یاسر پیرزادہ

  • سارا قصور مسلم دنیا کا ہے

    فرض کریں کہ آج یہ دنیا تاریخ کے اُس دور میں واپس چلی جائے جب غلامی کو قانونی حیثیت حاصل تھی اور یہ بھی فرض کر لیں کہ اُس وقت کے لوگوں کے دماغ میں مزاحمت، جدوجہد اور بغاوت کا تصور پیدا نہیں ہو سکتا تھا تو ایسی صورت میں کیا ہوتا؟ کیا انسان کبھی غلامی سے نجات پا سکتا؟ ظاہر ہے کہ نہی [..]مزید پڑھیں

  • زندگی کو کنٹرول کرنے کی خواہش

    سید مزمل شاہ ایک خوبصورت اور نوجوان صحافی ہیں، خوبصورت زیادہ ہیں اور صحافی کم ہیں کیونکہ وہ صحافت سے زیادہ فلسفے اور سماجی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔ فریڈرک نِطشے اُن کا پسندیدہ فلسفی ہے۔  نطشے سے اُن کی وابستگی کا عالم یہ ہے کہ بعض اوقات مجھے یوں لگتا ہے جیسے پاکستان میں نطش [..]مزید پڑھیں

  • غالب کا لائف سٹائل اور ہماری شاہ خرچیاں

    اگر موٹیویشنل اسپیکرز کی نظر سے دیکھا جائے تو مرزا اسد اللہ خاں غالب ایک ناکام آدمی تھے۔ عُسرت کی زندگی گزاری، آمدن سے زیادہ خرچ کیا، قرض کی مے پیتے رہے، جوئے میں پیسے ہارتے رہے، شاہ خرچیوں کی بدولت اُن پر چالیس پچاس ہزار قرضہ چڑھ گیا لیکن اپنی حرکتوں سے باز کبھی نہ آئے۔ سترہ � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اگر ہمیں تیس ارب ڈالر مل جائیں توکیسا ہو؟

    جہالت کا علاج موجود ہے مگر انسان کے ’ڈ نگر پن‘ کا کوئی علاج نہیں۔ جب سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ڈنکے بجنا شروع ہوئے ہیں، تب سے ’شریکوں‘ کو آگ لگی ہوئی ہے اور اِن میں اپنے پیٹی بند بھائی بھی شامل ہیں۔ انہیں یہ بات کیسے ہضم ہو کہ سرکار کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل [..]مزید پڑھیں

  • میرے پاس ٹرمپ ہے

    ’دیوار‘ فلم کا وہ مشہور زمانہ مکالمہ تو آپ کو یاد ہی ہو گا جس میں امیتابھ بچن کہتا ہے ”یہ وہی میں ہوں اور یہ وہی تم ہو، ہم دونوں ایک ساتھ اِس فٹ پاتھ سے اٹھے تھے، لیکن آج تم کہاں رہ گئے، اور میں کہاں آ گیا۔ آج میرے بلڈنگیں ہیں، پراپرٹی ہے، بینک بیلنس ہے، بنگلہ ہے، گاڑی ہے، [..]مزید پڑھیں

  • انسانوں اور فرشتوں میں کیا فرق ہے

    ٹھیک سے یاد نہیں یہ بات کہاں پڑھی تھی، بس مفہوم یاد ہے۔ کچھ اِس قسم کا تھا کہ بندے کا پیٹ بھرا ہوا ہو، بینک میں مناسب سے پیسے ہوں اور کوئی مجبوری نہ ہو تو اخلاقیات کا جھنڈا اُٹھانا آسان ہوتا ہے۔ اخلاقی اقدار کے بارے میں گفتگو اُس وقت اچھی لگتی ہے جب اِن اقدار کو اپنانےکی کوئی حق� [..]مزید پڑھیں

  • ٹینشن زندگی میں ہوتی ہے، موت کے بعد نہیں

    بندے کو اپنے فوت ہونے کی پریشانی نہیں ہوتی۔ ٹینشن اُسے اِس بات کی ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد وہ دنیا کے تماشے نہیں دیکھ پائے گا۔ صدیوں، برسوں اور دہائیوں کی بات تو چھوڑیں، چند مہینوں میں دنیا کے رنگ ڈھنگ ایسے بدل جاتے ہیں کہ انسان سوچتا ہے کہ اگر میں زندہ نہ ہوتا تو یہ سب کیسے دیکھ پا [..]مزید پڑھیں

  • خواتین کا عالمی دن، رمضان اور ماہواری

    ”رمضان کا مہینہ (وہ ہے ) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں ) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں ) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزو [..]مزید پڑھیں

  • شالا نظر نہ لگے

    ایک زمانہ تھا کہ گھر میں صبح چھ بجے اخبار آتا تھا جو اُس وقت کا ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام سب کچھ ہوا کرتا تھا، گھر والے سارا دن اسی اخبار سے چِمٹے رہتے تھے۔ اگر کسی دن بہت ہی بڑا کوئی واقعہ رونما جاتا تو شام کو اخبارات ضمیمہ شائع کر دیتے تھے جو چند ہی گھنٹوں میں چوراہوں پر پہنچ � [..]مزید پڑھیں

  • قیامت سے قیامت تک

    نہ جانے اِس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے، ہم بمشکل ایک قدم آگے چلتے ہیں کہ دو قدم پیچھے کو دھکا لگ جاتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ہم نے جنگ لڑی اور ایسے لڑی کہ جسے دنیا کی جامعات میں کیس سٹڈی کے طور پر پڑھایا جانا چاہیے۔ لیکن یہ دہشت گردی ایسا راکشس ہے کہ جس کا ایک سر کاٹو تو دوسرا [..]مزید پڑھیں