مرتضیٰ سولنگی

  • یہ اتفاق کی گھڑی ہے انتشار کی نہیں

    پچھلے ہفتے ہم نے سائڈ شوز کے خطرات اور نقصانات کا ذکر کیا تھا۔ اس ہفتے ان سائڈ شوز کی بہتات ہوگئی ہے۔ یہ خطرناک بات ہے۔ اس وقت جب پاکستان سمیت ساری دنیا زندگی اور موت کی لڑائی میں مصروف ہے تمام ہاتھ سٹیئرنگ وہیل پر ہونے چاہییں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ اپنی توانائیوں کو منتشر کرنے [..]مزید پڑھیں

  • ہمت کرو اور آگے بڑھو

    ہمارے بدترین خدشات کے عین مطابق آج پاکستان کورونا کی زد میں ہے۔ ملک کا کوئی حصہ اب اس سے محفوظ نہیں۔ تفتان، رائیونڈ کا تبلیغی اجتماع، خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ سے بغیر سکریننگ، ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کے آئے ہوئے ہزاروں افراد اب اس ملک میں مقامی طور پر کورونا پھیلانے کا موجب � [..]مزید پڑھیں

  • عمران سرکار قبل از کرونا کیفیت سے باہر نکلے

    دوسری عراق جنگ کے دوران اُس وقت کے امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا تھا کہ جنگ آپ اس فوج سے لڑتے ہیں جو آج آپ کے پاس ہے، اس فوج سے نہیں جو آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس ہو۔ انسانیت آج کورونا وائرس سے اپنے وجود کی جنگ بھی اُس فوج کے ساتھ لڑ رہی ہے جو اس کے پاس آج موجود ہے۔ ان ہتھیا� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تفتان اور ڈیرہ غازی خان کے بعد اب کیا کرنا ہے؟

    بری خبر اس وقت تفتان اور ڈیرہ غازی خان سے پیدا شدہ صورت حال ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ہمارے ہوائی اڈوں کی صورت حال بھی اس صورت حال کی ذمہ دار ہے۔ پچھلے تین مہینوں سے عمران سرکار نے کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال کا جیسے سامنا کیا ہے اسے دیکھ کر انسان کانپ جاتا ہے۔ یہ بے حسی اور غی� [..]مزید پڑھیں

  • افغانستان میں امڈتے طوفان، کیا ہم تیار ہیں؟

    ایک ہفتہ قبل امریکہ اور افغان طالبان نے قطر میں ایک معاہدے پر دستخط کیے، جسے ایک تاریخی امن معاہدہ کہا جا رہا ہے۔ ایک ہفتے کے اندر ہی اس معاہدے کی پرتیں کھلنا شروع ہو گئی ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس معاہدے کا حشر جنوری 1973 کے امریکہ ۔ شمالی ویت نام معاہدے والا ہو گا یا اپریل 1988 [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان اور امڈتے طوفان

    آج دوحہ میں افغان طالبان اور امریکہ 17 ماہ مذاکرات کے بعد ایک معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں جسے امن معاہدے کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے سے توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں کہ ساڑھے 18 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوگا۔ پچھلے 17 ماہ میں کئی بار یہ مذاکرات معطل، موخر اور منسوخ ہوئے۔ آخری ب [..]مزید پڑھیں

  • حکومتی حلقوں میں بےچینی بڑھ کیوں رہی ہے؟

    بعد از توسیع قانون سازی کی گرد ابھی نہیں بیٹھی۔ پورے سیاسی نظام پر پس لرزہ اثرات نہ صرف موجود ہیں بلکہ مستقبل کے سیاسی نقشے کی تشکیل پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں حکومتی نظرثانی درخواست ابھی تک نمٹائی نہیں گئی اور کچھ متفرق درخواستیں ابھی بھی موجود ہیں لیکن اکثر [..]مزید پڑھیں