یاسر پیرزادہ

  • اپنی اپنی نحوست

    بھکاریوں کے گھر کا لڑکا صبح بھیک مانگنے نکلا تو باپ نے کہا: ”پُتّر، تم مشرق، مغرب یا جنوب کی سمت تو جا سکتے ہو مگر شمال کی جانب مت جانا۔“ لڑکے نے وجہ پوچھی تو باپ نے کہا: ”شمال میں نحوست ہے، اس لیے اجتناب کرنا“۔ لڑکے نے ہنس کر جواب دیا: ”ابا، میں بھیک مانگنے جا رہا ہو� [..]مزید پڑھیں

  • ہم سب کے اندر کا جانور 47 میں کیوں جاگا

    سن 1974  کی ایک شام اٹلی کے شہر نیپلز کے آرٹ سٹوڈیو میں ایک عجیب تماشا ہوا۔ ایک اٹھائیس سالہ فنکارہ، مرینا ابراموویچ، کمرے کے وسط میں بت بنی کھڑی ہو گئی اور اس نے اپنے سامنے میز پر 72 مختلف اشیا رکھ دیں۔ ان چیزوں میں گلاب کا پھول، پرندے کا پر، شہد، انگور وغیرہ تھے، مگر ساتھ ہی ق� [..]مزید پڑھیں

  • میں واپس آؤں گا

    کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے۔ کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے: پچانوے برس کے ایشر سنگھ گریوال کی یادداشت گڈ مڈ ہو جاتی ہے۔ ایک صبح وہ اپنے ڈرائیور کو کہتا ہے کہ اسے سرگودھا لے چلو، اسے وہاں کچھ کام ہے، ڈرائیور کو سرگودھا کا کچھ اتا پتا نہیں۔  ایشر سنگھ کہتا ہے کہ لاہور تک چلو آگے میں [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر

    ”جنابِ اسپیکر، معزز اراکینِ پارلیمان، خواتین و حضرات! آج کا دن ہماری سیاسی تاریخ کا یادگار دن ہے، آج سے قریباً اسّی برس پہلے قائد نے ہماری ریاست کی سمت متعین کی تھی مگر افسوس کہ ہم بھٹک گئے۔ اسی لیے آج میں کوئی روایتی تقریر کرنے نہیں آیا اور نہ ہی آپ کے سامنے اپنی حکومت کی ک� [..]مزید پڑھیں

  • میں، روزنامہ ’کالک‘ اور ’عدم جونئیر‘

    سچ پوچھیں تو میرا ارادہ تھا کہ آج میں آپ کو اپنی ذات کے اُن پہلوؤں سے آگاہ کروں جن سے صرف میرا تحت الشعور بلکہ لا شعور واقف ہے اور بتاؤں کہ میں کس قدر عجیب و غریب، محیر العقول اور دخل در معقول قسم کی خصوصیات کا حامل انسان ہوں۔ مجھ میں کیسے کیسے گُن ہیں، میں کتنا عظیم ہوں، میں ن [..]مزید پڑھیں

  • آئی ایم ایف کا باقاعدہ شکریہ

    ’قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں، رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن‘ ۔ اِس میں دو رائے ہو سکتی ہیں کہ اقبال کے تصورِ پاکستان کو جناح صاحب کُلی طور پر عملی جامہ پہنا سکے یا نہیں البتہ غالب کے تصورِ عیاشی کو ہم نے قومی شعار ضرور بنا لیا ہے۔ مرزا، ڈومنی کے طلبگار تھ [..]مزید پڑھیں

  • جامعات کی گھٹن اور میرٹ کا تماشا

    ایک ایسی یونیورسٹی کا تصور کیجیے جو رات بھر کھلی رہتی ہے، جس کے کتب خانوں میں طلبا گھنٹوں کتابوں میں غرق رہتے ہیں، جہاں لڑکے لڑکیاں بے تکلفی سے تبادلہ خیال کرتے ہیں، کوئی فلسفے پر بحث کرتا ہے تو کوئی سیاست پر۔ اور کسی کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ اکٹھے بیٹھنے پر یونیورسٹی انتظامیہ کو� [..]مزید پڑھیں

  • شکر ہے فیفا کا ورلڈ کپ ختم ہوا

    کتابِ عُمر کا اِک اور باب ختم ہُوا، شکر ہے فیفا کا ورلڈ کپ ختم ہُوا۔ شکر میں نے اِس لیے ادا کیا کہ ورلڈ کپ کے میچز دیکھ کر ایک عجیب احساس محرومی پیدا ہو گیا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ یہ کون سی دنیا ہے، کون سا سیارہ ہے، جہاں چوالیس دنوں میں ایک سو چار میچ ہوئے  اڑتالیس ٹیمیں کھیلیں� [..]مزید پڑھیں

  • اردو کا مستقبل موسیقی سے وابستہ ہے

    پرانی بات ہے۔ کسی سرکاری میٹنگ میں نئے قانون کے حوالے سے زور شور سے بحث ہو رہی تھی، ہم بھی وہاں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے تو میں نے ازراہ تفنن اپنے باس سے کہا کہ یہ نیا قانون کچھ کچھ منٹو کے افسانے جیسا ہے، اِس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ اسِ پر موصوف نے نہایت سنجیدگی سے پوچ� [..]مزید پڑھیں

  • مزید کچھ فتاویٰ کی درخواست ہے

    کرپٹو کرنسی کے خلاف مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ پڑھا، دل باغ باغ ہو گیا۔ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ لب لباب فتوے کا یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی ’دولت‘ نہیں ہے بلکہ یہ محض کمپیوٹر پر لکھے چند حروف ہیں۔ لہذا اگر ان کے عوض کوئی چیز خریدی جاوے گی تو وہ آپ کی نہ ہووے گی، حرام ہوگی۔ م� [..]مزید پڑھیں