنٹوں کتابوں میں غرق رہتے ہیں، جہاں لڑکے لڑکیاں بے تکلفی سے تبادلہ خیال کرتے ہیں، کوئی فلسفے پر بحث کرتا ہے تو کوئی سیاست پر۔ اور کسی کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ اکٹھے بیٹھنے پر یونیورسٹی انتظامیہ کو� [..]مزید پڑھیں

  • شکر ہے فیفا کا ورلڈ کپ ختم ہوا

    کتابِ عُمر کا اِک اور باب ختم ہُوا، شکر ہے فیفا کا ورلڈ کپ ختم ہُوا۔ شکر میں نے اِس لیے ادا کیا کہ ورلڈ کپ کے میچز دیکھ کر ایک عجیب احساس محرومی پیدا ہو گیا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ یہ کون سی دنیا ہے، کون سا سیارہ ہے، جہاں چوالیس دنوں میں ایک سو چار میچ ہوئے  اڑتالیس ٹیمیں کھیلیں� [..]مزید پڑھیں

  • اردو کا مستقبل موسیقی سے وابستہ ہے

    پرانی بات ہے۔ کسی سرکاری میٹنگ میں نئے قانون کے حوالے سے زور شور سے بحث ہو رہی تھی، ہم بھی وہاں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے تو میں نے ازراہ تفنن اپنے باس سے کہا کہ یہ نیا قانون کچھ کچھ منٹو کے افسانے جیسا ہے، اِس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ اسِ پر موصوف نے نہایت سنجیدگی سے پوچ� [..]مزید پڑھیں

  • مزید کچھ فتاویٰ کی درخواست ہے

    کرپٹو کرنسی کے خلاف مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ پڑھا، دل باغ باغ ہو گیا۔ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ لب لباب فتوے کا یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی ’دولت‘ نہیں ہے بلکہ یہ محض کمپیوٹر پر لکھے چند حروف ہیں۔ لہذا اگر ان کے عوض کوئی چیز خریدی جاوے گی تو وہ آپ کی نہ ہووے گی، حرام ہوگی۔ م� [..]مزید پڑھیں

  • ایک بے عیب دنیا کے آٹھ افراد

    ایک صبح جب وہ بیدار ہوئے تو سوائے اُن کے دنیا میں کوئی موجود نہیں تھا۔ وہ تعداد میں آٹھ تھے۔ چار مرد اور چار عورتیں۔ وہ یہاں کیسے آئے، کیوں آئے، کس نے بھیجا، انہیں نہ اِس بات کا علم تھا اور نہ ہی اُن کے دماغ میں یہ سوالات تھے۔ وہ تحیر زدہ آنکھوں کےساتھ اِس دنیا کو دیکھ رہے ت [..]مزید پڑھیں

  • قلعے کی فصیل پر کھڑے ہو کر دیکھنے والے

    میں قلعے کی فصیل پر کھڑے ہو کر نیچے دیکھتا ہوں۔ روزانہ ایک ہی منظر ہوتا ہے۔ نیچے لوگ آتے ہیں۔ پہلے پہل تو وہ یونہی آ کر قلعے کی دیواروں کو تکتے رہتے تھے۔ یہ دیواریں اُس قدر مضبوط اور اونچی ہیں کہ انہیں دیکھنے کے لیے سر کو آسمان کی طرف کرنا پڑتا ہے۔ مگر اب وہ صبح سویرے جمع ہو جاتے [..]مزید پڑھیں

  • بہشتی دروازے کی گارنٹی

    آج کل پاکپتن کا بہشتی دروازہ ’کھڑکی توڑ‘ رش لے رہا ہے۔ اگر اِس کی کوئی ٹکٹ ہوتی تو بلیک کرنے والوں کی چاندی ہو جاتی۔ یہ بارہ فٹ کا ایک لکڑی کا پرانا دروازہ ہے جسے عقیدت مند ’بہشتی دروازہ‘ کہتے ہیں۔ محرم کے پانچ دنوں میں اسے کھولا جاتا ہے۔ ان پانچ دنوں میں وہاں جو حشر [..]مزید پڑھیں