یاسر پیرزادہ

  • ظلم کی مذمت میں بھی دوہرا معیار؟

    پہلا واقعہ : کابل میں ’سید الشہدا‘ نام کا ایک اسکول ہے، زیادہ تر وہاں غریب بچے بچیاں پڑھتے ہیں جو اپنی فیس بھی بمشکل ادا کر پاتے ہیں۔ آج سے تین دن پہلے ہفتے کے روز اس اسکول کے باہر ایک گاڑی میں زور دار دھماکہ ہوا، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ بچے خوف کے عالم میں باہر نکل آئے جس کے [..]مزید پڑھیں

  • وحید الدین خاں جیسا کہاں سے لائیں

    کوئی انسان لگ بھگ ایک صدی کی عمر پائے اور یہ عمر وہ حق اور سچ کی تلاش میں گزار دے، اس سے بہتر زندگی بھلا کیا ہو سکتی ہے۔  کچھ ایسی ہی زندگی مولانا وحید الدین خاں نے گزاری۔ بقول غالب ’اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو، آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی۔‘ مولانا وحید الدین خاں کا سب سے بڑ [..]مزید پڑھیں

  • ایک درویش صفت عورت کی کہانی (2)

    اگر آپ آج فارغ ہیں تو اردو لغت نکالیں اور اس میں درویش، صوفی اور سالک کا مطلب تلاش کریں اور پھر اسے میری کیوری کی زندگی پر منطبق کر کے دیکھیں، ان الفاظ کے معنی خود بخود آشکار ہو جائیں گے۔ مادام کیوری وہ عورت تھی جو اگر چاہتی تو اپنی سائنسی دریافت کے ذریعے جائز طریقے سے کروڑوں ڈ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایک درویش صفت عورت کی کہانی

    میری کیوری وہ خاتون تھی جس نے نوبل انعام کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو الگ الگ شعبوں، کیمیا اور طبیعات، میں انعامات حاصل کیے۔ میری کیوری کے نام سے میں بچپن میں واقف ہوا تھا، شاید کوئی مضمون نظر سے گزرا تھا جس میں لکھا تھا کہ انہوں نے ’اتفاقاً‘ ریڈیم دریافت کیا تھا۔ اُن کا یہ [..]مزید پڑھیں

  • میری عینک، میرا ورلڈ ویو

    میں نو عمری کے زمانےمیں ایک انگریزی اخبار میں کام کیا کرتا تھا، وہ اخبار اُس گروپ کا تھا جو دائیں بازو کا نظریاتی اردو اخبار نکالتا تھا۔ سو ایک عمومی تاثر یہ تھا کہ انگریزی اخبار کی پالیسی بھی اردو اخبار جیسی ہوگی۔ تاہم حیرت انگیز طور پر یہ انگریزی اخبار اپنے اردو پیٹی بند بھ� [..]مزید پڑھیں

  • سوچ کے وائرس کی ویکسین

    پہلی مثال : ایک ڈاکٹر صاحب سے میری گفتگو ہوئی ، سانس کی بیماریوں اورانتہائی نگہداشت کے امور کے ماہر ہیں۔ آج کل اِن کے پاس کرونا کے مریضوں کا بہت رش ہوتا ہے ۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ نے ویکسین لگوا لی ہے ؟ کہنے لگے ’میں نے ویکسین نہیں لگوائی ، میں روسی ویکسین سپو [..]مزید پڑھیں

  • کیا پنجابی واقعی مزاحمت نہیں کرتے؟

    میرا دوست ’الف ‘آج کل کچھ تشکیک کا شکار ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک جب اُس سے بات ہوتی تھی تو وہ اپنے خیالات کا اظہار قطعیت کے ساتھ کرتا تھا، اُس کی رائے دو ٹوک ہوتی تھی اور وہ پاکستانی تاریخ کے حوالے سے کسی قسم کے ابہام کا شکار نہیں لگتا تھا۔  شہاب الدین غوری اور محمود غزنوی ا� [..]مزید پڑھیں

  • ویکسین کی دوڑ میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟

    دنیا میں ویکسین بنانے والی سب سے بڑی کمپنی کا نام ’سیرم انسٹیٹیوٹ پرائیویٹ لمیٹڈ‘ ہے، یہ بائیو ٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل کمپنی ہے جو 1966 میں نجی طور پر قائم کی گئی تھی اور یہ بھارت کے شہر پونا میں واقع ہے۔ یہ کمپنی ایک باپ اور بیٹے کی ملکیت ہے اور اس کمپنی میں آکسفورڈ کی [..]مزید پڑھیں